آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

س: سر میں ایم بی اے فنانس اور ہیومین ریسورس مینجمنٹ میں کر رہا ہوں ، میری آپ سے گزارش ہے کہ مجھے بتائیں کہ یہ اسپیشلائزیشن میرے روز گار میں میرے لئے مددگار ثابت ہو گی۔ یا مجھے کسی اور اسپیشلائزیشن کا انتخاب کرنا چاہئے، آپ کی رائے میرے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے، براہ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔ (محمد راشد)
ج: ایم۔ بی ۔ اے ، بذات خود ایک اسپیشلائزیشن ہے، اور اس میں کی گئی اسپیشلائزیشن کسی کورس کی گہرائی کی نمائندگی نہیں کرتی، میرا یہ مشورہ ہے کہ آپ ایم بی اے کے دوران اکنامکس اور فنانس پر زیادہ توجہ دیں۔
س: سر میرا بیٹا کامسیٹ لا ہور میں بی ایس آنر فزکس میں زیر تعلیم ہے، اب تک کا اس کا سی جی پی اے 2.5 ہے، میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے بتائیں کہ بی ایس آنر فزکس کرنے کے بعد مزید تعلیم یعنی ایم ایس یا ایم فل کرنے کے لئے پاکستان کی کون سی یونیورسٹی کا انتخاب کیا جائے۔ (خالد انور۔لاہور)
ج: میرا یہ مشورہ ہے کہ آپ کا بیٹا کامسیٹ سے اپنی انڈر گریجویٹ ڈگری مکمل کرنے کے بعد فزکس میں ہی ایم فل یا پی ایچ ڈی کرے،اور اس کے لئے Nust ، U.E.T، قائد اعظم ، پنجاب یونیورسٹی میں سے کسی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
س: مجھے اپنے بھائی کے انجینئرنگ میں داخلے کے حوالے سے آپ کی رہنمائی چاہئے، براہ کرم مجھے بتائیں کہ رنیوایبل

انرجی ، یا الیکڑانکس انجینئر نگ میں سے کس مضمون کا انتخاب کرے؟ (ظفر علی۔ساہیوال)
ج: میرا یہ مشورہ ہے کہ آپ کا بھائی الیکٹرانکس یا کمیونیکیشن انجینئرنگ کا انتخاب کرے،یا صرف الیکٹرانکس انجنیئرنگ بھی اس کے لئے فائدہ مند ثابت ہو گی۔ان دونوں اسپیشلائزیشن کی اندرون اور بیرون ملک برابر مانگ پائی جاتی ہے۔
س: محترم عابدی صاحب ، میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوں، اور ان دنوں سعودی عرب میں قیام پزیر ہوں، میرا بیٹا ان دنوں لاہور کے ایک مشہور ا سکول سے او لیول کر رہا ہے، اگلے سال وہ اپنے اے لیول میں ہو گا، میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنا بیچلر(انڈر گریجویٹ) اسپیس ٹیکنالوجی میں کرے ، آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے بتائیں کہ بیرون ممالک کون سی ایسی یونیورسٹیاں ہیں جو اسپیس ٹیکنالوجی کے مضامین پڑھاتی ہیں اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آنے والے دس سالوں میں اسپیس ٹیکنالوجی کا کیا اسکوپ ہو گا؟ ( خلیل رحمان۔سعووی عرب)
ج: اگر آپ کے بیٹے کی دلچسپی اسپیس ٹیکنالوجی یعنی خلائی ٹیکنالوجی کی طرف جانے کی ہے تو اسے بہت محنت کرنا ہو گی، وہ کوشش کرے کہ اے لیول میںفزکس ، میتھ، اور کیمسٹری کے مضامین میں اے گریڈحاصل کرے، اسپیس ٹیکنالوجی ایک آسان مضمون نہیں ہے اور خاص طور پر بین الا قوامی مقابلے میںپاکستانی طالبعلموں کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے، تا ہم میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ اپنا اے لیول مکمل کرنے کے بعد مجھ سے رابطہ کرے۔
س۔2017میں ایم ایس سی (آنرز)ڈیولپمنٹ اکنامکس میں کرنے کے بعد بھی میں ایک اچھی ملازمت حاصل کرنے سے قاصر ہوں،میری آپ سے گزارش ہے کہ مجھے بتائیںکہ مجھے پی ایچ ڈی اکنامکس میں کرنی چاہئے یا مجھے کمپیوٹر کی فیلڈ کا انتخاب کرنا چاہئے۔آپ کی رہنمائی میرے لئے بہت مددگارثابت ہو گی، میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔ (شاہد حنیف۔مظفر گڑھ)
ج۔میرا یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنی فیلڈ سے متعلقہ انٹرنشپ تلاش کرنے کی کوشش کریں،کبھی کبھی انٹرنشپ آپ کی بہت مدد کرتی ہے اور رابطے بنانے اور آپ کو ایک آرگنائیزیشن میں کام کرنے کے ماحول کو جاننے میں مدد ملے گی اور یقینا انٹرنشپس تجربہ حاصل کرنے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہے۔انٹرنشپ پاکستان اور بیرون ممالک میں موجود ہیں اور اس کے لئے آپ کو باقاعدگی سے انٹرنیٹ پر سرچ کرنا پڑے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں