آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیسے دنیا کا ہر شخص اپنے بارے میں اچھی رائے نہ صرف رکھتا ہے بلکہ حتی الوسع اسکی ترویج بھی کرتا ہے، قوموں اور ریاستوں میں بھی یہ خصوصیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ دنیا کی ہر قوم اور ہر ریاست اپنے شہریوں کو یہ بیانیہ بیچتی ہے کہ ہم عظیم قوم ہیں، ہماری نسل عظیم ہے، ہماری تاریخ عظیم ہے، ہمارا مذہب عظیم ہے، ہماری ثقافت عظیم ہے، ہماری تاریخ عظیم ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جس طرح ایک شخص کیلئے اپنے بارے میں اچھی رائے رکھنا نہ صرف مثبت چیز ہے بلکہ نفسیاتی لحاظ سے اسکے زندہ رہنے اور ترقی کرنے کیلئے بھی از حد ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کی اپنے ہی بارے میں رائے خراب ہو جائے یا وہ کسی وجہ سے اپنی ہی نظروں میں گر جائے تو وہ پھرصحتمند زندگی نہیں گزار سکتا ہے۔ ایسا شخص بہت سی ذہنی الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے اور جلد یا بدیر اسکی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اپنے بارے میں اچھی رائے رکھنا ایک نارمل اور صحتمند انسان کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اسی طرح اپنے بارے میں مثبت رائے رکھنا صحتمند اور نارمل قوموں اور ریاستوں کی بھی بنیادی خصوصیت ہے۔
اس پس منظر کے ساتھ ہم اپنے قومی بیانیے پر اگر نظر دوڑائیں تو ہمیں سب کچھ نارمل نظرآتا ہے۔ ہم عظیم قوم ہیں، ہم عظیم نسل ہیں، ہماری شاندار تاریخ ہے، ہماری تہذیب بہترین تہذیب ہے۔ یہاں تک سب کچھ نارمل ہے لیکن

صحتمند انسانوں کی طرح صحتمند قومیں اور ریاستیں بھی اس مثبت بیانئے کو اپنانے کے باوجود اپنی خامیوں پر نظر رکھتی ہیں، انہیں دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اپنی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتی ہیں، دوسری قوموں سے مسابقت میں جیتنے کی کوشش کرتی ہیں، حریفوں اور حلیفوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اور اسی جدوجہد اور کوشش میں انسانی تہذیب آگے بڑھتی ہے۔ لیکن اگرکوئی قوم اپنے مثبت بیانیے کو ہی حتمی حقیقت سمجھ لے ( جو کہ کبھی بھی حقیقت نہیں ہو سکتی) اور اپنی خامیوں کو ماننے سے انکار کر دے، جو سوچے کہ کیونکہ وہ عظیم ہے اس لئے اسے مزید تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں، جو یہ خیال کر لے کہ ہماری تاریخ چونکہ عظیم ہے اسلئے ہم اپنی تاریخ کا تنقیدی جائزہ نہیں لیں گے، جسے گمان ہو جائے کہ کیونکہ عظیم نسل سے ہے اس لئے اسے دوسری قوموں سے اچھی باتیں مستعار لینے کی کوئی ضرورت نہیں تو پھر اسکا حال وہ ہوتا ہے جو اس وقت ہمارا ہے۔ ہم اس وقت کنوئیں کے مینڈک بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنے بارے میں ایک بہت مثبت بیانیہ بنایا ہے اور اس بیانیےکو آفاقی حقیقت تسلیم کر لیا ہے۔ ہم دنیا سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں۔ ہم تعلیم و تربیت میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہم نے اپنی تاریخ کو مسخ کر دیا ہے، ہم ہر دوسری قوم کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، ہم ترقی کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی کو گمراہی تصور کرتے ہیں۔
ایسے ماحول میں ہم جو اوسط درجے کا شہری پیدا کر رہے ہیں وہ بھی انہیں خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن امید کی ایک کرن ہے جو انٹر نیٹ نے روشن کی ہے۔ انٹر نیٹ کی شکل میں دنیا کے اندر جھانکنے کی کھڑکی موجود ہے ۔ اور اگر آپ نے انگریزی زبان سیکھ رکھی ہو تو پھر معیاری علوم تک بھی رسائی ممکن ہوجاتی ہے۔ میں ایسے ہی خوش قسمت شہریوں کی توجہ ایک نہایت معیاری اور جید ذخیرہ تعلیم کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ یہ ایک TED.com نامی ویب سائٹ کی شکل میں موجودہ ہے۔ یہ ایک بغیر منافع تنظیم ہے جسکا واحد مقصد دنیا بھر کے قابل ترین اور کامیاب ترین اصحابِ علم کو بلانا اور اپنے شعبے، اپنی ریسرچ اور اپنی کامیابیوں کو دس بارہ منٹ کی گفتگو میں سمو کر ناظرین کے سامنے لانا ہے۔ میں پہلے کئی ایک کالموں میں ذکر کر چکا ہوں کہ ہمارے ہاں نظریہ ارتقا کی الف ب بھی کسی کو معلوم نہیں اور اس پر ایسی ایسی مزاحیہ تنقید کی جاتی ہے حالانکہ یہی نظریہ جدید سائنس، حتی کہ سوشل سائنس کی بھی بنیاد ہے۔ میں یہ دعویٰ کس بنیاد پر کرتا ہوں اسکا جواب آپکو اس ویب سائٹ پر ارتقا کی تھیوری کے بارے میں موجود ماہرین کی گفتگو سے ہو گا۔ آپکو اگر رموزِ کائنات میں دلچسپی ہے، آپ حشرات الارض کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، آپ غذائوں کی خصوصیا ت کے بارے میں متجسس ہیں، آپ مصنوعی ذہانت یا مصنوعی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، آپ ایٹمی ہولناکیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا چاہتے ہیں، آپ کو ہماری کائنات کے علاوہ موجود کائناتوں میں دلچسپی ہے، آپ بیکٹیریا یا وائرس پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں، آپ بیماریوں، ادویات، مستقبل کی بیماریوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں یا پھر آپ سوشل سائنسز میں دلچسپی رکھتے ہیں، آپ نفسیاتی الجھنوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، آپ قومی رویوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، آپ تہذیبوں کے ارتقا میں دلچسپی رکھتے ہیں، آپ انسانی جذبات، احساسات اور تاثرات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، آپ انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال سے پریشان ہیں، آپ گلوبل ویلج کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں، آپ ریاستی اداروں کی طرف سے شہری آزادیاں سلب کرنے کے نئے حربوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا چاہتے ہیں۔ غرض آپ کو جس بھی چیز میں دلچسپی ہے آپ اس ویب سائٹ پرجائیں آپ کو اس موضوع پر ضرور کوئی نہ کوئی معیاری اور مختصر گفتگو مل جائے گی اور وہ گفتگو ہو گی بھی اس موضوع کے اوپر عبور رکھنے والے دنیا کے قابل ترین اور انتہائی پروفیشنل لوگوں کی۔ ایسے لوگ جو دنیا میں رائج اس موضوع سے متعلق تھیوریوں کے خالق ہونگے یا وہ جنہوں نے خود وہ ایجادات اور دریافتیں کی ہونگی۔
اس طرح کے علوم کے اور بھی ذخائر انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ اسی لئے نوجوانوں سے درخواست ہے کہ جہالت کے اندھیروں کو جھٹک دیں، بیرونی دنیا میں جو ہوشربا تعلیم، تربیت اور ترقی کا سامان موجود ہے اسکو سچے دل سے اپنا لیں، ریاستی بیانیہ ضرور قبول کریں لیکن اسے آفاقی حقیقت تسلیم نہ کریں۔ ایک صحتمند اور روشن خیال زندگی گزارنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں