آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کرپٹ سیاستدانوں کیلئے منی لانڈرنگ کا پسندیدہ مرکز، پاکستانی، روسی اور نائیجیرین شامل، نئے قانون کے تحت سیاسی لوگوں کیلئے دولت رکھنا مشکل بنادیاگیا

برطانیہ کرپٹ سیاستدانوں کیلئے منی لانڈرنگ کا پسندیدہ مرکز، پاکستانی، روسی اور نائیجیرین شامل، نئے قانون کے تحت سیاسی لوگوں کیلئے دولت رکھنا مشکل بنادیاگیا

لندن( مرتضیٰ علی شاہ) نیشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ برطانیہ کرپٹ غیر ملکی سیاستدانوں خاص طورپر روس، نائیجریا اورپاکستان کے کرپٹ سیاستدانوں کا پسندیدہ مرکز بن گیا ہے جو اپنی کرپشن کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعےبرطانیہ منتقل کررہے ہیں۔ برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے لوگ  شامل ہیں۔ این سی اے نے سنگین اورمنظم جرائم کے خطرات کے حوالے سے اپنے پانچویں تجزیے میں کہاہے کہ اس نے یہ رپورٹ برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں ،سرکاری محکموں ،انٹیلی جنس کمیونٹی اور نجی ورضاکار شعبوں کی تیار اور مرتب کردہ رپورٹوں کی بنیاد پر تیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ہر سال سیکڑوں ارب پونڈ منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کئے جارہے ہیں جس سے ٹرسٹ اور کمپنیوں سے وابستہ اکائونٹنگ اورقانونی پروفیشنلز کی جانب سے اس سے مجرمانہ طریقے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ میں برطانیہ میں سائبر کرائم میں مسلسل اضافے لیکن ڈیٹا کی خلاف ورزی کے واقعات کی پوری طرح رپورٹنگ نہ کئے جانے سے اسکی روک تھام کیلئے ایسے نیٹ ورکس میں مداخلت کی صلاحیت میں کمی ہونے کا اعتراف کیا گیا ہے۔ خیال کیاجاتاہے کہ سیکڑوں پاکستانیوں نے اپنی حکومت کے علم میں لائے بغیر برطانیہ میں بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں میں پاکستان کی تقریبا ً تمام بڑی سیاسی پارٹیوں، پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کےرہنما شامل ہیں۔ این سی اے کاکہناہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ برطانیہ میں منظم جرائم کیخلاف آپریشن میں نمایاں کا میا بیوں کے باوجود ان جرائم اور ان کی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ برطانیہ میں جدید دور کی غلامی اور انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں بھی بتدریج اضافہ ہورہاہے جبکہ متاثرین کی بڑی تعداد کاکہناہے کہ انھیں برطانیہ آمد سے قبل ہی لوٹ لیاگیاتھا ۔ نیشنل کرائم ایجنسی کی ڈائریکٹر جنرل لائن اوونز کاکہناہے کہ این سی اے عوام کو تحفظ فراہم کرنے اورجرائم پیشہ عناصر کو نشانہ بنانے کیلئے برطانیہ میں سنگین اور منظم جرائم پر فوری توجہ دیتی ہےاور اپنے ساتھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔تاہم نئے قانون کے تحت سیاسی جماعتوں کے لوگوں کیلئے دولت رکھنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ دریں اثناء رابطہ کرنے پر تینوں جماعتوں کے مختلف افراد نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ ہم نے یہاں جو انوسٹمنٹ کی ہے وہ قانونی اور جائز ہے۔ رواں سال کے آغاز میں Unexplained Wealth Order (UWO) کے نام سے جب قانون منظور کیا گیا اس وقت پاکستان میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ اس کا اطلاق سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز پر بھی ہوگا لیکن برطانوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ قانون صرف ایسے PEPs پر ہوگا جو برطانوی شہری نہیں ہیں اور ان کا تعلق یورپی اکنامک ایریا (EEA) سے نہیں۔ حسن نواز شریف اور ان کی فیملی اور حسین نواز شریف کے پاس برطانوی شہریت ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں