• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پہلی بار سیاسی جماعتیں منشور اور ایجنڈے کے بغیر مہم چلارہی ہیں

پہلی بار سیاسی جماعتیں منشور اور ایجنڈے کے بغیر مہم چلارہی ہیں

25جولائی کو 2018کے ہونے والے عام انتخابات کی تمام تر تیاریاں مکمل ہو گئی اس ریٹرننگ افسران کی چھان بین اور مخالفین کے اعتراضات کا مرحلہ بھی تمام ہوانہ معلوم کیوں ان انتخابات کے ہونے نہ ہونے کے بارے میں عرصے سے شکوک و شبہات کا اظہار ہوتا رہا ہے مسلم لیگ ن کے حلقوں کا شک تھا کہ اگر سروے میں ہماری مقبولیت کم نہ ہوئی تو انتخابات کو زیر التوا رکھا جائے گا لیکن اب مسلم لیگیوں کا کہنا ہے کہ ہماری مقبولیت تو برقرار ہے دیکھیں ہمیں روکنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جاتی ہے یا کیا نقشہ فائل میں موجود ہیں بہرحال تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی دونوں ہی مرکز اور صوبوں میں کامیابی کی دعویٰ دار ہیں تحریک انصاف کے ایکٹ ایبلز کو شامل کرنے کے بعد ان کے دعویٰ کی تو کچھ سمجھ آتی ہے لیکن پیپلز پارٹی کو کس نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا پورے پنجاب میں پیپلز پارٹی کی انتخابی صورتحال دگرگوں ہے جہاں تک کاغذات نامزدگی منظور ہونے کا تعلق ہے تو لاہور میں کوئی خاص اپ سیٹ نظر نہ آیا پہلے بعض حلقے اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس مرتبہ بعض معروف ارکان پر بڑی تلوار چلے گی لیکن کچھ ایسا نہ ہوا کوئی بڑی سختی نظر نہ آئی شہباز شریف عمران خان مریم نواز حمزہ شہباز علیم خان خواجہ سعد رفیق شاہد خاقان عباسی کے کاغذات منظور کر لئے گئے حالانکہ ان میں سے بعض پر سخت اعتراضات تھے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ادارہ آزادانہ اور منصفانہ کام کر رہا ہے بات پیپلز پارٹی کی ہو رہی تھی یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ کوئی راستہ نہ پا کر انتخابات کے بعد یہ جماعتیں تحریک انصاف کا راستہ روکنے کے لئے کوئی گٹھ جوڑ کر لیں گی تاہم اس حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع یا مخبری موجود نہیں ہے عمران خاں کا یہ بیان اس مفروضے کو تقویت پہنچا رہا ہے کہ اگر انہیں آئندہ انتخابات میں واضح اکثریت نہ ملی تو وہ پھر بھی اقتدار کے لئے پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن سے مدد نہ لینگے نہ اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ کریں گے بغیر تحریک انصاف کا یوٹرن تو مشہور ہےلیکن اگر عمران خان کے اس بیان کو سچ مان کر تبصرہ و تجزیہ کیا جائے تو پھر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا اقتدار میں آنے کے لئے ملاپ کوئی انہونی بات نہ ہو گی سیاست میں سب چلتا ہے دونوں جماعتوں میں کئی چیزیں اور اقدار مشترک ہیں لاہور سے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں بڑا معرکہ ہو گا چند حلقوں میں سخت مقابلے کی توقع ہے جبکہ باقی نو دس حلقے تو مسلم لیگ ن کے لئے کلیئر ہیں شہباز شریف نے لاہور میں تعمیر و ترقی کا اتنا کام کیا ہے کہ ووٹر کے لئے کوئی دوسری آپشن چھوڑی ہی نہیں خواجہ سعد رفیق کا مقابلہ عمران خان سے ہو گا یہ بڑا اہم مقابلہ ہو گا خواجہ سعد رفیق ایک پرانے اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں عمران خاں کی شخصیت بھی زور دار ہے دونوں کے ساتھ مثبت اور منفی پہلو چسپاں ہیں خواجہ سعد رفیق کا الزام ہے کہ این اے 131 کا ان کا حلقہ ٹیلر میڈTailor madeہے یعنی اس میں اسی طرح کتربیوند کی گئی ہے کہ وہ جیسے عمران خاں کے لئے بنایا گیا ہے اس حلقے میں سے غریب بستیاں اور مڈل کلاس کے علاقے کاٹ دئیے گئے جو کہ مسلم لیگ ن کے چاہنے والوں کے علاقے ہیں یہاں مسلم لیگ ن نے کام بھی بہت کیا تھا خواجہ سعد تسلیم کرتے ہیں ڈیفنس کے پوش علاقے تحریک انصاف کے حامی ہیں البتہ ان کا کہنا ہے کہ یہاں سے پھر بھی مسلم لیگ ہی کامیاب ہو گی اس طرح مریم نواز پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ان کے کاغذات این اے 125 اور 127 سے منظور ہو گئے ہیں مسلم لیگ ن سمجھتی ہے کہ ان کی کامیابی میں کوئی شک نہیں ہے سپیکر سردار ایاز صادق جنہوں نے ٹکٹ کے لئے درخواست نہیں دی تھی کو نواز شریف نے اصرار کرتے کہا کہ آپ ضرور کاغذات جمع کرا ئیں جس پر سردار ایاز صادق انتخابات لڑنے پر رضا مند ہوگئے وہ بھی مضبوط امیدوار ہیں۔ٹکٹوں کی تقسیم ہر مقبول جماعت کے لئے اہم ہوتا ہے تحریک انصاف نے بہت سے ایکٹ ایبلز کو آخری ہفتوں میں شامل کیا ہے پرانے اور دیرینہ کارکن اور امیدوار ہکا بکا منہ دیکھتے رہ گئے کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی اصل تحریک انصاف سکڑ گئی اس جماعت میں ملاوٹ شامل ہو گئی ہے اس انتخابات میں ایک اور اہم بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ اس مرتبہ انتخابی مہم دو تین ہفتوں تک محدود ہو گی شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر جماعت ایک طویل عرصے سے اپنا نقطہ نظر بیانیہ کسی نہ کسی صورت عوام کے سامنے لا رہی ہے الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کے بہت زیادہ پھیل جانے اور زیادہ متحرک ہونے کے بعد بڑی تعداد میں جلسے جلوسوں کی اب اتنی ضرورت بھی نہ رہی ہے ۔

پہلی بار سیاسی جماعتیں منشور اور ایجنڈے کے بغیر مہم چلارہی ہیں

پہلی بار یہ بھی دیکھنے میں آر ہا ہے کہ جماعتیں منشور اور ایجنڈے کا کم ہی ذکر کر رہی ہیں ایک زمانہ تھا کہ سارا زور منشور پر دیا جاتا تھا اب مسلم لیگ ن کا بیانہ ووٹ کو عزت دو ہے اس کے اندر کئی مفہوم اور معنی پنہاں ہیں خلائی مخلوق کا بھی ذکر ہوتا ہے عمران خان کا زیادہ زور کرپشن کے خاتمے کی تکرار پر ہے لیکن یہ وہ ہی تحریک انصاف ہے جس نے نہ معلوم وجوہات یا مجبوریوں کی بنا پر پیپلز پارٹی کو سینٹ کے انتخابات میں ووٹ دے دیا تھا جبکہ عمران خان اس جماعت کو کرپٹ جماعت قرار دیتے ہیں عمران خان کے آٹھ لاکھ گھنٹے والے جیٹ طیارے میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانے پر بھی مخالفین سخت معترض ہیں پھر زلفی بخاری کو عمران خان جس انداز میں اور جس طریقے سے ساتھ لے گئے اس سے بھی کئی انگلیاں اٹھی اور سوالات نے جنم لیا۔ بہرحال وقت تیزی سے گزر رہا ہے اب سب توقع کر رہے ہیں کہ انتخابات صاف شفاف منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ماحول میں ہو جائیں اگر ایسا نہ ہوا تو آئندہ نتائج پر تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے ہمارا ملک کسی تنازع جھگڑے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔بیگم کلثوم نواز کی تشویشناک صحت نے مسلم لیگیوں کو پریشان کر رکھا ہے ہمدردی کی ایک لہر اٹھ رہی ہے کہ نواز شریف کن مصائب سے گزر رہے ہیں لندن فلیٹس کی اگر منی ٹریل انہیں ملی تو نواز شریف کے حوالے سے کرپشن ٹریل بھی انہیں ملی مسلم لیگی سوال کرتے ہیں کہ کیا نواز شریف کو صرف کرپشن کے الزامات کی ہی سزا مل رہی ہے یا کچھ اندر اور وجوہات بھی ہیں شہباز شریف سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ کوئی ایسا کردار ادا کریں کہ آئندہ انتخابات متنازعہ نہ ٹھہریں یہ ہی قوم اور ملک کے مفاد میں ہے ورنہ یہ پہلی بار ہو گا کہ پنجاب اپنی محرومی کا رونا رو رہا ہو گا۔

تازہ ترین
تازہ ترین