آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کا دور دورہ ہے ہر امیدوار جیتنا چاہتا ہے ویسے بھی ہمارے معاشرے میں ہر کوئی جیت کا خواہش مند ہے، ادارے فتح مند ہونا چاہتے ہیں اور دوسروں کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں، عمران خان نوا زشریف اور آصف زرداری پر غالب آنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ سب جیتیں گے تو بہت سے ادارے، جماعتیں اور افراد ہاریں گے بھی۔ سوچنا یہ ہے کہ کیا یہاں کسی کو ہارنے کا حوصلہ ہے یا ہر کوئی کسی بھی صورت میں جیتنا ہی چاہتا ہے۔
میاں محمد بخشؒ نے جیت اور ہار کے فلسفے کو سب سے الگ طریقے سے یوں بیان کیا ہے؎
جتن جتن ہر کوئی کھیڈے، ہارن کھیڈ فقیرا
جتن دا مُل کوڈی پیندا، ہارن دا مُل ہیرا
میاں صاحبؒ کے بقول اس دنیا میں ہر کوئی جیتنے کے لئے کھیلتا ہے فقیر کو چاہئے کہ وہ ہارنے کے لئے کھیلے۔ پھر کہتے ہیں کہ جیتنے کی قیمت کوڑی کے برابر نہیں مگر ہارنے کی قدر ہیرے کے برابر ہے۔ جس معاشرے میں لوگ ہر صورت میں فتح یاب ہونا چاہیں کوئی اصول، کوئی قاعدہ مدنظر نہ رکھیں اخلاقیات سے کھلواڑ کر یں تو ظاہر ہے ایسی جیت کی قیمت کوڑی سے بھی کم ہے اور تاریخ نویس اس جیت اور فتح کو کوڑے دان میں پھینک دے گا۔ دوسری طرف ہارنے والا اگر اصولوں پر کھڑا رہے، اس کی اخلاقی بنیاد مضبوط ہو تو اس کی ہار بھی جیت سے بڑھ کر ہوتی ہے تاریخ پڑھنے والے سب جانتے ہیں کہ وہ جو سامنے ہار

رہا ہوتا ہے تاریخ میں جیت رہا ہوتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو بار بار کہتے رہے کہ اصل ہار جیت مادی نہیں تاریخی ہے یعنی تاریخ میں زندہ رہنا ہے تو اصولوں کی خاطر ہار بھی جائو، موت کو بھی گلے لگا لو، پھانسی کے پھندے پر بھی جھول جائو۔
تاریخ میں بڑا وہ ہوتا ہے جس میں ہارنے کا حوصلہ اور جرأت ہو۔ ہمارے معاشرے میں ادیبوں، شاعروں، ججوں اور سیاستدانوں کو بابے بننے کا بہت شوق ہے۔ یہ بابے تو بن جاتے ہیں مگر بڑے نہیں بن پاتے، بڑا بننے کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے، ہارنا پڑتا ہے، دوسرے کی فتح اور اپنی شکست کو نظام کی خاطر برداشت کرنا پڑتا ہے مگر ہمارے بابے بھی دوسروں کو دبانے، سزائیں دینے اور رعب جھاڑنے میں لگے رہتے ہیں کہ انہیں اپنی فتح سے بہت پیار ہے، انہیں علم نہیں کہ تاریخ میں ان کی یہ عارضی جیت کوڑے دان کی زینت بنے گی۔ دنیا مطلب کی ہے، منافع خور کیوں خسارے کا سودا کرے گا؟ طالب علم وہ علم کیوں حاصل کرے گا جس کی دنیا میں قدر و قیمت نہیں؟ سوداگر وہ سامان کیوں اٹھائے گا جس میں نقصان ہو؟ وکیل وہ مقدمہ کیوں لڑے گا جس سے اس کو مالی فائدہ نہ ہو؟ صحافی اس سیاستدان یا جماعت کی حمایت کیوں کرے گا جس کے حکومت میں آنے کا امکان نہ ہو؟ دانشور اس ہیرو کا ساتھ کیوں دیں جو زوال کا شکار ہو؟ عوام اسے ووٹ کیوں دیں جس پر مصیبتوں کے پہاڑ پہلے سے ٹوٹے ہوئے ہوں اور مقدمات کے فیصلے اس کے خلاف آ رہے ہوں؟ پولیس اور نوکر شاہی اس کے ساتھ کیوں کھڑی ہو جس کے اقتدار کا سورج غروب ہو رہا ہو؟ جب بھی کسی کو اس سوال کا سامنا ہو تو وہ ’’ہارن کھیڈ فقیرا‘‘ کا فلسفہ ضرور جان لے۔ جو سچے اور جھوٹے اصلی اور نقلی میں تمیز نہیں کرتا جو سُچا سودا نہیں اٹھاتا دراصل وہ خسارے میں ہے اس کی دلی طمانیت اور تاریخی حیثیت اسی سے طے ہوتی ہے کہ وہ اقتدار، دولت، فائدے، عروج اور سکھ کا ساتھ دے یا وہ اصول کی بنیاد پر اس کے برعکس نقصان کا سودا کرے مگر میاں محمد بخش کے بقول اس کے انعام میں تاریخ میں، ابدمیں اور اخلاقیات میں ہیرے جیسی قدر کا حامل ہو۔ چند دن کے واقعات کو دیکھیں تو مڈل کلاسیا داماد سب پر بازی لے گیا وہ کام جو فرسٹ کلاسیے بھائی، بیٹے اور بھتیجے نہ کر سکے کیپٹن (ر) صفدر نے کر دکھایا ،باقیوں نے مصالحت کی عافیت میں پناہ لی، جبکہ قابل پروفیسر کے نالائق شاگرد صفدر نے اپنی کلاس کے عین مطابق دامادی کا قرض اتارتے ہوئے مزاحمتی جلوس نکالا اور یوں سب سے ممتاز ہوا۔ شہباز شریف کی سمجھداری بھائی سے محبت، اداروں کی مفاحمت پر یقین کے بارے میں کوئی دو آراء نہیں لیکن وہ اپنے بھائی کے استقبالی جلوس کو مزاحمتی رنگ دینے کے بجائے انتخابی رنگ میں لے گئے، لاہور ایئر پورٹ کبھی بھی شہر سے اتنا دور نہیں تھا کہ کوئی جانا چاہے تو قریب بھی نہ جا سکے۔ شہباز شریف اس موقع سے فائدہ اٹھا کر مزاحمتی بیانیے کا سرخیل بن سکتے تھے مگر اپنے جلوس کو انڈر اسٹینڈنگ کے تحت مال روڈ پر ہی پھیرنے سے وہ حبیب جالب کے آئیڈیل ہیرو کے تصور پر پورے نہ اتر سکے وہ آئے روز حبیب جالب کی نظمیں تو پڑھتے ہیں لیکن مزاحمت کا وقت آیا تو انہوں نے مفاہمانہ رنگ اپنا لیا۔ ن لیگ کی سیاست میں اب دو راستے نہیں رہے مزاحمت کے علاوہ جو بھی پگڈنڈی اختیار کی گئی وہ سنسان صحرائوں میں لے جائے گی۔
کاش دنیا میں کوئی ایسا نظام ہوتا جس میں کوئی بھی نہ ہارتا۔ ماڈرن دنیا میں اسکولوں میں کسی بھی بچے کو فیل نہیں کیا جاتا سبھی کو پاس کر دیا جاتا ہے میدان سیاست میں ایسا ممکن نہیں ایک گھوڑے نے دوسرے گھوڑے کو مات دینی ہی دینی ہے بس اصولوں اور اخلاقیات کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔تاریخ میں ہر ایک کا احتساب اور گرفت ہوتی ہے وہ لوگ جو اصولوں سے بالاتر ہو کر اِدھر اُدھر کے سہارے لے کر جیت جاتے ہیں ان کی فتح دائمی نہیں، عارضی ہوتی ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ بظاہر پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت بنتی نظر آ رہی ہے، عمران خان جیت رہے ہیں مگر کیا اس جیت کی تیاری بھی ہے؟ توقعات بہت ہیں اگر چھ ماہ میں حسب توقع نتائج آنے نہ شروع ہوئے تو مایوسی بڑھے گی اور شطرنج کی جیتی ہوئی بازی کو اپوزیشن شہ مات دینا شروع کر دے گی۔ عمران خان کو چاہئے کہ اقتدار میں آ کر عام معافی کا اعلان کر دے اور نئی صبح کا آغاز کرے وگرنہ انتقام در انتقام کا سلسلہ جاری رہے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں