آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
1996ء میں صدر فاروق لغاری نے وزیراعظم بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو برطرف کردیا لیکن فاروق لغاری کے ہاتھوں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے سے قبل ہی خفیہ ایجنسیاں ان کی حکومت کے خلاف سرگرم ہوچکی تھیں۔ بینظیر حکومت کے آخری دنوں میں ہی خفیہ ایجنسیاں مالیاتی اداروں، سیکریٹریٹ، جیلوں، سندھ انتظامیہ میں بینظیر حکومت کے اپنے من پسند افراد تعینات کرنے کا انتخاب کر چکی تھیں اور ان کو کسی طرح اہم عہدوں پر تعینات کروا بھی چکی تھیں۔ جب بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ان کی حکومت کی شخصیات گرفتار ہوئیں تو کراچی میں بینظیر حکومت کے اراکین و عملداروں سے تفتیش اور ان پر تشدد کا مشاہدہ کرنے کیلئے خفیہ فوجی ایجنسیوں کے عملدار میڈیا کے اراکین کو بھی مدعو کرتے پھرتے تھے۔
بینظیر بھٹو اور ان کی پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف ایجنسیوں کی ریشہ دوانیوں کی تاریخ دو دہائیوں پر محیط تھی اور ان ایجنسیوں کا میدان جنگ اور تختہ مشق سخن بھٹوؤں کا آبائی صوبہ سندھ تھا۔ تاریخ کے اوراق کچھ یوں پلٹ کر کہتے ہیں: پاکستان میں جب ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو جیسے وزیر اعظم کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں تیسرا مارشل لا نافذ کیا تو ان کا آبائی صوبہ سندھ اس کے خلاف مزاحمت کے اگلے مورچوں پر تھا، تب سوا کروڑ سندھیوں کی آنکھوں کے سامنے

ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی اور ان کے تابوت کو فوجی ہیلی کاپٹر اور سنگینوں کے سخت پہرے میں کرفیو لگا کر ان کے گاؤں گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں خاموشی کے ساتھ تدفین نے سندھ میں ضیاء اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک آتش فشاں کی شکل اختیار کرلی جو 1983ء میں ایم آر ڈی تحریک کے لاوے کی صورت میں پھوٹ پڑی۔ ایم آر ڈی تحریک نے سندھ کی طرف پہلی بار پوری دنیا اور اس کے میڈیا کی توجہ مبذول کروائی۔ ننگے تن اور پاؤں والا سندھی اب جرنیلوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ”قاتل او قاتل بدلو وٹھندا سیں ہر خون جے قطرے قطرے جو“ (قاتل او قاتل! بدلہ لیں گے ہم ہر خون کے قطرے قطر ے کا) یا منظور سولنگی کا گیت”فوج پولیس چوے دھاڑیل پیا گولیوں“(فوج پولیس کہے کہ وہ چور ڈاکو ڈھونڈ رہے ہیں) یا پھر میرے دوست حسن درس کی نظم”وہ درخت پرندے لوگ سبھی مار رہے ہیں“ جیسے اور کئی ایسے گیت سندھ کے جنگل اور شہر میں بجنے،گونجنے لگے تھے۔”دادو، مورو، مہیڑ میں ڈھاٹیئڑا پٹ ڈھول کٹھا ( دادو مورو میہڑ میں میرے صحرائی سجیلے ڈھول بیٹے ذبح ہوئے) اس زمانے کا ایک نوحہ ہے۔
جب پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی قیادت کرتی ہوئی سندھ میں ایم آر ڈی تحریک چلی تو ضیاء الحق نے مارشل لا کے اندر مارشل لا لگا کر سندھ کا دورہ کرنے کا اعلان کیا اور سکھر میں آکر کہا کہ سندھ کے لوگ آئندہ مزید دس برسوں کیلئے مارشل لا چاہتے ہیں۔ جب جنرل ضیاء الحق دادو پہنچے تو پورے شہر میں کرفیو لگا دیا گیا تھا پھر بھی نہ جانے کہاں سے کئی گدھے اور کتے اس ہیلی پیڈ پر نکل آئے اور پھر نہ جانے کس طرف سے سیکڑوں لوگ ”جئے بھٹو“ کے نعرے لگاتے ہوئے نکل آئے جن میں سے کئی لوگوں نے ان کے سامنے تاریخی احتجاج کیا تھا۔ دادو جیل ٹوٹی تھی۔ 1983ء میں دادو میں سندھ کانسٹیبلری کے جوانوں سے ہتھیار لے لئے گئے جس طرح 1971ء میں ڈھاکہ میں ایسٹ بنگال رائفلز کو غیر مسلح کردیا گیا تھا۔ ضیاء الحق نے سندھ میں ایم آر ڈی تحریک کو ”سندھو دیش کی تحریک“ اور سندھو دیش تحریک کے بانی جی ایم سید نے سندھ میں ایم آرڈی تحریک کو ”لچوں لفنگوں اور اقتدار کے بھوکوں“ کی تحریک قراردیا تھا۔ فوج نے سندھ میں ایم آر ڈی تحریک کو کچلنے کیلئے غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ چھ ہزار لوگ فوجی آپریشن میں قتل کئے، سکرنڈ کے قریب قومی شاہراہ پر گاؤں پنہل خان چانڈیو کے دھرنا دیکر قرآن خوانی کرتے ہوئے نہتے لوگوں پر فوجی ٹرک گزار دیئے گئے اور کئی لوگوں کو مشین گنوں سے بھون ڈالا گیا۔ تمام جیلیں سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں سے بھر گئی تھیں وہ گرفتار شدگان کو جیلوں میں گنجائش نہ ہونے کے باعث پولیس گاڑیوں میں بھر بھر کر دور جاکر جنگلوں اور ویران مقامات پر لاکر چھوڑ دیتی، گاؤں کے گاؤں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بکتربند دستوں کے ساتھ ملیامیٹ کردیئے گئے لیکن سندھ میں ضیاء الحق اور اس کے فوجی راج کے خلاف مسلسل مزاحمت چل پڑی تھی، جو روکے نہیں رکتی تھی۔ شاید 1983ء کے سندھ کے واقعات 1790ء کے انقلاب فرانس کے واقعات سے ملتے جلتے تھے۔”تبھی ہم نے فیصلہ کرلیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے1983ء والا سندھ پھر نہیں ہونے دیں گے“انٹرسروسز انٹیلی جنس یا آئی ایس آئی کے ایک افسر نے برطانوی خاتون صحافی اور پاکستان پر کتاب ”بریکنگ دی کرفیو“ کی مصنفہ ایما ڈنکن کو بتایا تھا اور1983ء کی ایم آر ڈی والے سندھ کے بعد کے حالات و حقائق بتاتے ہیں کہ آئی ایس آئی اور پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ یا غیر جمہوری قوتوں نے سندھ کو اپنے سیاسی شعور اور بیداری کی سزا دینے کیلئے اور پھر 83ء جیسی عوامی طغیانیوں سے بچنے کیلئے کیا کیا نہ کیا۔
ایم آر ڈی تحریک کے بعد دیہی سندھ میں ڈاکوؤں اور شہری سندھ میں لسانی تنظیموں کے مسلح گروہوں کی دہشت گردی کے پیچھے فوجی ایجنسیوں کے عملداروں اور اہلکاروں کا ہاتھ تھا جن میں سے کئی لوگوں کے نام سندھ کے کئی سیاسی و سماجی حلقوں میں لئے جاتے ہیں۔
فوج کی ایلیٹ کمانڈوز ایس ایس جی کے سابق اہلکار طاہر نقاش بٹ کے نام سے سندھ کے کچے اور جنگلات میں جرائم کی دنیا یا اس پر نظر رکھنے والوں میں کون ناواقف ہے؟ طاہر نقاش بٹ جو کہ اصل میں خیرپور میرس ضلع سے تعلق رکھتا تھا کا تعلق تنیو قبیلے سے تھا جو طاہر نقاش بٹ کے نام سے سندھ کے ڈاکوؤں میں ”استاد“ کے نام سے مشہور تھا۔ اس نے ہی سندھ کے کچے کے جنگلات میں ڈاکوؤں کے خطرناک گروہوں کو کمانڈو طرز پر منظم کیا اور ان کی تربیت کی تھی۔ تنیو قبیلے کا یہ ایس ایس جی بھگوڑا بعد میں فوج سے مقابلے میں مارا گیا تھا۔ 23مارچ 1985ء کو سکھر سینٹرل جیل کا ٹوٹنا جس میں پروچانڈیو جیسے کئی خطرناک ڈاکو فرار ہو گئے تھے بھی وزیر اعلیٰ غوث علی شاہ کے زمانے میں فوجی آمریت کی کارستانی قرار دی جاتی ہے۔
1986ء میں بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے بعد ان کی پجارو جیپ پر سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کے گاؤں سن کے قریب حملہ کیا گیا تھا۔خوش قسمتی سے بینظیر بھٹو پجارو میں سفر نہیں کر رہی تھیں کہ ان کو اس وقت کی سول انتظامیہ کے کچھ افسروں نے پیشگی اطلاع دیکر خبردار کردیا تھا بعد میں ان افسروں کو زیر عتاب لایا گیا تھا۔ یہ حملہ کھوسو قبیلے سے تعلق رکھنے والے ڈاکوؤں نے کیا تھا جو جی ایم سید کے مرید تھے۔بعد میں ان ڈاکوؤں نے سید کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے یہ حملہ خفیہ فوجی ایجنسی کے ایک میجر کے کہنے پر کیا تھا۔ جی ایم سید نے اس کا انکشاف پریس میں بھی کیا تھا۔ حملے کا مقصد سندھ میں قوم پرستوں اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے درمیان خانہ جنگی کرانا تھا۔
سندھ کو عملی طور پر1988ء سے لیکر1993ء تک ایک بریگیڈئیر اور دو تین کرنل ہی چلایا کرتے تھے اور شاید اب بھی چلاتے ہوں۔ باخبر سیاسی و صحافتی حلقوں کے مطابق برگیڈئیر بااللہ ، کرنل ایوب، کرنل اسحاق، میجر علی، میجر الیاس فقط چند نام ہیں۔جاننے والے جانتے ہیں30 ستمبر1988ء میں حیدرآباد اور پہلی اکتوبر کو کراچی میں لسانی بنیادوں پر قتل عام کا مقصد انتخابات ملتوی کرانا اور غلام مصطفی جتوئی کو وزیر اعظم بنوانا تھا۔ سب سے بڑا خطرہ جو پاکستان کی غیر جمہوری قوتوں کو تھا اور ہے وہ سندھ میں سندھ کے اصل باشندوں یعنی سندھیوں اور اردو بولنے والی آبادی کے درمیاں یا سندھ کے شہروں اور دیہات کے درمیان ہونے والی ایکتا کو کسی بھی طرح نہیں ہونے دینا ہے۔ وہ دن ختم کردیئے گئے جب عزیزآباد کے قریب رہنے والا اردو کا نوجوان شاعر معین قریشی لکھتا تھا:
سندھو ماتا کا پانی چپکے چپکے بین کرتا ہے
کہ ٹھوڑی ریلوے پھاٹک پر سنگینوں کا پہرہ بیٹھ جاتا ہے
اچانک گولیوں کی تیز اک بوچھار ہوتی ہے
بھٹائی قتل ہوتا ہے
مگر ہم کچھ نہیں کہتے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں