آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عبدالرؤف ڈپٹی ڈائریکٹر پی آر او برائے وزیر تعلیم پنجاب لکھتے ہیں۔
بیس اکتوبر کا گریبان بعنوان پنجاب کا سالانہ تعلیمی خرچہ پندرہ پیسے فی بچہ زیر نظر ہے جس میں آپ نے کسی غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کو بنیاد بنایا ہے جس کے مطابق پنجاب حکومت نے گزشتہ مالی سال 2011-12میں بچوں کی تعلیم کے شعبے میں پندرہ پیسے فی بچہ خرچ کئے جبکہ اسی رپورٹ کے مطابق اس سے گزشتہ سال کے دوران یہ خرچہ 308روپے79پیسے فی بچہ تھا۔
پہلی نظر میں ہی 15پیسے فی بچہ سالانہ خرچ والی بات مضحکہ خیز اور ناقابل یقین لگتی ہے۔ معلوم نہیں اس غیر سرکاری تنظیم نے یہ حساب کیسے لگایا ہے۔ حقیقت حال کی وضاحت کے لئے عرض ہے کہ سال 2011-12میں حکومت پنجاب نے سکولوں کے شعبے میں147ارب روپے فراہم کئے ۔سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ایک کروڑ چھ لاکھ بچوں کے حساب سے یہ خرچ فی بچہ13881روپے سالانہ 1156روپے ماہانہ بنتا ہے۔
مالی سال2010-11ء میں حکومت پنجاب نے سرکاری سکولوں کے لئے130ارب روپے خرچ کئے یوں فی بچہ12251روپے (اور ماہانہ1020روپے) بنتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی کردو ں کہ فی بچہ سالانہ تعلیمی اخراجات پندرہ بیس فیصد بڑھ رہے ہیں جہاں تک رواں مالی سال کا تعلق ہے اس میں سرکاری سکولوں پر اخراجات کاتخمینہ 180ارب روپے ہے یوں فی بچہ تعلیمی اخراجات 1600روپے فی بچہ سے بھی زیادہ ہوں گے۔تعلیم کا

فروغ اور معیار تعلیم کی بلندی حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ چند نکات پیش خدمت ہیں۔ صوبے میں4286ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں پانچ ارب روپے کی لاگت سے آئی ٹی لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔ غریب اور نادار بچوں کی معیاری تعلیم کے لئے دس دانش سکول قائم کئے گئے ہیں۔6113سکولوں اور 23 کالجوں میں عدم دستیاب سہولتیں فراہم کیں گئیں ہیں۔ بیالیس ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ سو فیصد میرٹ پر بھرتی کئے گئے ہیں۔ ایک لاکھ بیس ہزار اساتذہ کو تربیت دی گئی ہے۔68نئے ڈگری کالجوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ 13 انٹر کالجوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ ڈگری کالجوں میں تبدیل کیا گیا ۔پانچ نئی خواتین یونیورسٹیوں اور جہلم میں پنجاب یونیورسٹی کے سب کیمپس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ لاہور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کے لئے 10ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس سے45ہزار بچے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان میں سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزادکشمیر ،گلگت بلتستان اور فاٹا کے بچے بھی شامل ہیں۔ٹاپ پوزیشن ہولڈر طلبا اور طالبات کے لئے لاکھوں روپے انعامات ان کی عزت افزائی کے لئے گارڈآف آنر کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ان بچوں اور بچیوں کے یورپ کی بہترین یونیورسٹیوں کے مطالعاتی دوروں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ نمایاں کارکرد گی کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران 72ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں۔پندرہ پیسے فی بچہ سالانہ کا خرچ بیان کرنے والی غیرسرکاری تنظیم”چائلڈ کیئر“ کہلاتی ہے جس کے حساب سے حکومت پنجاب کے تعلیمی اخراجات تیرہ ہزار آٹھ سو اکاسی روپے فی بچہ سالانہ نہیں صرف پندرہ پیسے فی بچہ سالانہ ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں