آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے ایک بہت قریبی عزیز ہیں جو ہر طرح کا صدقہ خیرات ایدھی فاؤنڈیشن کو بھیجتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ پورے خاندان والوں کو ایدھی فاؤنڈیشن کی مدد کرنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ پاکستانی معاشرے میں صرف ایدھی جیسے لوگ کوئی مثبت کام کر رہے ہیں۔ میں انکے جذبے کی بہت قدر کرتا ہوں اور کبھی بھی ان کے ایدھی کیلئے جوش جذبے میں رخنہ اندازی نہیں کرتا۔ میں خود بھی ایدھی کے صدقہ جاریہ کا معترف ہوں اور سمجھتا ہوں کہ پاکستان جیسے بیمار معاشرے میں ایدھی جیسے عظیم لوگوں کا ابھر کر سامنے آنا ایک غنیمت ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایدھی جیسی ہستیوں کی معاشرے کو ضرورت کیوں ہے اور اگر ایدھی جیسے اور بہت سے لوگ پیدا ہو جائیں تو کیا معاشرہ جنت و گلزار بن جائے گا؟
اگر غور کریں تو ایدھی والے لاوارثوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں، بے یارومددگار چھوڑے ہوئے بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اور مذہب سے بالا ہو کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آخر لاشیں کیسے گرتی ہیں اور کیسے لاوارث ہو جاتی ہیں، لوگ اپنے بچوں کو کیوں ایدھی کے دروازے پر چھوڑ جاتے ہیں؟ آخر ناروے یا سویڈن میں ایسا کیوں نہیں ہے اور وہاں کیوں ایدھی کے فرائض حکومتی تنظیمیں ادا کرتی ہیں۔ آخر وہاں ایدھی کی کیوں ضرورت نہیں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ

ہے کہ پاکستانی معاشرہ بیمار ہے جس میں ایدھی جیسے وسیع القلب لوگوں کی ضرورت ہے ۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اس بیمار معاشرے میں بے نام لاشیں گرنے میں کمی نہیں آرہی اور لاوارث بچوں کی تعداد گھٹنے کا نام نہیں لیتی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو محرکات معاشرے کو بیمار کر رہے ہیں ان کا کوئی معالج نہیں ہے۔ نظام کو سیدھے راستے پر لانے کا تصور معدوم ہو چکا ہے اور اب ایدھی جیسے مخلص لوگ بھی بیماروں کی مرہم پٹی کرنے تک محدود ہیں۔پچھلی صدی کی ستر کی دہائی تک یہ تصور مقبول تھا کہ مختلف معاشرتی بیماریوں کا علاج نظام کی تبدیلی میں ہے۔ اگر ایک طرف بائیں بازو کے سوشلسٹ خیالات رکھنے والے دولت کی مساویانہ تقسیم سے معاشرے کو صحت مند بنانا چاہتے تھے تو دوسری طرف مذہبی نظام کے پیروکار اپنے طریقے سے پراگندہ ماحول کی تطہیر چاہتے تھے۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ نظام کی تبدیلی کے دعویدار منتشر ہونے لگے اور ذاتی فلاح کا تصور غالب آنے لگا۔ ترقی پسند اور روشن خیال تنظیمیں قصہ پارینہ ہو گئیں۔ اس میں رہی سہی کسر روس اور چین کے نظاموں کے خاتمے نے پوری کردی۔ ہر سو سرمایہ داری نظام کا بول بالا ہونے لگا اور اسے انسانی فلاح کے لئے بہترین نظام قرار دیا جانے لگا۔ پاکستان کا بھی قدیم زرعی معاشرہ نئے تجارتی اور مشینی نظام میں ڈھلنے لگا اور فرد کی ایک نئی شناخت بننا شروع ہوئی۔ پاکستان میں نئی بنیادی تبدیلیوں کے نتیجے میں طوائف الملوکی کی سی صورت حال پیدا ہو گئی جس میں ریاست نے اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اس افراتفری کی صورتحال میں این جی اوز نے اپنی محدود کوششوں سے سدھار پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ پورے نظام میں پیدا ہونیوالی بیماریوں کا علاج نہیں کر سکتی تھیں۔ ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھیں تو جب یورپ میں سرمایہ داری نظام قائم ہو رہا تھا تو وہاں پاکستان جیسی صورتحال تھی۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کارل مارکس اور دوسرے بہت سے مغربی فلسفیوں نے یہ پیش گوئی کی تھی اتنا غیر منصفانہ نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ علامہ محمد اقبال نے بھی اسی ماحول میں یہ کہا تھا:
گیا دور سرمایہ داری گیا
تماشہ دکھا کر مداری گیا
لیکن سرمایہ داری نظام جاری و ساری رہا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ سرمایہ دار معاشروں میں فلاحی نظام متعارف ہوتے چلے گئے۔ مغربی یورپ کے ترقی یافتہ معاشروں میں انسانوں کی صحت، تعلیم اور دوسری بنیادی ضروریات کی ریاستوں نے بنیادی ذمہ داری قبول کرنا شروع کردی۔ امریکہ اس پہلو سے بہت پیچھے رہ گیا لیکن وہاں بھی ہائی اسکول تک مفت تعلیم ، بڑی عمر کے لوگوں کیلئے صحت اور دوسری کچھ سہولتوں کے نظام قائم ہو گئے۔ امریکہ اس سلسلے میں اب بھی بہت پس ماندہ ہے اور یہی وجہ ہے مغربی یورپ، بالخصوص ناروے اور سویڈن جیسے ملکوں سے لوگ امریکہ کی طرف ہجرت نہیں کرتے۔ اب امریکہ میں بھی فلاحی نظام کو توسیع دینے کیلئے جدو جہد روز بروز بڑھ رہی ہے۔
پاکستان میں بھی عمومی سطح پر جاگیرداری کی جگہ سرمایہ داری نظام نے لے لی ہے۔ اس تبدیلی میں بہت سی مثبت تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں اور معاشرے میں خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک ریاست اور اس کے ادارے ویسے ہی چل رہے ہیں جیسے پہلے دور میں تھے۔ نئی معیشت میں کامیاب افراد نے نجی شعبوں کے ذریعے نئی سہولتیں حاصل کرنا شروع کردی ہیں۔ لیکن عوام کی اکثریت اس نئی صورت حال سے نبرد آزما نہیں ہو پا رہی۔ تاریخی طور پر اس کا وہی حل ہے جو ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے اپنایا: یعنی عوام کی بنیادی ضرورتوں کی ذمہ داری ریاست پر ہو۔ آپ تعلیم کے شعبے کو ہی لیجئے: مخیر حضرات جتنے مرضی اسکول کھول لیں عوام میں خواندگی کی شرح نہیں بڑھ سکتی۔ اس کیلئے ضرورت ہے کہ ریاست پورے ملک میں ایک حد تک معیاری اور مساوی تعلیم کا مفت بندوبست کرے۔ اسی طرح صحت اور دوسری بنیادی سہولتیں ہیں جو کہ ریاست کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔ گویا کہ پاکستانی معاشرے میں فلاحی ریاست قائم کرنے کیلئے انقلاب کی ضرورت ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں بیمار معاشرے کے لاوارثوں کی ایک حد تک لاشیں اٹھا سکتی ہیں :وہ لاوارث لاشیں پیدا کرنے والے نظام کو ختم نہیں کر سکتیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں