آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتخابات میں ’’خلائی مخلوق‘‘ کی مداخلت کے بارے میں مشہور زمانہ اصغر خان کیس تیزی کے ساتھ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔کوئی ملزم عدالت کے بار بار بلانے پر آئے یا نہ آئے لیکن اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کی طرف سے چھ سال قبل سنائے جانے والےفیصلے پر عملدرآمد اب زیادہ دور نہیں ۔بدھ کی صبح سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کی عدالت میں معمول سے زیادہ رش تھا ۔جن سیاست دانوں کو طلب کیا گیا تھا ان میں سے صرف جاوید ہاشمی ذاتی حیثیت میں کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔عابدہ حسین اور سراج الحق کے وکلاء نے انکی نمائندگی کی۔نواز شریف کا نام بار بار پکارا گیا ۔اٹارنی جنرل اشتراوصاف علی نے بتایا کہ وہ احتساب عدالت میں ہیں تو چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف اپنے وکیل کے ذریعہ نمائندگی کر سکتے ہیں ہم صرف ان کا موقف جاننا چاہتے ہیں کہ انہوں نے آئی ایس آئی سے پیسے لئے تھے یا نہیں ۔اس موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ خورشید شاہ کوبھی نوٹس جاری کیا گیا ہے حالانکہ ان کا اصغر خان کیس میں نام ہی نہیں ہے ۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ 2012ء میں جاری کئے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے میں جن لوگوں کے نام ہیں وہ پڑھ کر سنائیں۔نام پڑھے جانے لگے پہلا نام نواز شریف کا تھا اور ساتھ میں آوازآئی 35لاکھ۔
دوسرا نام لیفٹیننٹ جنرل (ر)

رفاقت 56لاکھ۔ یہ رقم موصوف نے میڈیا میں تقسیم کرنے کیلئے لی تھی۔ تیسرانام جماعت اسلامی 50لاکھ۔چیف جسٹس نے کہا کہ جماعت اسلامی کی طرف سے کون آیا ؟ ایک وکیل نے کہا کہ وہ سراج الحق صاحب کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ عابدہ حسین کے نام کے آگے دس لاکھ لکھا تھا ان کی نمائندگی وسیم سجاد کر رہے تھے ۔پھر ایک نام بولا گیا جتوئی 50لاکھ۔چیف جسٹس نے پوچھا یہ کون سے جتوئی ہیں۔ اشتراوصاف نے بتایا غلام مصطفیٰ جتوئی دنیا میں نہیں رہے۔ پھر نام آیا جام صادق 50لاکھ۔چیف جسٹس نے کہا فوت ہو چکے ۔اگلا نام جونیجو 25لاکھ۔چیف جسٹس نے کہا فوت ہو گئے۔الطاف حسن قریشی 5لاکھ۔ ایک وکیل نے بتایا قریشی صاحب کچھ دیر میں یہاں پہنچ جائیں گے۔ پیر پگاڑا 20لاکھ۔چیف جسٹس نے خود ہی کہا فوت ہو گئے۔مولانا صلاح الدین 3لاکھ۔اٹارنی جنرل نے بتایا دنیا میں نہیں رہے ۔
اکبر بگٹی کے داماد ہمایوں مری کے نام کے آگے 15لاکھ لکھے تھے ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا یہ پاکستان میں نہیں ہوتے ۔ایک نام بولا گیا جمالی 40لاکھ ۔چیف جسٹس نے پوچھا یہ کون سے جمالی ہیں ۔بتایا گیا یہ ظفر اللہ جمالی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا انہیں نوٹس دیں اور تین دن میں جواب حاصل کریں۔اگلا نام تھا کاکڑ 10لاکھ۔بتایا گیا یہ سرور کاکڑ تھے اب دنیا میں نہیں رہے۔ ایک نام آیا کے بلوچ 5لاکھ ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا یہ کوئی اور قادر بلوچ ہیں جنرل قادر بلوچ نہیں ۔جام یوسف ساڑھے سات لاکھ ۔بتایا گیا جام صاحب فوت ہو گئے۔ پھر ایک نام بولا گیا بزنجو 5لاکھ ۔چیف جسٹس نے کہا یہ کون سے بزنجو ہیں ۔بتایا گیا یہ حاصل بزنجو ہیں ۔چیف جسٹس نے بڑی حیرانگی سے کہا ’’اچھا جی ‘‘ یہ وہ نام تھے جو اسددرانی نے اپنے پہلے حلفیہ بیان میں ظاہر کئے تھے ۔ عدالت کے فیصلے میں ایک اور فہرست ملٹری انٹیلی جینس کے بریگیڈیئر حامد سعید اختر نے بھی پیش کی تھی۔اس فہرست میں عبدالحفیظ پیرزادہ کے نام کے آگے 30لاکھ روپے درج تھے اور وہ دنیا میں نہیں رہے ۔مظفر حسین شاہ نے دو مرتبہ 30لاکھ روپے لئے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں بھی نوٹس دیں۔ارباب غلام رحیم نے 20لاکھ لئے۔انہیں بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم ہوا ۔ہفت روزہ تکبیر کے بانی صلاح الدین کے نام کے آگے 30لاکھ درج تھے ۔بتایا گیا فوت ہوگئے ۔یوسف ہارون کے نام کے آگے 5لاکھ درج تھے ۔یہ بھی فوت ہو گئے ۔آگے چل کر اٹارنی جنرل نے وہ فہرست پڑھنی شروع کی جو یونس حبیب نے دفعہ 161کے بیان میں پیش کی تھی ۔
اس فہرست میں جنرل اسلم بیگ نے 140ملین لئے۔ جام صادق نے 70ملین، ایم کیو ایم کے الطاف حسین نے 20ملین اور جاوید ہاشمی نے یوسف میمن کے ذریعہ 50لاکھ لئے ۔جاویدہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ وہ ماضی میں اس الزام کی انکوائری بھگت چکے ہیں اور ایف آئی اے ان پر کچھ بھی ثابت نہ کر سکی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے خود عدالت میں پیش ہو کر اچھی مثال قائم کی ہے ہمارا مقصد صرف قانون کی بالادستی ہے کسی کی تضحیک نہیں ۔ آگے چل کر نام آیا امتیاز شیخ 12ملین۔یہ رقم امتیاز شیخ نے جام صادق کیلئے لی تھی ۔اجمل خان کے نام کے آگے 14لاکھ درج تھے ۔عدالت کو بتایا گیا اجمل خان فوت ہو گئے ۔آگے چل کر نواز شریف کے نام کے سامنے ایک جگہ 35لاکھ ایک جگہ 25لاکھ درج تھا ۔اعتزاز احسن نے تبصرہ کیا نواز شریف کا نام تین جگہ آیا ہے ۔ایک دفعہ اسددرانی کی فہرست میں اور دو دفعہ یونس حبیب کی فہرست میں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف خود آئیں یا وکیل کو بھیجیں لیکن اپنا موقف ضرور دیں کل کو یہ نہ کہیں انہیں سنا نہیں گیا۔ اسددرانی کی دی گئی ایک اور فہرست میںملک غلام مصطفیٰ کھر کے نام کے آگے 20لاکھ ۔ سرور چیمہ کے نام کے آگے 5لاکھ اور معراج خالد کے نام کے آگے دو لاکھ درج تھے ۔حکم ہوا کھر صاحب کو بھی بلائیں۔چیمہ صاحب اور ملک صاحب فوت ہو چکے ۔لیاقت جتوئی نے دس لاکھ اور آفاق احمد نے 5لاکھ لئے ۔انہیں بھی نوٹس جاری کر دیا گیا ۔جام مشہود نے بھی معمولی رقوم لیں انہیں بھی نوٹس جاری ہو گیا۔ جنرل اسلم بیگ کو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا معاملہ اور اسد درانی کا معاملہ جی ایچ کیو کے پاس جائے گا اور آپ کے بارے میں آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی سیاست دانوں کے خلاف ایف آئی اے انکوائری کریگی۔ تمام نام پڑھے گئے خورشید شاہ کا نام کہیں نہیں تھا انہیں غلطی سے نوٹس جاری ہوا اس کے باوجود انہوں نے وکیل بھیج دیا لیکن جن کے نام عدالتی فیصلے میں موجود ہیں اور وہ نوٹس کے باوجود پیش نہیں ہو رہے انہیں جان لینا چاہئے کہ عدالت سے دامن چھڑانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ یہ دنیا چھوڑ دیں ۔اگر آپ پاکستان میں موجود ہیں تو اپنا دفاع ضرور کریں ورنہ آپ مجرم قرار دیئے جائیں گے ۔اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلہ واضح طور پر کہتا ہے کہ الیکشن قوانین کے مطابق خفیہ رقوم لینا اور ان کو ظاہر نہ کرنا سنگین دھوکہ دہی ہے ۔مسلح افواج کا کوئی بھی افسر اپنے اعلیٰ حکام کا کوئی ایسا حکم ماننے کا پابند نہیں جو اس کے حلف کی خلاف ورزی پر مبنی ہو ۔اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہو گیا تو انتخابات میں ’’خلائی مخلوق‘‘ کی مداخلت کا راستہ کافی حد تک بند ہو جائے گا۔ عدالت میں سابق آرمی چیف اسلم بیگ کی حالت قابل ترس تھی وہ رش کی وجہ سے کھڑے تھے۔ انہیں بابر اعوان نے اپنی نشست دی ایف آئی اے جن افراد کے خلاف انکوائری کر رہی ہے ان کا تعلق مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ فنکشنل، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سے ہے ۔اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں یہ سب جماعتیں انتخابات میں دھاندلی کی شکایت کرتی رہی ہیں دھاندلی کا راستہ روکنے کا وقت آیا ہے تو دامن بچانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔اصغر خان کیس کے فیصلے میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران مسلح افواج کے جوانوں کو دیکھنا چاہئے کہ آئین برقرار ہے اور اسے منسوخ یا سبوتاژ تو نہیں کیا جا رہا۔
سیاست میں مداخلت آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کا ہر محب وطن شہری یہ چاہتا ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد ہو جو یہ نہیں چاہتا وہ جمہوریت کا ایک نام نہاد علمبردار کہلائے گا ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں