آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 5؍صفر المظفّر 1440ھ 15؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے برطانوی عدالت میں اوبر کو شکست دیدی

لندن(مرتضیٰ علی شاہ) ایک برٹش پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور یٰسین اسلم نے برطانوی عدالت میں اوبر کے 19ملازمین کی جانب سے اوبر کیخلاف ملازمت کے حوالے سے ایک مقدمے میں کامیابی حاصل کرلی، اوبر عدالت میں اپنے ڈرائیوروں کو سیلف امپلائیڈ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔یٰسین اسلم نے مقدمے میں یہ موقف اختیار کیاتھا کہ وہ اوبر کے اس دعوے کے برعکس کہ وہ سیلف ایمپلائیڈ ہیں، وہ فرم کے لمب بی ورکر ہیں۔ آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کے گائوں سوالہ پیران سے پاکستان سے لیبر کی حیثیت سے کام کیلئے برطانیہ آنے والے یٰسین اسلم نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے اپنے ٹریڈ یونین کی مدد سے اربوں ڈالر مالیت کی ٹیکسی کی بڑی فرم، جسکے پاس ایک درجن سے زیادہ ماہر وکلا کی ٹیم موجود ہے اوبر کیخلاف مقدمہ دائر کیاتھا۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسی کی ایک سب سے بڑی فرم کیخلاف دوبارہ مقدمہ جیتنا ایک سنگ میل ہے اگرچہ اوبر نے اصل فیصلے کیخلاف اپیل کی ہے لیکن انھیں یقین ہے کہ جج اوبر کے ڈرائیوروں کے حق میں فیصلہ دینگے۔یٰسین اسلم اور انکے ساتھ یونائیٹڈ پرائیویٹ

ہائیر ڈرائیورز قائم کرنے والے جیمز فرار نے پہلے اوبر کیخلاف مقدمہ 2015میں ایمپلائمنٹ ٹریبیونل میں دائر کیاتھا اور یہ مقدمہ جیت لیاتھا۔ ٹریبیونل کے جج نےلکھاتھا کہ ادارے سے وابستہ ڈرائیور سیلف امپلائیڈ نہیں ہیں اور انھیں ملازمت کے بنیادی حقوق جس میں کم از کم قومی اجرت اور تعطیل کی تنخواہ شامل ہے دی جانی چاہئے۔ ٹریبیونل میں پہلی سماعت جولائی2016 میں ہوئی تھی اورفیصلے کااعلان اکتوبر 2016 میں کیا گیاتھا، اوبر نے اس کیخلاف ای اے ٹی میں اپیل کی اور ستمبر 2017 میں اس کی سماعت کی گئی اورنومبر 2017 میں اس کافیصلہ سنایا گیا لیکن اوبر نے دسمبر 2017 میں سپریم کورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا ۔ جنوری 2018 میں ان کی اپیل رد کردی گئی،اب اس فیصلے خلاف اپیل کی سماعت کیلئے اکتوبر2018 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے یٰسین اسلم اور انکے ساتھیوں کاخیال ہے کہ سپریم کورٹ اگلے سال تک اپیل کافیصلہ سنادیگی۔یٰسین اسلم کاکہنا ہے کہ لندن کے میئر ،ٹرانسپورٹ فار لندن اورحکومت کو اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے اورچشم پوشی کارویہ اختیار کرنے کے بجائے مداخلت کرتے ہوئے ورکرز کے حقوق کادفاع کرنے کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اوبر کو اسی طرح سے کام کرنے کاموقع مل گیا تو پھر ہائی اسٹریٹ، فاسٹ فوڈ اور ہر انڈسٹری میں یہی چلن اختیار کرلیاجائیگا۔ یٰسین اسلم نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ لڑینگے۔ انھوں نے کہا کہ دومرتبہ قانونی جنگ میں فتح ورکرز کیلئے اچھی علامت ہے اور ججوں نے دونوں مرتبہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اوبر غیر قانونی طورپر ہمیں ہمارے حقوق دینے سے گریز کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ پورے برطانیہ میں ورکرز کے حقوق کاتحفظ کیاجائے کیونکہ کمپنیاں غلط طریقے سے ٹیکنالوجی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہیں اور ورکرز کو کم از کم اجرت دینے سے بچنے کیلئے غلط طریقے سے ورکرز کو سیلف امپلائیڈ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی یونین اور کارکنوں کے اتحاد کی وجہ سے کامیابی ہوئی اور میں خود اور ہمارے دوسرے ساتھ یونینسٹ کے طورپر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، کیونکہ دوسروں کابھی ہم پر حق ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں