آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے

سیاسی عہدوں پر تقرریاں شروع ہو چکی ہیں، تبصرے کی ابھی کیا ضرورت سردست غنیمت ہے گلشن کا کاروبار شروع ہو پھر چلے پھولے پھلے، بڑے عرصے کے بعد نئے برینڈ کا وزیراعظم میسر ہو گا، پاکستان کو نئے کپڑے سلوا کر پہنائے جائیں گے، اگر برسراقتدار آنے والی جماعت، باجماعت نماز پڑھے گی تو بڑی برکت آئے گی، ڈیڑھ انچ کی مساجد، مسجد ضرار کے زمرے میں آتی ہیں، اچھی امید رکھنی چاہئے کیونکہ خالق ارض و سما کا فرمان ہے ’’میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوتا ہوں‘‘ اب اچھائی تلاش کریں ملے تو اس میں شامل ہوں، برائی تلاش کرنے میں کوئی دقت نہیں ایک ڈھونڈو ہزار مل جائیں گی۔ آج ہم میں سے بہت سے لوگوں کو ان کی زبانوں نے دیوار سے ٹانک دیا ہے، اس لئے زبان کو قابو میں رکھنا بہترین حفاظت ہے۔ 18؍ اگست کو عمران خان وزیراعظم بن جائیں گے کاروبار حکومت چل پڑے گا خدا نہ کرے کہ چل نکلے، بہرحال احوال و آثار تاحال اچھے دکھائی دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی یہ جان رکھے کہ پوری قوم اسے آزمانے چلی ہے، اس لئے غلطی کی گنجائش نہیں، مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ چند روز ہی میں دیگ کے چند دانے ساری دیگ کا احوال بتا دیں گے، لوگوں کو اتنا معلوم ہو جائے کہ نیت صالح ہے اور کچھ اچھا کر دکھانے کا ارادہ ہے تو وہ اتنا مول تول نہیں کرتے، حکمرانی کاروبار نہیں، منافع خوری کا موقع نہیں بس حکومت کو یہی باور کرانا ہو گا۔ سیاست خدمت خلق کا فریضہ ہے اور اس پر خدائی احتساب کی تلوار لٹکتی رہتی ہے، اس لئے بیورو کریسی سے لے کر تابہ قصر اقتدار پھول نما کانٹے ہی کانٹے خبردار کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ آج تو آسمان بھی کتنے ہی افراد سے کہہ رہا ہے ’’ہن آرام ای‘‘ خود احتسابی میں بچت ہے۔


٭٭٭٭


یہ عبرت کی جا ہے


ویسے تو ساری دنیا عبرت کی جگہ ہے۔ انسان چاہے تو قدم قدم عبرت پکڑ سکتا ہے، ورنہ عبرت اسے پکڑ سکتی ہے مگر ان دنوں پاکستان سراپا عبرت ہے، عبرت کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہم ان کو دیکھتے رہتے ہیں جو نشان عبرت بنتے ہیں یہ احساس تک نہیں کرتے کہ ہم بھی اسی قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، اگر عبرت پکڑتے بھی ہیں تو صرف طریقہ واردات بدلنے کی حد تک، توبتہ النصوح کی خاطر نہیں، توبہ، معافی اور پچھتاوا بھی دو نمبر، توبہ توڑنے کے لئے کرتے ہیں، معافی دینے کے لئے معافی مانگتے ہیں اور پچھتاوا اعترافِ حماقت ہے، جب بھی احساس جرم تنگ کرتا ہے مسجد کا رخ کرتے ہیں، نیت اچھی ہو تو اس پر عمل نہیں کرتے بُری ہو تو کر گزرنے میں دیر نہیں لگاتے، جب تک ہر فرد خود کو اپنے کٹہرے میں نہیں کھڑا کرتا گناہ سے اجتناب صرف ایک ترکیب جو مکرو فریب سے مرکب ہے، غالب یوں تو خود بھی علیہ ما علیہ تھے مگر وہ سب کچھ کہہ گئے جو انہیں ان کے مطابق نہیں کہنا چاہئے تھا ایک مثال پیش ہے؎


ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد


عالم تمام حلقہ دام خیال ہے


میڈیا، انفارمیشن دینے کی حد تک تو ولی اللہ ہے مگر جب وہ تبصرہ و تجزیہ کرتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ کسی کا سر ’’گڑوی‘‘ میں پھنس گیا ہے اور وہ نکالنے کے جتن کر رہا ہے، ہر کہنے والا مائیک کے سامنے زور لگا رہا ہے کہ اسے کچھ تو کہنا ہے، آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ جب کہنے کو کچھ نہیں تو کیا کہوں، یہ بات بالکل ایسے ہے کہ کوئی مہمان جب نعمتوں کا خوان دیکھے تو کہے یہ آپ نے کیا تکلف کیا، اور اس کے بعد بے تکلف کھانا شروع کر دیتا ہے، کب کوئی بھوک نہ رکھتے ہوئے دسترخوان واپس بھیجتا ہے۔


٭٭٭٭


آپ خود اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں


پی ٹی سی ایل کچھ بھی نہ ہو تو نیم قومی ادارہ تو بہرحال ہے، اس کی کارکردگی لاہور کی چار سڑکوں تک مثالی ہے، مگر اس کے علاوہ جتنا لاہور بچتا ہے وہ اس کی عدم توجہی سے بچ نہیں پاتا، بالخصوص ہم اس عظیم ادارے کی کرتا دھرتا ہستیوں کی توجہ نہر کنارے آباد بستیوں کے حوالے سے فتح گڑھ تابخاک واہگہ مبذول کرانا چاہتے ہیں، موٹی موٹی شکایات یہ ہیں کہ ان علاقوں میں جو مفلستان ہے۔ انٹرنیٹ کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی تاریں تو بوسیدہ ہیں ہی مگر اس کے لائن مین بھی نہایت ترو تازہ ہیں۔ وہ محکمے کا کام کرتے ہیں یا نہیں کرتے اس کے ثبوت ہمیں نہیں مل سکے البتہ یہ ضرور ہے کہ اس علاقے میں وہ پی ٹی سی ایل فروخت کرنے کے سول ڈسٹری بیوٹر ہیں اور تھوک کے حساب سے ایم بی نجی ڈسٹری بیوٹرز کو فروخت کرتے اور خوب اجر پاتے ہیں۔ ایک لائن مین جس کا نام ہم ظاہر نہیں کرتے ایسا بھی ہے جس نے عامر ٹائون، کینال پوائنٹ، کینال بینک کی بستیوں میں اَنی مچا رکھی ہے۔ یہ صاحب کسی کی شکایت دور کرنے کے بجائے اپنے ارمان پورا کرتے رہتے ہیں پورا علاقہ چاہتا ہے کہ محکمہ اس مرد ناترس کو کم از کم اس ایریا سے منفی کر دے۔ کیونکہ اس نے یہاں اپنی جڑیں بہت گہری کر لی ہیں، ہم ہرگز نہ لکھتے اگر یہ صرف ہمارا مسئلہ ہوتا مگر یہاں تو ہزاروں گھروں کی جانب سے لوگ میرے پاس آتے ہیں کہ آپ روزانہ لکھتے ہیں یہ بھی لکھیں کہ اس منظور نظر لائن مین سے نجات دلائی جائے انٹرنیٹ کی سپیڈ بڑھائی جائے۔ تنصیبات درست کی جائیں اور پی ٹی سی ایل کی خرید و فروخت کرنے والے اس لائن مین کا احتساب کیا جائے۔


٭٭٭٭


14اگست کو یوم آزادی ہی رہنے دیں


....Oمریم نواز کو آج ایئر کنڈیشنر کی سہولت مل جائے گی۔


اس کار خیر میں دیر نہیں ہونی چاہئے۔


....Oباجوڑ میں چائے فروش ظفر گل تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی بن گیا۔


یہ تو نری تبدیلی ہے یہ کیسے آ گئی؟


....Oچیف جسٹس:جن لوگوں کو زبان پر اختیار نہیں پارلیمنٹ میں نہیں جانے چاہئیں۔


ان کی زبانوں پر ٹیکس عائد کیا جائے تو ایک ڈیم کھلا ڈلا بن سکتا ہے۔


....Oبدزبانی کو لگام دینے کے ساتھ گرانی کو بھی بریکیں لگانے کی ضرورت ہے۔ حلف سے پہلے ممکنہ وزیراعظم نوٹ فرما لیں بخدا خلق خدا مہنگائی کے ہاتھوں اتنا تنگ ہے کہ اب تو ہر جرم کا ڈانڈا بھی مہنگائی سے جا ملتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں