آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں یہ بات اپنے ایک دو کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ ’’عوامی جمہوریت اور حقیقی وفاق‘‘ ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔پاکستان کی گزشتہ تقریباً 70 سالوں کی تاریخ کا جائزہ لینے کے بعد جب موجودہ صورتحال پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچنا پڑتا ہے کہ 1947 ء میں آزادی حاصل کرنے والے پاکستان کے عوام کے ساتھ اب تک انصاف نہیں کیا گیا‘ پاکستان کے عام لوگوں کو تو اس ملک کا شہری ہی نہیں سمجھا گیا بلکہ ان کے ساتھ عملی طور پر ’’غلاموں‘‘ جیسا سلوک کیا جاتا رہا ہے‘ اب جب پاکستان اور بشمول سندھ تینوں چھوٹے صوبوں کے پڑھے لکھے نوجوان جنہوں نے پاکستان کی آزادی کی تاریخ تفصیلی طور پرپڑھی ہے اور اس سلسلے میں کئی تاریخی دستاویزات حاصل کرکے ان کا مطالعہ کیا ہے ان کی اکثریت مباحثوں اور جلسوں میں اپنی تقریروں میں یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستان میں شامل ریاستوں کے عوام نے پاکستان کی آزادی کی تحریک میں اپنے من اور دھن کے ساتھ جس انداز میں شرکت کی تھی وہ اس پاکستان کے لئے کی تھی‘ انہوں نے اس سلسلے میں خاص طور پر قائد اعظم کی مختلف تقریریں پڑھی ہیں وہ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا قائد اعظم نے جس پاکستان حاصل کرنے کی بات کی تھی یہ وہی پاکستان ہے؟ وہ یاد دلاتے ہیں کہ قائد اعظم کو کسی بڑے عہدے کا لالچ تھا تو انہوں نے کانگریس کے

اس وقت کے سربراہ گاندھی کی طرف سے انہیں لکھے گئے خط میں جو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن حاصل کرنے کے مطالبہ سے دستبردار ہوجائیں تو کانگریس انہیں متحدہ ہندوستان کا سربراہ بنانے کے لئے تیار ہوجائے گی مگر کیا قائد اعظم نے گاندھی کی یہ پیشکش قبول کی‘ قائد اعظم نے تو اس پیشکش کو سرعام ٹھکرا دیا اور پاکستان کی تحریک کی دل کی گہرائیوں سے طبیعت ناساز ہونے کے باوجود قیادت کرتے رہے‘ آج کل کچھ لوگ نجی محفلوں میں دبے دبے الفاظ میں قائد اعظم پر نکتہ چینی کرتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد بغیر کسی انتخابات کے خود بخود پاکستان کے گورنر جنرل بن بیٹھے‘ اب ان سے کوئی پوچھے کہ پاکستان جب بنا تو کسی کو تو اس ملک کا سربراہ ہونا تھا تاکہ وہ بعد میں انتخابات کراسکے‘ اس اسکیم کے تحت قائد اعظم پاکستان کے گورنر جنرل بننے کے لئے راضی ہوئے تھے۔ دراصل بات یہ ہے کہ اس صورتحال میں نئے وجود میں آنے والے ملک پاکستان کے عوام قائد اعظم کے علاوہ کسی اور فرد کو پاکستان کے گورنر جنرل کے طور پر قبول نہ کرتے۔ اس سلسلے میں فقط قائد اعظم ہی سارے صوبوں کے عوام کے لئے نئے ملک کے وقتی سربراہ قابل قبول تھے یہی وجہ ہے کہ جب قائد اعظم نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھایا تو کسی ایک فرد نے بھی اعتراض نہیں کیا بلکہ تائید میںشہر‘ شہر اور گلی گلی جلوس نکالے گئے ‘ قائد اعظم دل سے پاکستان کو حقیقی جمہوری اور حقیقی وفاقی ملک بنانے کے لئے پرعزم تھے مگر پاکستان بنتے ہی ان کی طبیعت مزید ناساز ہوگئی۔ پاکستان کی تحریک میں متحرک حصہ لینے والے اور قائد اعظم کے حقیقی پروانے ہونے کے ناطے کچھ لوگ خانگی محفلوں میں کہتے ہیں کہ آخری دنوں میں ان کی طبیعت اتنی ناساز ہوگئی تھی کہ کئی فیصلے ان سے ایسے بھی کرائے گئے جنہیں وہ کبھی بھی قبول نہیں کرتے اگر ان کی طبیعت ٹھیک ہوتی اور فل فارم میں ہوتے۔ اس سلسلے میں سندھ کے کئی سینئر سیاسی رہنما ایسے کئی فیصلوں کے حوالے دیتے ہیں‘ اس وقت کی مرکزی حکومت کی طرف سے سندھ کو کراچی کے بجائے کسی اور جگہ کو اپنا دارالحکومت بنانے پر مجبور کرنے کے لئے اس فیصلے پر جب قائد اعظم سے رضا مندی حاصل کی گئی اس وقت ان کی طبیعت کی پتہ نہیں کیا حالت تھی‘ بعد میں اس فیصلے کو بہانہ بناکر پہلے اس وقت کے سندھ کے وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑو پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ اس فیصلے کو قبول کریں جب کھوڑو اور سندھ حکومت نے یہ فیصلہ قبول نہیںکیا تو ایوب کھوڑو کو سندھ کی وزارت اعلیٰ سے ہٹایا گیا مگر اس کے باوجود مرکزی حکومت اپنے اس فیصلے کو نہ منواسکی کہ سندھ کراچی سے بیدخل ہوجائے اور اپنا دارالحکومت کہیں اور بنائے کیونکہ سندھ کا کوئی بھی نیا وزیر اعلیٰ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھا بلکہ قائد اعظم کے کچھ سینئر ساتھی اس وقت بھی نجی محفلوں میں اس شک کا اظہار کرتے رہے کہ قائد اعظم کی وفات کے کچھ اسباب اور بھی تھے۔ مثال کے طور پر یہ لوگ پوچھتے رہے کہ شدید بیمار قائد اعظم کو جب زیارت بلوچستان سے ہوائی جہاز میں لایا گیا اور ہوائی اڈے سے گورنر جنرل ہائوس لانے کے لئے خراب ایمبولینس کیوںفراہم کی گئی جو ڈرگ روڈ پر ایک جگہ خراب ہوگئی‘ یہ بھی کم حیرت ناک اور افسوسناک نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کوئی اور پولیس کی گاڑی بھی نہیں تھی لہٰذا اس وقت ایک رائے یہ تھی کہ قائد اعظم کو فوری میڈیکل ایڈ نہ ملنے کی وجہ سے وہ راستے میں ہی انتقال کرگئے‘ افسوس تو یہ ہے کہ نہ فقط اس وقت کی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی تحقیقات کرائی بلکہ آج تک کسی حکومت نے ان ’’شکوک‘‘ کو زائل کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ قائد اعظم کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا؟ اس سلسلے میں قائد اعظم کے فدائیوں کو آج تک مطمئن نہیں کیا گیا۔ اب ہم جمہوریت اور صوبوں کے اختیارات کے بارے میں اب تک نافذ کیے گئے نظام کے حوالے سے بات کریں گے۔ قائد اعظم نے ان دونوں ایشوز پر کئی بار اپنے خیالات انتہائی صاف طور پر ظاہر کیے ۔ 1940 ء میں لاہور میں پیش کی گئی قرارداد پاکستان جو قائد اعظم کی ہدایات کے تحت ڈرافٹ کی گئی تھی اس کو سارے ہندوستان سے آنے والے ہزاروں مسلمانوں نے منظور کیا‘ افسوس تو یہ ہے کہ پاکستان میں آنے والے ایک سے دوسرے حکمرانوں نے اس قراردادکو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ اس وقت میں فی الحال قرارداد کے دو متعلقہ حصے پیش کررہا ہوں۔ اس قرارداد کے ابتدائی حصے میں کہا گیا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس پرزور انداز میں یہ بات دہراتا ہے کہ ’’وفاق‘‘ کی جو اسکیم گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ء کا حصہ ہے وہ اس ملک (پاکستان) کی مخصوص حالات کے لئے نہ فقط مکمل طور پر موزوں نہیں بلکہ قابل قبول بھی نہیں‘‘ آگے چل کر اسی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’’نئے ملک پاکستان کے یونٹس (صوبے) خود مختار اور اقتدار اعلیٰ کے مالک ہوں گے‘‘ صوبوں کے خو د مختار اور اقتدار اعلیٰ ہونے کے بارے میں پاکستان میں اب تک کیا وعدہ خلافی نہیں کی گئی۔ اس کا ذکر بعد میں کرتے ہیں۔ پہلے اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ’’جمہوریت‘‘ اور عام لوگوں کا کیا حشر کیا گیا؟ قائد اعظم کی اس سلسلے میں کئی تقریریں ہیں جن میں اس بات پر خاص طور پر زور دیاگیا تھا کہ پاکستان میں مکمل جمہوریت ہوگی اور اس کے حقیقی مالک عوام ہوں گے جیسے میں کالم میں لکھ چکا ہوں کہ قائد اعظم نے پاکستان کا غیر منتخب گورنر جنرل بننا اس وجہ سے قبول کیا کہ نئے ملک کی حکومت کو انتخاب کرانے تھےمگر قائد اعظم کی طبیعت شدید ناساز ہونے کی وجہ سے وہ اور معاملات کی طرح اس ایشو پر بھی توجہ نہیں دے سکے مگر قائد اعظم کے بعد اقتدار کے والیوں نے کیوں فوری انتخابات نہیں کرائے۔ (جاری ہے)
نوٹ:یہ انتہائی اہم موضوع پر جی این مغل صاحب کے ذاتی خیالات ہیں اگر کسی کو کالم نگار کی ذاتی رائے سے اختلاف ہو تو ہمارے ادارتی صفحات حاضر ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں