آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خوش رہنا بھی ہے آرٹ

 نجم الحسن عطاء

کسی دانش مند نے درست ہی کہا کہ انسان سماجی جاندار ہے اور انسان ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ خوش رہ کر زندگی گزارنا بھی فن ہے۔ مجموعی طور پر خوشیوں کی تعریف تعلقات کے درمیان مشکل کام ہے کیونکہ اجتماعی خوشیاں اس کی منصفانہ تقسیم پر انحصار کرتی ہیں پھریہ بھی دیکھئے کہ ہر انسانی تعلق دوسرے تعلق سے مختلف نوعیت کا ہوتا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ ہر تعلقات کے اندرہی ہر شخص خوشیوں کو (ڈیفائن) تعریف بھی کرسکتا ہے اور خوش رہنے کا سلیقہ بھی اختیار کرسکتا ہے بعض انسانی تعلقات کو پرامن اختلاف بھی کہتے ہیں لیکن انسانی تعلقات میں خوشیوں کا دھنک رنگ محبت کی نوبہار ہی سے بھر سکتا ہے۔

 کچھ لوگوں کے لئے خوشیوں کے ساتھ جینے کے معنی ہیں کہ بہت زیادہ تفریحی کا سامان میسر ہو، اچھے ریستوران میں بیٹھ کر خوش گپیاں لگائی جائیں، کچھ دوست عورت یا مرد مل بیٹھ کر دل کے غموں کو ہلکا کرلیتے ہیں چھوٹی باتوں پر ناراض ہوجانا تعلقات میں بگاڑ کا ذریعہ بنتا ہے۔ بہت سے لوگ انسیت جسے انگریزی میں (INTIMACY) کہتے ہیں ۔

چھوٹی چھوٹی خوشیاں منائیں

دنیا بھر میں انسانوں کی خوشیاں سانجھی ہوتی ہیں کچھ قہقہے لگا کر خوشی کا اظہارکرتے ہیں۔ لیکن انسان تنہا نہیں ہونا چاہتا انسانی تعلقات میں محبت، انسان دوستی کا عنصر نمایاں ہوتو انسان غموں کو بھول جاتا ہے گھر میں خوش گوار زندگی گزارنے کا طریقہ بھی یہی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کیا جائے اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بڑی خوشیوں میں تبدیل کردیا جائے تو انسان کے اندرمثبت سوچ پیدا ہوتی ہے جس سے اس کی صحت پر صحت مند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ 

گائوں میں پہلے پہل لڑکیاں ایک جگہ اکٹھی ہوکر مختلف کھیل کھیلتی تھیں، پینگ جھولتی تھی، چھپن چھپائی کا کھیل، وغیرہ احمد راہی پنجابی اور اردو کے شاعر کا پہلا پنجابی مجموعی ترتجن جب منظر پر آیا تو اس میں یہ بتایا گیا کہ گائوں کی خواتین، دوست سہیلیاں کس طرح ایک جگہ اکٹھی ہوکر موج مستی کرتی تھیں اور زندگی خوشیاں ایک دوسرے سے بانٹتیں تھیں جہاں وہ اپنے انسانی تعلقات میں خوشیوں کا دھنک رنگ بھرتی تھیں اس جگہ کو ترتجن کہتے ہیں۔

 اسی طرح مرد اپنے مغموم دل کی اداسیاں ہلکا کرنے اور خوشیوں سے لبریز ہونے کے لئے چوپال میں اکٹھے ہوتے ہیں شہر اور دیہات میں مختلف تہواروں اور شادیوں پر لوگ خوب شاداں ہوتے ہیں اور انسانی رشتے پیار محبت میں بندھ جاتے ہیں۔

وقت ضائع نہ کریں

یہ سمجھنا ضروری ہے زندگی ایک پل کی ہے اسے گنوانا ٹھیک نہیں۔ اس کا ہر لمحہ انجوائے کرنا صرف اسی وقت عمل لایا جاسکتا ہے جب قریبی رشتہ دار اور دوست مل کر انجوائے کریں اور ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے ملنے کے بہانے نکال لیتے ہیں اور پھر بچوں کا ان انسانی خوشیوں میں شامل ہوجانا زندہ رہنے کی نئی امنگ پیدا کرتا ہے۔ اب بوچھنے والے کہتے ہیں کہ خوشی ہے کیا؟ 

اکثر کا یہ کہنا ہے کہ یہ انسانی خواہشوں کا پورا ہونا ہے لیکن ہر شخص کی خواہش دوسرے سے جدا ہوتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میرا ملک ترقی کرے میرا ادارہ تازہ افق چھوئے اور کچھ خواہش کو اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں لیکن فطرت کا کہنا ہے کہ جب انسان دوسرے کو خوش دیکھ کر خوش ہوتو وہ ساری عمر خوش رہ سکتا ہے اور یہ بات تو ہمارا مذہب بھی کہتا ہے کچھ لوگ اپنی تحریروں کی پذیرائی ہوتو خوش ہوتا ہے، کچھ لوگ شہرت سے خوش ہوتے ہیں، کچھ لوگ دوسروں کے کام آتے ہیں اور کہتے ہیں اس سے میں اپنے خالق کو خوش رکھتا ہوں اس سے میرے اندر خوشی پیدا ہوتی ہے۔ خوشی حاصل کرنے کے کئی طریقے ہیں۔

 تعلقات انسانی میں خوش رہنے کے لئے کامیاب اور مضبوط تعلقات کو استوار رکھنا ضروری ہے اس میں بھی یہ رائے دی جاتی ہے کہ آپ دوسروں کی عزت کریں تو آپ کی عزت میں اضافہ ہوگا اور اس سے تعلقات خوش گوار ہوتے ہیں لیکن عزت کے معنی ہیں کسی کا خیال رکھنا ہے صرف عزت سے پیش آنا نہیں جب آپ کسی کا خیال رکھیں گے تو آپ کے دل میں خوشی جھوم اٹھے گی اور دوسرا شخص خاتون یا مرد وہ سوچے گا میری بھی کوئی کیئر کرتا ہے تو اسے ابدی خوشی محسوس ہوتی ہے۔

شریک حیات کو خوش رکھیں

اس سے آپ کی زندگی کا ساتھی سرفہرست ہے کیونکہ آپ اس کے احساسات اور ضرورتوں کو سمجھتے ہیں زیادہ توقعات بھی اچھی نہیں ہوتیں لیکن عزت کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے کو سہولت اور آرام فراہم کریں کسی کے بارے میں اچھا سوچنا بھی خوشی ہے۔ تعلقات مساویہ رویہ خوشیوں کا اہم ذریعہ ہے۔

 تعلقات میں جب کبھی کوئی اکیلا محسوس کرتا ہے لیکن اگر وہ سوچتا ہے یا سوچتی ہے کہ اس کی پشت پر اس کے دوست اس کے چاہنے والے ہیں تو وہ فرحت محسوس کرتا ہے۔ انسانی تعلقات اس وقت اپنے عروج پر ہوتے ہیں اور کامیاب بھی ہوتے ہیں جب ہر دوست ہر پارٹنر ہر رشتہ دار ایک دوسرے کی مشکل وقت میں مددگار ہو۔

 ایسی خوشیاں کسی دکان پر فروخت نہیں ہوتیں انسان خود معاشرتی اور گھریلو زندگی میں اپنی دانش مندی سے پیدا کرتا ہے اسی کو لوگ ذہانت بھی کہتے ہیں اگر کسی دوست کا آپ نے سنا کہ اس نے آپ کے بارے میں کوئی اچھی بات نہیں کی یہ ضروری ہے کہ آپ یہ بات سب کے سامنے نہ پوچھیں الگ ہوکر پوچھیں تو غلط فہمی دور ہوسکتی ہے۔ جن کو خوش رہنا نہیں آتا وہ دوسروں کو بھی خوش نہیں دیکھ سکتے۔ آپ کے دوست، مرد یا عورت ہو، کوئی لڑکی ہو یا لڑکا ہو دوستی کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے کوالٹی ٹائم نکالیں اسے نظرانداز نہ کریں اس سے تعلقات میں خوشی اور مسرت لپک کر آتی ہے اور محسوس کی جاتی ہے۔

تعلقات میں توازن رکھیں

تعلقات میں توازن رکھنا بھی فن ہے مضبوط رشتوں والا شادی شدہ جوڑا خوب جانتا ہے کب کسی ایشو پر بات کی جائے اور کب تک اسے ملتوی رکھا جائے ایسا کرنا بھی خوش گوار زندگی میں دھنک رنگ بھرتا ہے۔ بچوں کے لڑائی جھگڑوں کے نتیجے میں گھرکی مجموعی خوشحالی کو خراب نہ کیا جائے۔ محبت اور شفقت کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب آپ سخت سے سخت وقت میں نرم لہجے میں گفتگو کریں خوشیوں کو کامیاب کرنا ہے تو دوسرے کے احساسات کو بھی محسوس کرنا اشد ضروری ہے۔

 اگر آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے تعلقات میں کوئی شخص آپ کے روح کے زخموں کو مندمل نہیں ہونے دیتا اور تبدیل نہیں ہوتا تو اس کے مثبت پہلوئوں کو دیکھنا چاہئے۔ منفی رویوں کو نظرانداز کرنا ہی آپ کے لئے خوشی کا باعث ہوگا۔ خواتین جو پہلے گھروں میں بند رہتی تھیں اب شہروں میں بہترین ملازمتوں پر ہیں، میڈیا کے دروازے کھلے ہیں۔

 کارپوریٹ میں اچھے ماحول میں ملازمتیں خواتین کو مل رہی ہیں جو اپنے گھروں کی کفالت کرتی ہیں اور اپنے زندگی کے ساتھی کے مددگار ہوتی ہیں تو اس سے بھی خوش گوار زندگی بسر کرنے میں مدد ملتی ہے پھر صوفی کہتے ہیں خوشی انسان کے اندر سے جنم لیتی ہے جب کوئی اپنے اندر کی نفرتوں اور تعصبات کو دور کرتا ہے اور دوسرے کی خوشی اپنی خوشی سمجھتا ہے اس خوشی سے زندگی بسر کرنا بھی ایک آرٹ ہے کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں حاصل ہوتی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں