آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میری توقع کے عین مطابق بالآخر نگرانوں کا’’رولا‘‘ یا ہنگامہ الیکشن کمیشن کو ہی طے کرنا پڑا کیونکہ ہمارے قومی لیڈران اس قدر تقسیم ہیں اور محاذ آرائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ کسی ایک نکتے پہ متفق ہوسکتے ہیں نہ انہیں کوئی ایک نام قابل قبول ہوسکتا ہے۔ یہ ایک دوسرے پر محض عدم اعتماد کی علامت نہیں بلکہ نفاق اور نفرت کی بنیادیں گہری ہوچکی ہیں اور کردار کشی کے حوالے سے اذیت ناک صورت اختیار کرچکی ہیں۔ یہ نفاق، انتشار اور گہری محاذ آرائی جس میں ذاتیات کا پہلو نمایاں ہے نہ صرف انتخابی مہم میں رنگ دکھائے گی بلکہ انتخابات کے بعد بھی نئی حکومتوں کی تشکیل کے ساتھ ہی اس کے مظاہرے دیکھنے میں آئیں گے۔ مطلب یہ کہ یہ سلسلہ ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا البتہ اتار چڑھائو حالات کا تقاضا ہوتا ہے۔ پختہ جمہوری ممالک میں انتخابی مہم بھی مہذب دائروں کی پابند ہوتی ہے اور انتخابات کے بعد برسراقتدار آنے والی حکومتوں کو کام کرنے کا پورا موقع دیا جاتا ہے۔ ہماری جمہوریت پر چونکہ ذاتیات اور ذاتی نفرتوں کا رنگ غالب ہے اس لئے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد دھرنوں کے ذریعے حکومت کو ہٹانے یا عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوششیں کی گئیں، اب بھی تقریباً ایسا ہی ہوگا۔ کون کرے گا، چند ماہ انتظار کیجئے۔ اس صورتحال کی ایک

بنیادی وجہ یہ ہے کہ شریف برادران گزشتہ تین دہائیوں سے حکومت کررہے تھے۔ روایتی طور پر ان کا مقابلہ پی پی پی سے ہوتا تھا۔ اول تو انہوں نے پی پی پی کو پنجاب سے رخصت کردیا تھا ورنہ وہ ضرورت پڑنے پر پی پی پی کی قیادت سے سمجھوتہ یا سودے بازی بھی کرلیتے تھے۔ عمران خان نے پاناما کا سہارا لے کر ان کے اقتدار کو خطرے میں ڈال دیا ہے، ان کے خاندانی اقتدار کے خواب کو مشکوک بنادیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ کو وزارت عظمیٰ سے اتار کر احتساب عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔ میاں نواز شریف کے ساتھ ساتھ بیٹی مریم کیپٹن صفدر اور مستقبل کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف کا سیاسی مستقبل بھی غیر یقینی کا شکار ہوچکا ہے۔ سزائوں کا خوف ان کے سروں پر لہرارہا ہے، اگر لندن کی جائیدادیں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے لئے سیاسی روگ بن چکی ہیں تو پنجاب میں کمپنیوں کے حوالے سے صوبائی وسائل کا زیاں اور ماڈل ٹائون سانحہ میاں شہباز شریف کے لئے خطرے بن چکے ہیں۔ اس پس منظر میں ذاتی نفرت اور انتقام کے جذبے کا ابھرنا قابل فہم بات ہے۔ ظاہر ہے کہ میاں صاحبان عمران خان کو کبھی معاف نہیں کریں گے اور وقت آنے پر اور موقع ملنے پر ضرور انتقام لیں گے چونکہ نفرت اور انتقام کے سفلی جذبات سے نجات حاصل کرنے کے لئے جس وسیع القلبی اور روشن باطن کی ضرورت ہے وہ میاں صاحبان کے مزاج کا حصہ نہیں۔ دوسری طرف عمران خان بھی ان کا پیچھا چھوڑتا نظر نہیں آتا۔ اس کے بیانات سے یوں لگتا ہے جیسے ہمارے بعض لکھاریوں کی مانند اس نے اسے زندگی کا مشن بنا رکھا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں کے پی کے معاملات اور کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے اس کی ساری توجہ میاں صاحبان کو نشانہ بنانے اور شادیاں رچانے میں پر مرکوز رہی ۔ اب ریحام خان سے شادی تو عمران خان کے گلے پڑگئی ہے کیونکہ وہ بھی ایک نہایت منتقم مزاج عورت ہے اور عورت کا انتقام تو ضرب ا لمثل بن چکا ہے جس کی ایک مثال بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد ہے جو اراکین جماعت اسلامی اور پاکستان کے حامیوں کو چن چن کر پھانسیاں چڑھارہی ہے۔ اس وقت وہ عروج پر ہے اور ہندوستان کی آنکھ کا تارہ بنی ہوئی ہے لیکن یاد رکھنا خود اس کا انجام بھی عبرتناک ہوگا۔ میں نے زندگی اور تاریخ میں مخالفین کو انتقام کی آگ میں جلانے والوں کو خال خال ہی عزت و آرام کی موت مرتے دیکھا ہے۔ سیاسی ا قتدار کی خاطر انتقام کی بھینٹ چڑھانے والوں کو اکثر خود بھی’’رلتے‘‘ اور ذلیل و خوار ہوتے دیکھا ہے۔ غور کریں اور روحانی تحریریں پڑھیں تو آنکھیں کھلتی ہیں کہ اقتدار اور اختیار کی کوکھ سے جنم لینے والا غرور، تکبر اور اسی غرور سے جنم لینے والی ہوس اقتدار اور انتقام بالآخر خود انسانوں کی پائوں کی زنجیریں اور گردنوں کا طوق بن جاتی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں ہمارے کئی حکمرانوں کو جو سزا ملی اور وہ رسوا ہوئے اس کی بنیادی وجہ ان کا تکبر تھا ظاہری وجوہات محض بہانے تھے۔ ہمارے حکمران اقتدار کے محل میں پہنچ کر لوگوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے اور پھر ٹشو پیپر کی مانند پھینک دیتے ہیں۔ انسانوں سے اس حرص و ہوس اور سنگ دلی کا رویہ بالآخر ان کے لئے سزا بن جاتا ہے۔ اقتدار میں وہ کسی سے مخلص نہیں ہوتے سوائے اپنی کرسی کے چنانچہ اقتدار سے نکل کر جب وہ اخلاص تلاش کرتے ہیں تو اخلاص کنی کترا کر گزر جاتا ہے اور باقی رہ جاتے ہیں مفاد پرست۔ ویسے میں بغیر جانے ریحام خان کی حکمت عملی اور ذہانت کی داد دیتا ہوں کیونکہ بقول ڈاکٹر افتخار بخاری وہ پاکستان میں دو ٹارگٹس (Targets)لے کر آئی تھی کہ ان میں کوئی ایک ٹارگٹ جال میں پھنس جائے، اول عمران خان دوم شہباز شریف۔ شہرت کی خوشبو بہت تیزی سے پھیلتی ہے، میری نظر میں دونوں’’نشانے‘‘ نہایت موزوں اور آسان تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت تیز خاتون ہے۔ اپنی اپنی قسمت کی بات ہے کہ عمران خان آسانی سے پھنس گیا اور شہباز شریف کو آزمانے کی نوبت نہ آئی ورنہ شہباز شریف بھی ایک نکاح اور کرلیتے۔ اس حوالے سے شہباز شریف کو عمران خان کا ممنون ہونا چاہئے۔ بہرحال ریحام خان نے اپنی کتاب کے ذریعے عمران خان کے لئے جو صورتحال پیدا کی ہے اس سے فائدہ اٹھانا مسلم لیگ ن کی قیادت کا’’فرض‘‘ ہے۔ دشمن پر تیر چلتے دیکھ کر وہ کیوں خاموش رہیں؟وہ کوئی بیوقوف تھوڑے ہی ہیں۔ میڈیا کے استعمال کا ہنر ان سے بہتر کون جانتا ہے۔
میرا قلم نہ جانے کن وادیوں میں بھٹکتا رہا اور سنگ تراشتا رہا۔ لکھنے کا ارادہ تھا پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے ضمن میں جن سے میرا ذاتی تعلق دہائیوں پر محیط ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی گورنمنٹ کالج لاہور سے لے کر ایم اے سیاسیات تک میرے ساتھ رہے ہیں۔ درس و تدریس میں ان سے محبت بھرا تعلق ہمیشہ قائم رہا ہے جس کی بنیادی وجہ ان کا’’بینا پن‘‘ہے۔ ہم دونوں کی ریسرچ اور لکھنے لکھانے کا محور بھی پاکستان ہی رہا ہے چنانچہ یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ میرے لئے پروفیسر صاحب کا انتخاب ایک خوشگوار حیرت تھی اور میں اسی خوشی میں اہل پنجاب کو بھی شامل کرنا چاہتا ہوں۔ حسن عسکری رضوی نہایت شریف النفس انسان ہیں ، متوازن سوچ اور متوازن رویے ان کی شخصیت کا حسن ہیں۔ وہ خالصتاً ایک علمی شخصیت اور ریسرچ کے بندے ہیں اس لئے وہ سیاسی کاروبار سے بالاتر ہیں۔ وہ ان نگرانوں میں سے نہیں ہیں جو نگرانی کے دور میں جیتنے والی پارٹی کی خدمت کرکے ذاتی تعلقات استوار کرلیتے ہیں اور سیاسی منظر بدلتے ہی کوئی بڑا عہدہ’’ہتھیا‘‘ لیتے ہیں۔ حسن عسکری رضوی بے غرض قسم کے انسان ہیں جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی پوری کوشش کریں گے البتہ انہیں حکومتی و انتظامی معاملات، گورننس اور بیوروکریسی سے ڈیل کرنے کا تجربہ نہیں اس لئے انہیں محتاط رہنا ہوگا۔ ڈیڑھ ماہ کا یہ عرصہ محض سیکھنے میں گزر جائے گا اور بعدازاں یہ’’سیکھنا‘‘ کسی کام نہیں آئے گا۔ سیاسی جماعتوں سے میں فقط یہی کہہ سکتا ہوں کہ پروفیسر حسن عسکری سے خطرہ محسوس نہ کریں، وہ نہایت بے ضرر انسان ہے اس قدر بے ضرر کہ اس نے شادی تک نہیں کی تاکہ اس سے کسی جاندار کو ضرر نہ پہنچے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں