آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دوہزارتیرہ میں نگراں وزیراعظم کی تقرری کی چند جھلکیاں

یکم جون 2013 کو حلف اٹھانے والی موجودہ اور مجموعی طور پر14ویں قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت 31 مئی2018  کو پوری کرنے والی ہے۔ملک بھر میں 15ویں قومی اسمبلی کے لیے انتخابی ماحول بننا شروع ہوچکا ہےاورتمام نظریں بے چینی سے اگلے انتخاب کےلیے ساتویں نگراں وزیراعظم کے نام کے اعلان کی منتظر ہیں۔

 آئین کی دفعہ224 کے تحت نگران وزیراعظم کا انتخاب کا حق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید  شاہ کو حاصل ہے،اسی تناظر میں 10اپریل سے دونوں رہنمائوں میں کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں ۔ وزیراعظم  شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے بیان سے امید کی جارہی ہے کہ نگران وزیراعظم کا نام دیگر مراحل کے بغیر اتفاق رائے سے منظر عام پر آجائے گا۔

گوکہ دونوں جانب سے اس بارباضابطہ نگران وزیراعظم کےلیے کسی شخصیت کا نام سامنے نہیں آیا،لیکن میڈیا  کے ذریعے اب تک جو نام سامنے آئے ہیں ان میں سابق چیئرمین پی سی بی 65سالہ چوہدری ذکا اشرف ،63سالہ سابق سفارتکار جلیل عباس جیلانی،سابق گورنر اسٹیٹ بینک 76سالہ ڈاکٹر عشرت حسین،ملک کی پہلی خاتون سابق گورنر اسٹیٹ بینک64سالہ  شمشاد اختر،سابق چیف جسٹس68سالہ تصدق حسین جیلانی،سابق  سیکریٹر ی الیکشن کمیشن اشتیاق احمد،67سالہ عبداللہ حسین ہارون(سابق سفیر اقوام متحدہ)،65 سالہ ملیحہ لودھی( سفیر اقوام متحدہ) عبدالرزاق دائوداو ر سابق چیئرمین سینیٹ 67سالہ  محمد میاں سومرو شامل ہیں۔

اب قرعہ فال ان میں کس کے نام نکلتا ہےیہ راز ابھی باقی ہےاور اگر یہ نام پہلے مرحلے میں ہی اتفاق سے آجاتا ہے تو یہ ایک نیک شگون ہوگاکیونکہ 2013 کے انتخاب کے موقع پر نگران وزیراعظم کا انتخاب تجربہ کار اراکین اسمبلی کی کئی باضابطہ ملاقاتوں کے باوجود آخر کارالیکشن کمیشن کے ذریعے عمل میں آیا تھا۔

 پچیس مارچ 2013 کو  ملکی تاریخ کے بزرگ ترین نگراں وزیراعظم ساڑھے 83سالہ جسٹس(ر) میر ہزار خان کھوسو نے حلف اٹھایا ،انہیں ایک سخت اورتھکا دینے والے بات چیت کے بعد الیکشن کمیشن نے مقرر کیا تھا۔قومی اسمبلی کی تحلیل کے آٹھویں روز چنے گئے اور نویں روز حلف اٹھانے والے نگران وزیراعظم کے انتخاب کےلیے مرحلے کیسے طے ہوئے اپنی یادداشتوں کو تازہ کرنے کےلیے ایک نگاہ اس پر ڈالتے ہیں۔

سولہ مارچ 2008 کو بننے والی قومی اسمبلی 16 مارچ 2013کو اپنی میعاد پوری کررہی تھی،پیپلزپارٹی اپنے اتحادیوں کےساتھ وفاق میں حکومت کررہی تھی جبکہ ن لیگ حزب اختلاف کے طور پر پارلیمان میں موجود تھی۔ نئے انتخاب کا وقت قریب آتے ہی غیر مصدقہ ذرائع سے کئی نام میڈیا کے ذریعے سامنے آنا شروع ہوگئے تھے،ایسی ہی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق ابتدا میں مسلم لیگ ن نے نگران وزیراعظم کےلیے 6نام تجویز کیے، جس میںنامور قانون دان محترمہ عاصمہ جہانگیر،جسٹس(ر) ناصر اسلم زاہد،جسٹس (ر)شاکراللہ جان،پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی،بلوچ قوم پرست رہنما سردار عطااللہ خان مینگل، اور جسٹس (ر)ا جمل میاں شامل تھے،جبکہ حکومتی اتحادیوںکی جانب سے عبداللہ حسین ہارون کانام گردش کررہا تھا۔

پہلا مرحلہ،نگران حکومت کے قیام کی مشاورت کےلئے وزیراعظم کا قائد حزب اختلاف کو خط ستائیس فروری کو وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے آئین کے آرٹیکل224 کے تحت اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کو نگراں وزیراعظم کی تقرری میں مشاورت کےلیے لکھا۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں یہ خبر سامنے آئی کہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے نگراں وزیراعظم کےلیے تین نام تجویز کیے ہیں،جن میں جسٹس (ر)ناصر اسلم زاہد،جسٹس(ر)شاکراللہ جان  اور رسول بخش پلیجو  شامل ہیں۔آٹھ مارچ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ہمارے تین ناموں پر اگر پی پی کو اعتراض ہے تو بتادے کیا ہم جہانگیر بد ریا کائرہ کے نام دیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے نگران وزیراعظم کےلیے جو تین نام دیے ہیں وہ نہ صرف غیرمتنازع ہیں بلکہ اچھی شہریت بھی رکھتے ہیں۔

گیارہ مارچ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنی اتحادی جماعتوںکی مشاورت کے بعد قائد حزب اختلاف کو جوابی خط لکھا نگران وزیراعظم کےلیے جن شخصیات کو منتخب کیا گیا ان میں سابق وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ،سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین اور سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس (ر) میرہزار خان کھوسو شامل تھے۔ پندرہ مارچ کو ایک نئی پیش رفت ہوئی جب  مسلسل بات چیت کے باوجود کسی ایک فیصلے پر نہ پہنچنے کے سبب وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے پاس براہ راست فیصلہ کرنےکےلیے صرف 24گھنٹے باقی رہ گئے تھے۔ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں نہ جائے اس مقصد کےلیے حکومت نے اپنی جانب سے ڈاکٹر عبدالحفیظ پیرزادہ اور اپوزیشن نے جسٹس شاکر اللہ جان کا نام واپس لےلیا جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے دو دو امیدوار میدان میں رہ گئے ۔

انیس مارچ کو اس مقصد کےلیے آخری کوشش کے طور پر حکومتی رکن سید خورشید اور حزب اختلاف کے اسحاق ڈار درمیان ملاقات ہوئی تاہم اس موقع پر بھی  پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے،دوسرا مرحلہ ،پارلیمانی کمیٹی کا قیام بیس مارچ، معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپر د ہوگیا۔کمیٹی کے قیام کے نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی پارلیمنٹ ہائوس میں  دوپہر ڈھائی بجے پہلا اجلاس ہوا۔آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی میں حکومتی اتحاد کی طرف سے چار رکن فاروق ایچ نائیک،سید خورشید شاہ،چوہدری شجاعت حسین اور حاجی غلام احمد بلور تھے جبکہ حزب اختلاف ن لیگ کی جانب سے سردار مہتاب احمد عباسی،سینیٹر پرویز رشید،سردار یعقوب ناصر اورخواجہ سعد رفیق  شامل تھے۔

حزب اختلاف نے جے یوآئی اور ایم کیو ایم کو کمیٹی میں شامل نہیں کیا تھا،اس موقع پرسیکریٹری قومی اسمبلی کرامت حسین نیازی نے کہا کہ نگران وزیرعظم کا فیصلہ کثرت رائے سے ہوگا یعنی کمیٹی کے 5ارکان جس نام کی  حمایت کریں گے وہی نگراں وزیراعظم  ہوگا ۔آئین کی شق 224Aکے مطابق کمیٹی کے پاس تین دن تھے جس کے مطابق 22مارچ تک نگران وزیراعظم کے معاملے پر کوئی فیصلہ کرنا تھا۔پہلے روزکمیٹی نے حکومت کے نامزد کردہ جسٹس (ر)میرہزار کھوسو اور حزب اختلاف کے رسول بخش پلیجو کے ناموں پر غورکیا ۔اکیس مارچ کو حکومتی نامزدامیدوار ڈاکٹر عشرت حسین اور حزب اختلاف کے جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کے نام پرتفصیلی گفتگو کی گئی۔

بائیس مارچ2013 کے دن کمیٹی دن بھرکسی حتمی فیصلےپر پہنچنے کےلیے مصروف رہی اور آخر کارتھک ہار کر رات 9 بجے کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے قوم کو آگاہ کیا کہ وہ نگران وزیراعظم کی تقرری کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں لہٰذاآئین کی رو سے اب یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔اس موقع پر چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ یہ تاریخی موقع تھا مگر سیاستدان ناکام ہوگئے۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے،الیکشن کمیشن کافیصلہ قبول کرلیں گے۔کمیٹی کے دیگر ارکان کا موقف بھی یہی تھا۔آخری ا ور حتمی مرحلہ الیکشن کمیشن کے روبروتئیس مارچ ،پارلیمانی کمیٹی کی ناکامی کے بعد یہ معاملہ آئینی رو سےآخری اور حتمی فیصلے کےلیے  الیکشن کمیشن  کے حوالے کردیا گیا۔

جو24 ما رچ تک حتمی فیصلہ کاپابند تھا۔پہلے روزالیکشن کمیشن کے دو اجلاس ہوئے ۔سندھ کےرکن جسٹس (ر) محمد روشن عیسانی کےکراچی  میں  ہونے کے سبب اگلے دن کےلیے ملتوی ہوگیا۔چوبیس مارچ، الیکشن کمیشن اپنے آخری دن حتمی نتیجے پر پہنچتے ہوئےجسٹس (ر) میرہزارخان کھوسو کوکثرت رائےسےالیکشن 2013 کیلئے ملک کانگران وزیراعظم مقررکردیاگیا۔

اجلاس میں میر ہزار خان کھوسو کے حق میںچار اور مخالفت میں ایک ووٹ آیا۔الیکشن کمیشن خیبر پختون خواہ کے رکن  جسٹس (ر)شہزاد اکبر خان ،سندھ کےرکن جسٹس (ر) محمد روشن عیسانی،بلوچستان کے رکن  جسٹس (ر)فضل الرحمن اور چیف الیکشن کمشنر  جسٹس(ر)فخرالدین جی ابراہیم نے جسٹس (ر) میرہزار خان کھوسو کے حق میں ووٹ دیا جب کہ پنجاب کے رکن جسٹس ریاض کیانی نےاختلافی نوٹ لکھا ان کا ووٹ جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد کے حق میں تھا۔

حکومت کی طرف سے نگران وزیراعظم کےلیے سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین اور میر ہزار خان کھوسو جبکہ اپوزیشن کی جانب سےجسٹس (ر)ناصر اسلم زاہداور بزرگ سیاستدان رسول بخش پلیجو کے نام دیئے گئے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں