آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ11؍ربیع الثانی 1440ھ 19؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
10 سال کا ٹیکس ریکارڈ طلب، ایگزیکٹ کا چینل بغیر اشتہارات کیسے چلتا ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد(رپورٹ:رانا مسعود حسین ) عدالت عظمیٰ نے جعلی ڈگریاں فروخت کرنے کے جرم میں کراچی کی ایک حوالات میں بند،حوالاتی و بول ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے سی ای او ملزم شعیب شیخ اور اس کی کمپنی کے ذرائع آمدن اور بول میڈیا ہائوس کو لمبے عرصہ سے بغیر اشتہارات چلانے اور جعلی ڈگریوں کاروبار کے حوالے سے متعلق از خود نوٹس مقدمہ کی سماعت کے دوران ایف بی آر کو پچھلے دس سال کے ٹیکس ریکارڈ کی روشنی میں آڈٹ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں پاکستان کی عزت مقدم ہے، باقی سب چیزیں ثانوی ہیں، بول ٹیلی ویژن چینل اشتہارات بھی نہیں چلاتا تو ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ اس کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے ہیں؟جب بھی ہم کسی سے کچھ پوچھیں تو پوری میڈیا انڈسٹری ہی سٹیک (دائو )پر لگ جاتی ہے، پتہ نہیں یہ کون سا اسٹیک ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کے نام کی ساکھ متاثر نہیں ہونے دیں گے، ڈی جی ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ملزمان کے

چند غیر ملکی کمپنیوں میں بھی شیئرز ہیں۔ عدالت نے ایگزیکٹ اور بول کے ارکان کو متنبہ کیا کہ اگر آئندہ انہوں نے سماعت کے دوران مداخلت کی تو انہیں عدالت کی عمارت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ چیف جسٹس نے اس وقت متنبہ کیا جب بول سے منسلک بعض صحافیوں نے کھڑے ہوکر عدالت سے مخاطب ہونے کی کوشش کی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز لااحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کے روز ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوںسے متعلق کیس کی سماعت کی تو درخواست گزارپاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن(پی بی اے ) کے وکیل جام آصف نے پی بی اے کو بھی اس کیس میں فریق بننے کی اجازت دینے سے متعلق دائر کی گئی متفرق درخواست پر دلائل پیش کئے ،چیف جسٹس نے فاضل وکیل سے استفسار کیا کہ اس میں آپ کا کیا مفاد ہے؟ تو انہوںنے کہا کہ پی بی اے ملک بھر کے الیکٹرانک میڈیا کی نمائندہ تنظیم ہے ، ہماری تشویش ہے کہ بول اس چینل کو چلانے کیلئے مختلف جرائم سے کمایا گیا پیسہ استعمال کیا جارہاہے، ا نہوںنے کہا کہ ایگزیکٹ کمپنی کے کل اثاثے 7ملین روپے کے ہیں جبکہ وہ ہر ماہ اپنے ملازمین کو کئی ملین روپے ادا کررہی ہے ،انہوںنے ہر میڈیا گروپ سے بھاری معاوضوں پر صحافیوں کی خدمات لے رکھی ہیں جو بظاہر ان اثاثوں میں ناممکن نظر آتا ہے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایف بی آر سے معلوم کرلیتے ہیں کہ یہ اتنے بڑے سیٹ اپ کو کیسے چلا رہے ہیں؟ فاضل وکیل نے کہا کہ اس نیٹ ورک کی وجہ سے پوری میڈیا انڈسٹری دائو پر لگی ہے ،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پوری میڈیا انڈسٹری کل بھی دائو پر تھی ، کل ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا تھا،میڈیا انڈسٹری دائو پرہے، جب بھی ہم کسی سے کچھ پوچھیں تو پوری میڈیا انڈسٹری ہی دائوپر لگ جاتی ہے، پتہ نہیں یہ کون سا اسٹیک ہے؟ کہیں یہ چکن اسٹیک تو نہیں ؟ جس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ بلند ہوا ،فاضل وکیل نے کہا کہ یہ سارا منی لانڈرنگ کا پیسہ ہے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا کوئی لوکس سٹینڈآئی نہیں ، آپ متاثرہ پارٹی نہیں ، جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ کہ یہ سارا دھندہ جعلی ڈگریوں کی فروخت کے ذریعے ہوتا ہے ، پی بی اےکو بھی کیس میں فریق بننے کی اجازت دی جائے تاہم عدالت نے پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی فریق بننے کی درخواست خارج کردی، چیف جسٹس نے بول اور ایگزیکٹ کے وکیل شہاب سرکی سے بول ٹیلی ویژن کے متاثرہ ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی سے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے کوئی پیسے ہمارے ذمہ بنتے ہی نہیں، جس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ آپ رقم عدالت میں جمع کروادیں ،پھر دیکھ لیں گے ،اسی اثناء میں متاثرہ ملازمین کے نمائندہ اور معروف صحافی جاوید اقبال روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ بول ٹیلی ویژن کے 3سو سے زائد افراد کے بقایا جات رہتے ہیں ،ایگزیکٹ کے وکیل شہاب سرکی نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے ، جاوید اقبال نے کہا کہ ہمارا کروڑو روپے کا دعویٰ ہے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک ہمیں ٹوٹل رقم کا درست طور پرپتہ نہیں چلے گا تو ہم آپ کوکیسے ریلیف دیں گے؟ آپ لوگوں نے اس سے پہلے کسی عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا؟ تو جاوید اقبال نے کہا کہ ہم نے بول انتظامیہ پر اعتماد کیا تھا ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر بول انتظامیہ نے آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے تو اب آپ کے سامنے فورم کون سا ہوگا؟ جس پر جاوید اقبال نے کہا کہ ہم مائی لارڈ کے پاس حصول انصاف کیلئے آئے ہیں، جس پر فاضل چیف جسٹس نے ازراہ تفنن کہا کہ مائی لارڈ اب آپ کیلئے کیا کرسکتے ہیں؟ جس پر قہقہہ بلند ہوا ، چیف جسٹس نے متاثرہ ملازمین کے وکیل فیصل مفتی کو کہا کہ ہمیں ہمارے آفس نے بتایا ہے کہ چینل ملازمین کی تنخواہوں کا مقدمہ سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوا ہے ،جب مقدمہ سماعت کیلئے مقرر ہو جائے توآپ تیاری کرکے آئیے گا ، انہوںنے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے نے جعلی ڈگری سے متعلق کوئی تحریری جواب داخل کرایا ہے؟ تو انہوںنے بتایا کہ جواب داخل کرادیا ہے، شہاب سرکی نے بتایا کہ کراچی میں ایگزیکٹ کیخلاف زیر سماعت مقدمے میں 18 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ فوجداری مقدمات کو ہم از خود نوٹس کیس سے الگ کررہے ہیں ،پتہ چلنا چاہیے کہ بول کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے، ممبر ایف بی آر کو بلاکرآڈٹ کروانے کا حکم جاری کرتے ہیں ،سارا سچ اور جھوٹ سامنے آجائے گا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاکستان کے نام کی ساکھ متاثر نہیں ہونے دیں گے،ڈی جی ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق ملزمان کے چند غیر ملکی کمپنیوں میں بھی شیئرز ہیں ؟چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہا کہ آپ ریکارڈ دیکھ لیں ہم کسی کو معاونت کیلئے امائیکس مقرر کردیں گے ، انہوں نے واضح کیا کہ از خود نوٹس لینے کا مطلب یہ تھا کہ جعلی ڈگریوں کی فروخت کے الزامات کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے، یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ ٹی وی چینل اشتہارات بھی نہیں لے رہا ؟ توکہاں سے یہ سلسلہ چل رہاہے؟جس پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ پیسے تو ان کے پاس بہت ہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کہاں سے آتے ہیں؟ جس پر ڈی جی نے کہا کہ ہم اس کا آڈٹ نہیں کروا سکتے ،جس پر چیف جسٹس نے وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ ممبر ایف بی آر کو بلوالیتے ہیں ،ان سے معلوم کرتے ہیں کہ بول انتظامیہ کے پاس اربوں روپے کہاںسے آتے ہیں؟اگر یہ رقم غلط طریقے سے نہیں آرہی تو ان کا چہرہ صاف ہونا چاہیئے ،دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو ممبر ایف بی آر پیش ہوئے ، چیف جسٹس نے شہاب سرکی سے استفسار کیا کہ آپ کے موکل کی کل کتنی کمپنیاں ہیں تو انہوںنے بتایا کہ دو کمپنیاں ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے ممبر ایف بی آر کو آئندہ سماعت پر ان دونوں کمپنیوں کے پچھلے دس سال کا ٹیکس کا ریکارڈ اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ،جسٹس اعجاز الاحسن نے شہاب سرکی سے استفسار کیا کہ یہ سب سیلف فنانس سے چل رہا ہے؟ تو انہوںنے اثبات میں سر ہلایا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیلف فنانس سے اتنا عرصہ کام نہیں چلایا جا سکتا،بول چینل کے سینئر صحافی نذیر لغاری نے کہا کہ ہمارے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے ،یہاں اور بات ہوتی ہے او ر کچھ اورنشر کردیا جاتا ہے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے، نذیر لغاری نے کہا کہ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کیا جائے گا ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کا ادارہ قانون کے اندر رہ کر چلایا جا رہا ہے تو ہم آپ کو کلین چٹ دینا چاہتے ہیں ،آ پ کو تو خوش ہونا چاہئے ،جس پر انہوںنے کہا کہ صرف بول ہی نہیں بلکہ تما م میڈیا ہائوسز کے فنڈز کا حساب ہونا چاہئے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ضرورت پڑی تو وہ بھی کرلیں گے لیکن ان پر اس طرح کا کوئی الزام نہیں ، شہاب سرکی نے کہا کہ شعیب شیخ جیل میں بند ہیں ، آپ کی ہدایات کی وجہ سے ماتحت عدالتیں دبائو میں ہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے نہ کہیں، میرا کوئی حکم ہائیکورٹ کو متاثر نہیںکرسکتا ، فاضل وکیل نے جب دوبارہ شعیب شیخ کا نام لیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ یقین مانیں کہ انصاف کی فراہی کے عمل کے دوران مجھے کوئی چہرے نظر نہیں آتے ،اگر اس نے کچھ برا کیا ہے تو بھگت لے گا ،اور اگر نہیں ہے تو بے گناہ ہوجائے گا ،جسٹس عمر عطا بندیال نے شہاب سرکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیخلاف ڈی جی ایف آ ئی اے نے سخت الزامات عائد کئے ہیں، جن میں آپ کی غیر ملکی کمپنیوں کا بھی ذکر ہے ، آپ اپنی پوزیشن کلیئر ہونے دیں ، ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ انہوںنے ایگزیکٹ اور لبیک کے ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے، انہوںنے سال 2008,09,10کے ریٹرن تو جمع کروائے ہیں ،لیکن اس کے بعد سے آج تک نہیں جمع کروائے ہیں ،جس پر شہاب سرکی نے بتایا کہ ہم نے کمپنی کا نام تبدیل کر کے بول انٹر پرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ رکھ دیا ہے ،بعد ازاں عدالت نےدونوں کمپنیوں کے پچھلے دس سال کے ٹیکس ریکارڈ کی روشنی میںآڈٹ کرانیکا حکم جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں