آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس پاکستان، جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب حکومت کی کارکردگی کو بدترین قرار دیا اور کہاہے کہ پنجاب حکومت کی تعریف نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ کو لے آئیں بتائیں کیا کچھ ہورہا ہے۔ کام چودہ آنے کا نہیں کرتے اور تعریفی کلمات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک وزیر کے پرسنل سیکرٹری کو تین لاکھ روپے پر لگا دیا۔ یہ برداشت نہیں کریں گے کروڑوں روپے کی بندر بانٹ نہیں ہونے دیں گے۔
اسی طرح چیف جسٹس آف پاکستان نے بلوچستان کے کوئٹہ کے سول اسپتال کا دورہ کیا۔ سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بلوچستان میں تعلیم، صحت اور پانی کے مسائل پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پنجاب کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں کا دورہ کر چکے ہیں۔ کسی بھی سرکاری اسپتال میں صورت حال تسلی بخش نہیں تھی بلکہ کم از کم معیار پر بھی کوئی سرکاری اسپتال نہیں۔ جو کام چیف جسٹس کررہے ہیں، کیا یہ کام اور سرکاری اسپتالوں کے بار بار دورے کرنا وزیراعلیٰ، وزرا صحت اور سیکرٹریز صحت کی ذمہ داری نہیں تھی؟ ویسے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف تو اکثر سرکاری اسپتالوں کا دورہ کرتے ہی ہیں مگر حالات پھر بھی درست نہیں ہوتے۔ دوسری جانب سندھ، بلوچستان

اور کے پی کے وزرا ءاعلیٰ توسرکاری اسپتالوںمیں جانے کا نام ہی نہیں لیتے تب ہی تو چیف جسٹس نے بلوچستان کے موجودہ اور دو سابق وزراء اعلیٰ کو طلب کرلیا تھا۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض وزراءصحت اتنی غلط بیانی کرتے ہیں کہ کیا بیان کریں۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جب سول اسپتال کوئٹہ کا دورہ کیا تو وہاں صفائی کی صورت حال دیکھ کر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہاں ن لیگ کی حکومت رہی اب ق لیگ کے وزیراعلیٰ ہیں۔ مگر دونوں جماعتوں کی ترجیحات میں سرکاری اسپتالوں کے حالات بہتر کرنا شامل نہیں۔ بلوچستان میں صرف 9لاکھ بچے اسکولوں میں جارہے ہیں جبکہ 26لاکھ بچوں کو اسکولوں میں ہونا چاہئے۔ 17لاکھ بچے اسکولوں میں نہیں جارہے، کیا عجب تماشا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی صوبے وفاق کی طرف دیکھتے ہیں۔ چیف سیکرٹری کا عدالت میں بیان کہ ایک قومی صحت کی پالیسی ہونی چاہئےبڑا حیران کن ہے کیونکہ اب صحت کا مسئلہ صوبائی حکومت کا ہے۔ جبکہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم اب وفاق نہیں صوبائی حکومتوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پنجاب کے مقابلے میں صحت و صفائی کے حالات خراب ہیں جبکہ چیف جسٹس کے نزدیک پنجاب اور سندھ میں صحت و صفائی کی صورتحال بہت ابتر ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ میں ڈاکٹروں نے ہڑتال چیف جسٹس کے کہنے پر ختم کی حالانکہ ڈاکٹروں کی ہڑتال ختم کرانا بلوچستان کی حکومت کی ذمہ داری کی تھی۔
پنجاب میں صاف پانی کمپنی کا بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے اتوار کو بھی عدالت لگائی۔ کتنی دلچسپ اور مضحکہ خیز صورت حال ہے کہ ایک شخص بطور ڈپٹی کمشنر 20گریڈ کی تنخواہ جو کہ ایک لاکھ چالیس /پچاس ہزار بنتی ہے، وصول کرتا ہے کہ وہی ڈپٹی کمشنر جب سی ای او صاف پانی بنتا ہے تو اس کی تنخواہ 14لاکھ 50ہزار روپے ہو جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر موصوف نے پانی کے شعبے میں کوئی ملکی/غیر ملکی ڈگری حاصل کررکھی ہے، یا وہ اس شعبے میں پی ایچ ڈی ہیں۔ پھر شاید بات سمجھ میں آجائے۔ مگر یہ کون سی تنخواہیں ہیں جو حکومت سرکاری ملازمین کو کمپنیوں کے نام پر دے کر دیگر سرکاری ملازمین کی حق تلفی اور ان میں مایوسی پیدا کررہی ہے۔اس وقت یونیورسٹیوں میں ایسے اساتذہ ہیں جن کی تعلیمی قابلیت ہر بیوروکریٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ پی ایچ ڈی، ڈبل پی ایچ ڈی دوسرے ممالک سے بے شمار افراد نے پی ایچ ڈی کررکھی ہے۔ اور ان کی تنخواہ 20/19/18گریڈ کی ہے۔ حالانکہ ان لائق اساتذہ کو لاکھوں میں تنخواہیں دینےکی ضرورت ہے۔ کتنا ظلم ہے کہ 400کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگئی اور لوگوں کو صاف پانی نہیں مل سکا، چیف سیکرٹری نے خود عدالت میں اعتراف کیا کہ 400کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود صاف پانی کی ایک بوند عوام تک نہیں پہنچ سکی۔ پھر کسی نے صاف پانی کمپنی میں اپنی اہلیہ اور بھائی کو اور ایک سیکرٹری نے اپنے سسر کو لگا رکھا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کتنا ظلم اور اندھیر ہے کہ حکومت نے 56ایسی کمپنیاں بنا ڈالیں جن کے محکمے پہلے سے موجود ہیں اور پھر انہی محکموں کے کچھ افسران رخصت لے کر اور کچھ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی کمپنیوں میں لاکھوں روپے تنخواہ پر رکھ لئے۔ ہم بالکل یقین سے یہ بات کہتے رہے ہیں ان 56کمپنیوں میں ایک بھی فرد ایسا نہیں جس نے اپنے پورے کیریئر میں کوئی ایسا کام کیاہو؟ جس سے ملک و قوم کو فائدہ ہوا ہو۔ یا پھر اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کسی غیر ملکی ادارے نے کیا ہو۔ اگر شعبہ صحت میں چار/پانچ کمپنیوں کو بھی کام کرنا ہے تو پھر دو وزیر صحت، دو سیکرٹری صحت اور ڈی جی ہیلتھ اور شعبہ صحت کے دیگر افسران کی فوج ظفر موج رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر شعبہ صحت کو کمپنیوں کو ہی چلانا ہے اور دیگر محکموں کے حوالے سے بھی قائم کمپنیوں کوکام کرنا ہے تو پھر محکمے بند کریں۔ ایک طرف محکمے کے افسران موجیں اڑا رہے ہیں تو دوسری طرف کمپنیوں کے افسران میلے میں ہیں۔ اربوں روپے کمپنیوں پر خرچ ہوگئے۔ مگر عوام کو ایک پیسے کا فائدہ نہیں ہوا۔ آجکل محکمہ زراعت بجائے کسانوں کو فائدہ پہنچائے انہیں ہزاروں کی تعداد میں موبائل فونز دے دئیے ہیں ۔ ارے اللہ کے بندو موبائل فون محکمہ زراعت کے افسران کو نئی نئی گاڑیاںاور سینکڑوں موٹر سائیکلیں دینے سے کاشتکار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ہمارا خیال ہے کہ اب حکومت کاشتکاروں کو لیپ ٹاپ بھی دے ڈالے۔ تاکہ وہ کم از کم لیپ ٹاپ پر کھیتوں میں درختوں کے نیچے بیٹھ کرفلمیں ہی دیکھ لیا کریںزراعت کی پیداوار تو بڑھتی نہیں، کھادوں کی قیمتیں آسمان سے بات کررہی ہیں۔
پانی کا شدید بحران آنے والا ہے، اس پر کوئی منصوبہ بندی نہیں ۔محترم چیف جسٹس آپ محکمہ زراعت کی طرف بھی تھوڑی سی توجہ کریں کہ وہاں پر بہت کچھ ہورہا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ کاشتکاروں کو ہر چیز میں حکومت سبسڈی دے۔ ان کے ٹیوب ویلوں کے لئے بجلی کا ریٹ نہ ہونے کے برابر رکھا جائے، محکمہ زراعت اربوں روپے نئی نئی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، موبائل فونز اور پینافلیکس پر خرچ کررہا ہے۔ اس کی بجائے اربوں روپے سے کسانوں کو بجلی میں سبسڈی اور زرعی مشینری خرید کردے۔ اگر دینا ہی ہے تو زراعت سے متعلق آلات اور مشینریاں مفت فراہم کرے۔ پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے اور جو زرعی رقبہ روز بروز کم ہورہا ہے اس کو بچانے کے لئے منصوبہ بندی کرے۔ بھارت کی آبی جارحیت کےخلاف کوئی حکمت عملی اختیار کرے۔
ایک اور دلچسپ صورت حال ملاحظہ فرمالیں خسرہ اور خناق کی ویکسین روس سے منگوائی گئی ہے۔ اس کا لٹریچر روسی زبان میں ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کو اس کی ڈوز کا علم نہیں ہوگا جبکہ دوسری طرف خسرہ اور خناق کے درجنوں بچے ان دنوں لاہور کے تمام اسپتالوں میں آرہے ہیں۔
ریلوے کا محکمہ تباہی کے دہانے کیا بلکہ تباہ ہوچکا ہے مگر ریلوے کے وزیر کی اپنی سیاسی مصروفیت اور دیگر ’’مصروفیت‘‘ بہت زیادہ ہیں ہر وزیر نے ریلوے کو منافع بخش بنانے کے دعوے کئے مگر اس کا خسارہ 60ارب تک پہنچ چکا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں