آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭اسامی یا آسامی؟

اخبارات میں ملازمتوں کے اشتہار میں اکثرلکھا ہوتا ہے ’’آسامیاں خالی ہیں‘‘۔ حالانکہ آسامی غلط املا ہے۔ درست املا اسامی ہے۔ اسامی عربی لفظ ہے اور قیوم ملک نے اپنی کتاب ’’اردو میں عربی الفاظ کا تلفظ ‘‘ میں لکھا ہے کہ’’ اسامی‘‘ لفظ ’’اسم ‘‘کی جمع الجمع ہے۔یعنی واحد ہے’’ اسم‘‘، اسم کی جمع ’’اسما ء‘‘ اور اسم کی جمع الجمع ’’ اسامی‘‘ ہے ۔البتہ اردو میں اسامی کا لفظ واحد کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔اردو میں اسامی جب واحد کے طور پر آتا ہے تو اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں ، مثلا ً کسان یا کاشت کار۔ وکیلوں کی اصطلاح میںجس کے خلاف عدالت میں فریاد یا شکایت کی جائے وہ اسامی ہے نیز موکل یعنی جس کی عدالت میں وکیل پیروی کرے اسے بھی اسامی کہتے ہیں۔ جس کو لوٹنا ہو یا ٹھگنا ہو اس کو بھی اسامی کہا جاتا ہے، گویا شکار کے مفہوم میں بھی آتا ہے جیسے: موٹی اسامی ہے۔

لیکن ملازمت کے اشتہار میں اسامی کیوں لکھا جاتا ہے؟ اس لیے کہ اسامی کے ایک معنی ہیں :عہدہ، ملازمت کی جگہ۔ انگریزی میں اسے post یا position کہہ لیجیے۔ اردو میںایسے مواقع پر اسامی کا لفظ بطور واحد ہی استعمال ہوتا ہے ۔ لہٰذا اس کی جمع اردو کے قاعدے سے اسامیاں بن گئی۔ گویا درست فقرہ ہوگا : اسامیاں خالی ہیں ناکہ آسامیاں خالی ہیں۔اسامی درست ہے اور آسامی غلط۔ ہاں البتہ آسامی ایک اور معنی میںآسکتا ہے اوروہ معنی ہیں :ریاست آسام (ہندوستان) کا باشندہ یا آسام کی زبان نیز آسام سے متعلق یا منسوب ۔

٭نا یا نہ؟

دونوں صحیح ہیں لیکن دونوں کا استعمال الگ ہے ۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ اب بڑے بڑے لکھنے والے اور بعض نامور صحافی (بلکہ آج کی زبان میں سینیئر تجزیہ کار، کیونکہ جونیر تجزیہ کا ر تو کوئی ہوتا ہی نہیں ہے) بھی ان دو الفاظ کے درمیان کوئی تمیز نہیں کرتے ہیں ۔’’نا ‘‘ تو ایک سابقہ ہے جو نفی کے لیے آتا ہے ، جیسے نااہل، نا تجربہ کار، نادان، ناگوار ، ناشائستہ وغیرہ۔ لیکن ’’نہ‘‘حرفِ نفی ہے اور’’ نہیں ‘‘کے معنی میں آتا ہے۔ کئی کالم نگار اب ’’نہ صرف ‘‘ کو ’’نا صرف‘‘ لکھتے ہیں اور اس طرح ثابت کردیتے ہیں کہ وہ کالم لکھنے کے معاملے میں ’’نا اہل ‘‘ ہیں۔اردو میں خاصی کثیر تعداد میں ایسے محاورے ، مرکبات یا ضرب الامثال رائج ہیں جن میں ’’نہ ‘‘ استعمال ہوتا ہے، مثلاً نہ اساڑھ سوکھے نہ ساون ہرے(یعنی ہر وقت ایک سا حال ہے)، نہ آدم نہ آدم زاد (یعنی ہُو کا عالم)،نہ جاے رفتن نہ پاے ماندن( یعنی نہ جاسکتے ہیں نہ ٹھہر سکتے ہیں ، کوئی کوشش کرتے نہیں بنتی) وغیرہ ، ان سب میں نہ کی بجاے ’’نا‘‘ لکھنا غلط ہوگا۔ ذوق کا بڑا مشہور شعر ہے:

لائی حیات، آئے قضا ، لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے ، نہ اپنی خوشی چلے

اس میں بھی ’’نہ‘‘ کی بجاے ’’نا ‘‘ لکھنا درست نہ ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں