آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
انسان ٹیکنالوجیکلی ترقی کرنے کیساتھ ساتھ خود بھی مشین بن گیا ہے ۔ ہوس، لالچ اور زر کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ رشتے ،ناتے، خلوص اور پیار پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ جدید دنیا کے انسان نے اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینے کیلئے ایک طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ اُسے جب کبھی جنم دینے والے والدین کی یاد آتی ہے تو سال بھر میں ایک دن کو مدر ڈے اور فادر ڈے کا نام دے دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جن ماں باپ نے اسے جنا ان کے احسان کا بدلہ ایسے ہی اتارا جا سکتا ہے کہ وہ سال میں ایک دن ان کو یاد کر کے ان پر احسان عظیم کرے کہ وہ ان کوکس قدر چاہتا ہے۔ یہ انسان صرف ماں باپ کا دن ہی نہیں مناتا بلکہ کبھی شوگر ڈے منا رہا ہے تو کبھی پیاز اور کبھی لہسن کا دن۔ دراصل یہ دن منانے کے پیچھے فلسفہ ہے کہ یہ چیزیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں کم از کم دنیا کو یہ تو پتہ چل سکے کہ انسان ان کو بھولا نہیں۔ دوسرا طبقہ یہ دلیل دیتا ہے کہ چیزوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ایسے دن منائے جاتے ہیں۔جب میں اخبارات میں یہ پڑھتا ہوں کہ آج فلاں دن منایا جا رہا ہے تو مجھے کسی زمانے میں ٹی وی پر چلنے والا پروگرام ففٹی ففٹی یاد آجاتا ہے جس میں ایک شیشے کے جار میں چھوٹی سی چیز نمائش میں رکھی ہوتی ہے جب لوگ تجسّس کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی نایاب ترین چیز ہے

اس لئے میوزیم کی زینت بنایا گیا۔ یہ چیز انسانیت ہے جو اس مادہ پرستی کے دور میں بچ گئی ہے اور ابھی اگر اسے محفوظ نہ کیا گیا تو آئندہ نسل کو کیسے پتہ چلے گا کہ دنیا میں انسانیت نام کی بھی کوئی چیز ہوا کرتی تھی۔ خیر بات دن منانے کی ہو رہی تھی تو ایک لحاظ سے دنیا میں سب اچھی چیزیں نایاب ہوتی جا رہی ہیں اسی لئے یہ دن منائے جاتے ہیں۔ لگتا ہے کہ تعلیم اور عورت بھی اب دنیا سے ناپید ہونا شروع ہو گئی ہے کہ اگلے روز اقوام متحدہ نے 10نومبر کو دنیا بھر میں ” ملالہ ڈے“ منانے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ دنیا کے بعض ممالک میں اس دن کو منانے کیلئے مختلف تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا۔ ملالہ سوات کی ایک طالبہ ہے جس نے تعلیم سے روکنے والے شدت پسندوں کے خلاف آواز اٹھائی اور یہ آواز اٹھانے کیلئے گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔ چند ہفتے پہلے جب وہ اسکول کی وین پہ جا رہی تھی تو اسے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا لیکن خوش قسمتی سے اس کی جان بچ گئی۔ اس سانحے کے فوری بعد پوری دنیا کا میڈیا اور خصوصاً پاکستانی میڈیا نے اس انداز میں اس واقعے کو کوریج دی جیسے دنیا کا سب سے بڑا واقعہ ہی یہ ہے ۔ جرنلزم میں ایک ضابطہ اخلاق بھی ہوتاہے اور نیوز ویلیو بھی کوئی چیز ہے۔ بلاشبہ یہ ایک انوکھی خبر تھی اور اسے نمایاں جگہ بھی ملنی چاہئے تھی پھر یہ بھی ہے کہ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ مذمت تمام طبقات کی طرف سے سامنے بھی آئی اور جن شدت پسندوں نے پاکستان کی اس بیٹی کو مارنے کی کوشش کی وہ سخت قابل مذمت ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گولیوں کا نشانہ بننے والی ملالہ یوسف زئی کی حمایت اور اظہار یکجہتی کیلئے یہ دن منایا گیا جس کا مقصد دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم اور فروغ کی کوشش کرنا ہے کیونکہ اس وقت تین کروڑ پچاس لاکھ بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن براؤن جو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ملالہ کی آواز دنیا بھر میں بچیوں کی تعلیم کیلئے ایک مضبوط تحریک بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام صرف یہ دن ہی نہیں منایا گیا بلکہ یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملالہ کو امن کا نوبل انعام دیا جائے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ90ہزار کے قریب لوگوں نے آن لائن پٹیشن سائن کی ہے کہ ملالہ کو امن کا نوبل انعام دیناچائے۔ ملالہ کو گولیاں لگنے سے لیکر سوات سے راولپنڈی اسپتال اور پھر برمنگھم کو ئین ایلزبتھ اسپتال میں زیر علاج رہنے اور اب ملالہ ڈے منانے سے لیکر نوبل انعام دینے کے مطالبے تک ان خبروں کو جس انداز میں گلیمرائز کیا جا رہا ہے اس سے ایک عام سی سوچ رکھنے والا انسان بھی یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ دراصل دال میں کچھ کالا ہے۔ میڈیا پہ یہ جو کچھ دکھایا جا رہا ہے ضروری نہیں کہ یہ مکمل حقیقت ہو، یہ تو صرف میڈیا کی حقیقت ہو سکتی ہے انٹرنیشنل میڈیا نے تو اپنے کسی ایجنڈے کے حصول کیلئے اس ایشو کو اپنے انداز میں اچھالا ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا بھی اپنا کان دیکھنے کی بجائے کتے کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس لئے عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ وقت تھا جب امریکہ کے الیکشن بالکل قریب تھے ۔ پوری دنیا میں توہین ناموس رسالت کرنے والوں کے خلاف مسلمان احتجاج کر رہے تھے جس کے لامحالہ اثرات ان انتخابات پر بھی مرتب ہو سکتے تھے اسی دوران اچانک یہ واقعہ ہوگیا اور تھوڑی دیر بعد اس واقعے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی۔ اگر پورے پاکستان کے لوگوں سے انفرادی طور پر سروے کیا جائے تو وہ آج تک کنفیوژڈ ہیں وہ یہ تعین کرنے سے قاصر ہیں کہ طالبان کون ہیں؟اچھے اور بُرے طالبان کیا ہوتے ہیں؟ القاعدہ کیا ہے؟ یہ کس نے بنائی؟ ان کے ذریعے سے کن طاقتوں نے اپنے ایجنڈے پورے کرنے کی کوشش کی؟ کیا القاعدہ اور طالبان کا وجود ہے بھی کہ نہیں؟ کیونکہ9/11سے پہلے تو ہر پاکستانی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا تھا پھر امریکہ نے ایک منصوبہ بندی کے تحت افغانستان پر حملہ کیا اور اس خطے کو غیر محفوظ کر کے رکھ دیا۔ میڈیا مجموعی طور پر اس طاقت کی سوچ کو فروغ دے رہا ہے۔ اگر کوئی دوسری سوچ رکھتا ہے تو اسے شدت پسند اور دہشت گرد کا نام دے دیا جاتا ہے حالانکہ اس واقعے کے حوالے سے ایک بڑے طبقہ کی سوچ یہ ہے کہ پاکستان کی بیٹی کو استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اقوام متحدہ ملالہ ڈے ضرور منائے لیکن اقوام متحدہ کو ملال ڈے منانے کی کال بھی دینی چاہئے کہ عراق، فلسطین، کشمیر ، افغانستان اور پاکستان میں ہزاروں، لاکھوں بے گناہ، معصوم بچے خواتین اور بوڑھے انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے ۔ باجوڑ کے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے معصوم لوگوں کو ڈرون حملوں سے اڑا دیا جاتا ہے۔ کراچی میں دس ماہ کے دوران 1800/افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے اور ایک مدرسے سے معصوم بچوں کو ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا جاتاہے۔ بلوچستان کو شعلوں میں دھکیل رکھا ہے،عوام معاشی بدحالی کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں اور ملالہ کی طرح پاکستان کی نحیف سی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو اغوا کر کے اس کے اوپر گن اٹھانے کے الزام میں86سال قید کی سزا سنا دی جاتی ہے اور امریکی الیکشن سے چند روز پہلے عدالت سے اس کی توثیق کروا کر الیکشن میں جیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ عام آدمی یہ سوچ رکھتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ اقوام متحدہ کو نظر نہیں آتا، کیا اقوام متحدہ کو کشمیر کے حوالے سے پاس ہونے والی اپنی قراردادوں پر عمل کرانا یاد نہیں آتا۔کیا اس کو دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر ملال نہیں ہوتا اگر ایسا نہیں تو پھر میں پوری دنیا کے انسانوں سے یہ اپیل کروں گا کہ ہم سب کو ملالہ ڈے کے ساتھ ساتھ ملال ڈے بھی منانا چاہئے تاکہ ہم اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور شرپسندیوں کا اعتراف کر کے کچھ دیر کیلئے پُرملال ہی ہو جائیں۔ آخری بات یہ ہے کہ اگر اب نوبل انعام کیلئے اس طرح ووٹنگ کے ذریعے فیصلے ہونے ہیں تو پھر سروے کرایا جائے تو دنیا کے لوگوں کی اکثریت امریکہ کو سب سے بڑے دہشت گرد کے نوبل انعام کیلئے نامزد کرے گی!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں