آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں جیتنے اور ہارنے والوں کی پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی طوطے کو بذریعہ فال ایسی ٹیم منتخب کرنے کا کہے جو فٹ بال ورلڈکپ جیت لے ۔ انتخابی سرگرمیوں کا بہتر جائزہ لینے ، اور صورت ِحال کو قبل ازوقت بھانپنے کے کچھ طریقے ہیں۔ لیکن یہ دو اور دو جمع چار والا معاملہ نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل عوامل ہوا کا رخ جاننے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ انتخابی اکھاڑے میں اترنے والے ہزاروں امیدوار وں کی جانچ کا کوئی حتمی بیرومیٹر موجود نہیں لیکن یہ عوامل سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی قسمت کے فیصلے کی ایک جھلک ضرور دکھاتے ہیں۔ 

ان میں پہلا عامل امیدوار کا چنائو ہے ۔ ضروری ہے کہ آپ جانتے ہوں کہ طاقتور کون ہے اور کمزور کون۔ اس حلقے کی تاریخ سے آگاہ ہوں۔ آپ کی ماضی پر نظر ہو کہ یہاں سے روایتی سیاسی شخصیات نے ہی کامیابی حاصل کی ہے یا غیر متوقع اپ سیٹ بھی ہوئے ہیں۔ ماضی کی طرح ان انتخابات میں وہ افراد جو اپنے حلقوں کی سائنس سے واقف ہیں،وہ علاقے میں دکھائی دینے والے نوواردوں کی نسبت ابھرنے والی انتخابی حرکیات سے بہتر استفادہ کرسکتے ہیں۔
یہاں میں ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کی بات نہیں کررہا۔ یہ بذات ِخود ایک احمقانہ اصطلاح ہے ۔ اصولی طور پر پاکستان کا ہر شہری الیکٹ ایبل ہے ، چاہے وہ الیکشن میں حصہ لے رہاہو یا نہیں۔ میں اُن لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو اپنے حلقوں کی جانکاری رکھتے ہیں۔ اُنہیں عوام کی ضروریات اور مشکلات کا علم ہے ۔ اس سے بھی بڑھ کر، وہ منظم جماعت یا انفرادی یا تنظیمی پلیٹ فارم سے نئے گروہوں کی طرف ہاتھ بڑھانے کے ذرائع رکھتے ہیں۔اگر کوئی نووارد اپنے حلقے کے رائے دہندگان کے ساتھ رابطے میں رہے ، اوروہ اُنہیں تحریک دینے کے قابل ہو تو بھی الیکٹ ایبلز کو مات دے سکتا ہے۔
دوسرا عامل انتخابی حلقہ بندیاں ہیں۔مقامی سیاست پر حلقہ بندیوں کا اثر یقینی ہے ۔ ان حلقہ بندیوں کا بغور جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ کچھ اہم علاقوں میں یہ پیش رفت محض الیکشن کمیشن کی معمول کی کارروائی نہیں تھی ۔ روایتی طور پر مضبو ط گڑھ کو کاٹ کر کسی اور حلقے میں شامل کرکے نئے سیاسی بلاک تشکیل دینے سے شہری اور دیہی حلقوں میں بہت سے سیاسی معروضات تبدیل ہوگئے ہیں۔ مخصوص کیسز میں امیدواروں کو ایسے علاقے دئیے گئے ہیں جواُن کے مقامی نیٹ ورک کو ایک حدبندی میں لے آتے ہیں، جبکہ کچھ مشہور سیاست دانوں کو ایسے علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے جہاں وہ آج تک نہیں گئے، اور نہ ہی وہاں کی سرگرمیوں میں کبھی شریک رہے ہیں۔
لیکن اب چونکہ حلقہ بندیاں ہوچکیں، اس لئے کسی بھی نشست کے لئے اس حلقے میں ہونے والے انتخابی معرکے کا قبل ازوقت بغور جائزہ لینا ہوگا ۔ یہ ایک مشکل عمل ہے ۔ آپ کو یونین کونسلوں اور وارڈوں کو دیکھنا ہوگا کہ اُنہیں کس مخصوص حلقے میں شامل کیا گیا ، یا نکالا گیا ہے ۔ آپ کو نئے اور پرانے حلقے کے نقشے کا موازنہ کرنا ہوگاکہ اب وہاں کو ن سے نئے مقامی ایشو سامنے آئے ہیں جو سیاسی طور پر اہم ثابت ہوسکتے ہوں۔ یہ ایک مشکل کام ہے ، لیکن اگر آپ کسی حلقے کے نئے حقائق جاننا ، اور تجزیہ کرتے ہوئے درست پیش گوئی کرنا چاہتے ہوں تو یہ عرق ریزی ضروری ہے ۔
تیسرا عامل صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ ضروری ہے کہ صر ف قومی اسمبلی کے امیدوار کی طاقت یا کمزوری کوہی نہ دیکھا جائے بلکہ یہ بھی کہ وہ حلقے میں اپنے ’’معاون ‘‘ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے ساتھ کس قسم کا تال میل رکھتا ہے ۔ اعلیٰ سطح کے امیدوار وارڈوں اور یونین کونسلوں میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرتے ہیں، اوروارڈ اور یونین کونسل کو صوبائی سطح کے امیدوار سنبھالتے ہیں۔ اگر یہ تال میل افراد کی رقابت، چپقلش اور تنائو کا شکار ہوتو قومی اسمبلی کا امیدوار کسی صورت اپنی نشست نہیں جیت سکتا۔ قومی اسمبلی کے ٹکٹوں کو صوبائی امیدواروں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی میں آنے والے نووارد ایک درد ِ سر بن چکے ہیں۔ وہ اپنے پینل سمیت داخل ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ نہ صرف اعلیٰ سطح ُپر بلکہ مقامی سطح پر بھی ناراضی کا باعث بنے ہیں۔چنانچہ نشست جیتنے یا ہارنے کا دارومدار صرف کسی امیدوار کے تگڑے یا کمزورہونے پر نہیں۔ نتیجے کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کیا پارٹی قومی اور صوبائی سطح پر کامیاب تال میل قائم کرپائی ہے یا نہیں۔
چوتھا عامل رقم اور وسائل ہیں۔ الیکشن کے قواعد وضوابط اپنی جگہ پر ، لیکن انتخابی مہم ، پوسٹر، الیکشن آفس، ٹرانسپورٹ، کھانا، افرادی قوت اور حلقے میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک وسائل کی حرکت کے لئے مالی وسائل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ امیدواروں کے پاس مالی وسائل کی قلت ایک خامی تصور ہوتی ہے ۔ لوگوں کو ووٹ دینے پر آمادہ کرنا ، اور اُنہیں گھروں سے نکالنا ایک سائنس ہے ۔ یہ سائنس اُس وقت دھری کی دھری رہ جاتی ہے جب کسی جماعت کے حق میں، یا اس کے خلاف کوئی جذباتی تحریک برپا ہوچکی ہو۔
تاہم موجودہ انتخابات میں کوئی جذباتی یا انقلابی لہر موجزن نہیں۔ یہ بات پورے وثوق سے اس لئے کہی جاسکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی جیسی تبدیلی کی دعویدار جماعت بھی مضبوط امیدواروں پر تکیہ کرنے پر مجبور ہے ۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھ رہی کہ یہ امیدوار کہاں سے آرہے ہیں؟ ان کا ماضی کیا ہے ؟ لیکن یہ انتخابات محض حلقوں کی بنیاد پر بھی نہیں ہیں۔ یہاں کوئی نیٹ ورک آسانی سے کامیابی کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لئے بھاری رقم خرچ کی جائے گی، اور بہت زیادہ سرعت سے کی جائے گی تاکہ اپنا پیغام پہنچایا جاسکے ۔ عوام کو یہ باور کرانا اہمیت کا حامل ہے کہ کون سا امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں ہے ۔ رقم خرچ کیے بغیر انتخابی مہم باور آور ثابت نہیں ہوگی۔ کمزور مہم کی وجہ سے ووٹر امیدوار، جس کے بارے میں اُس نے کبھی سنا تک نہیں، کے بارے میں تذبذب کا شکار رہے گا۔
پانچواں عامل حلقے کی نوعیت ہے۔ انتخابی حلقے کی کئی اقسام ہیں، جیسا کہ دیہی، شہری، نیم شہری، نیم دیہی وغیرہ۔ اس کے علاوہ جغرافیائی خدوخال کے حوالے سے پہاڑی، میدانی، وادی کا فرق ہوسکتا ہے ۔ معاشی عامل بھی انتخابی حلقوں کی نوعیت کا تعین کرتے ہیں۔
ان کا تعلق صنعت یا زراعت ، یا عوام کی اکثریت کے روزگار کے ذرائع سے ہوتا ہے ۔ حلقوں کا ووٹنگ پیٹرن کسی گروہ یا طبقوں کی صورت ہوتا ہے ۔ ان خدوخال کو جانے بغیر کسی حلقے کا الیکشن والے دن رویہ سمجھنا بہت مشکل ہے ۔
چھٹا عامل حلقے میں موجود منظم گروہوں اور کھیل خراب کرنے والوں کی موجودگی اور طاقت ہے ۔ جن حلقوں میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ، وہاں منظم گروہوں کی کامیابی کے امکانات تو نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن وہ کچھ ووٹ لے کر اہم کھلاڑیوںکی امیدوں پر پانی پھیر سکتے ہیں۔ جو امیدوار کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی وجہ سے متوقع شکست سے بچنا چاہتے ہیں، اُن کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی فتح کا مارجن بڑھائیں۔ اس کے لئے اُنہیں مزید ہاتھ پائوں مارنے ہوں گے ۔ وہ جماعتیں جو اپنی سابق حمایت میں اضافہ کرنے میں ناکام رہیں گی، اُنہیں تحریک ِ لبیک جیسے گروہوں کے ہاتھوں زک پہنچ سکتی ہے ۔
آخر میںیہ کہنا پڑے گا کہ مندرجہ بالا تمام عوامل (اور مزید کئی ایک )انتخابی حرکیات کی نشاندہی کرسکتے ہیں بشرطیکہ انتخابات اور ان کے نتائج پہلے سے ہی طے نہ کرلئے جائیں۔ کچھ ناقدین کے نزدیک یہ خدشہ اپنی جگہ پر موجود ہے ۔ بہرحال یہ عوامل مختلف صوبوں کے مختلف حلقوں کے نتائج کی پیش گوئی کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایسے گہرے جائزے کے بغیر انتخابی نتائج کی پیش گوئی ممکن نہیں۔ بصورت دیگر، مبصرین اپنا اپنا پنڈال سجائے ہوئے تھیلے میں سے کبوتر نکالنے کی کوشش میں ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں