آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج 17اگست ہے ۔ آج کے دن ایک حادثے کے باعث ضیاء الحق کی حکومت ختم ہوگئی تھی۔ 11سالہ مارشل لائی حکومت کے خاتمے کے کئی برس بعد بھی میاں نوازشریف ہر سال ضیاء الحق کی برسی مناتے تھے۔ برسی کی تقریب میں اعلان کرتے تھے کہ ’’ہم ضیاء الحق کا مشن جاری رکھیں گے۔‘‘ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں آج تک اس مشن کا پتا نہیں چل سکا کہ یہ مشن دراصل ہے کیا؟ اس سلسلے میں میاں نوازشریف ہی بہتر بتا سکتے ہیںکیونکہ لیڈروں میں سے وہی اکلوتے اس مشن کے وارث ہیں۔ انہیں سیاست میں ابتدائی اور بڑی کامیابیاں ضیاء الحق کی وجہ سے نصیب ہوئیں۔

مزید تفصیلات پوچھی جاسکتی ہیں مگران دنوں میاں نوازشریف اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اب ان سے بہت سے سوالات پوچھنا مشکل ہے۔ ویسے بھی وہ اپنے بھائی اور پارٹی پرسخت ’’تپے‘‘ ہوئے ہیں۔ جیل جانے سے پہلے انہوں نے ’’مشن‘‘ کی تکمیل کے لئے مارشل لا لگوانے کی انتھک کوشش کی۔ ’’ججوںکا بغض، خلائی مخلوق، وہ جو نظر نہیں آتے، شیخ مجیب الرحمٰن کی یاد، سانحہ مشرقی پاکستان....‘‘ یہ تمام الفاظ میاں نوازشریف کی فلم کاحصہ تھے مگر ہمیں افسوس ہے کہ وہ اس دوران ملکی دولت کی لوٹ مار کا ذکر بھول گئے۔ وہ بار بار لندن جا کر ان فلیٹس میں ٹھہرتے رہے جن کے حصول میں لوٹ مار کا دخل ہے۔ انہیں وہاں جا کر اپنے ان پیارے بیٹوں کا بھی دیدار ہوتا تھا جوخود کو پاکستانی نہیں کہتے۔ قوم کو مبارک ہو کہ نواز شریف طویل عرصے کے بعد عید پاکستان میں کریں گے ورنہ وہ تو لندن میں اپنے غیرملکی بچوں کے ساتھ عید مناتے رہے ہیں۔

حساب کتاب کے دنوںمیں جمہوریت کا سفر جاری ہے۔ قومی اسمبلی میں اسد قیصر اسپیکر اور قاسم خان سوری ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوچکے ہیں۔ انتخاب کے اس مرحلے پر مذکورہ شخصیات کوزیادہ ووٹ ملے۔ بدمزگی پیداکرنے کے لئے ایاز صادق نے مرتضیٰ جاوید عباسی کوہلاشیری دی۔ اس کے ساتھ ہی ن لیگی اراکین نے احتجاج شروع کردیا۔ دوران احتجاج ان کے ہاتھوں میں ایک سزا یافتہ شخص کی تصاویر تھیں۔ یہ تصاویر ایوان کے اندر کیسے پہنچیں؟ اس کی تحقیقات ایاز صادق سے ہونی چاہئے۔ نعرے بازی کے اختتام پر شائستہ پرویزملک کی قیادت میں چار پانچ خواتین نے کورس کی صورت میں گایا ’’ووٹ چور ہارگئے.....‘‘ آس پاس سے کسی نے کہا کہ واقعی اس الیکشن میں ووٹ چور ہار گئے۔ پنجاب میں بڑی بلند آواز میںبولنے والے شہبازشریف اسلام آباد آکر ’’رہ‘‘ گئے ہیں۔ وہ اپنی پارٹی کے لوگوں کوبھی راضی نہیں رکھ سکے۔ دوسری پارٹیاںبھی ان سے ناراض ہیں۔ وہ خود وزارت ِعظمیٰ کے امیدوار ہیں مگر انہیں پیپلزپارٹی ووٹ نہیںدے گی۔ ایم ایم اے بھی کھسکتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں میں دوریاں پیدا کرنے کا کریڈٹ شہباز شریف کوجاتاہے۔ پیپلزپارٹی نے اسپیکر کے الیکشن سے تین روز قبل شیری رحمٰن کے توسط سے (ن) لیگ کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ ’’ہم وزارت ِ عظمیٰ کے لئے شہبازشریف کوووٹ نہیں دیں گے۔ آپ نے اسپیکر کے لئے ووٹ دینا ہے دیں، نہیں دینا تو نہ دیں.....‘‘ اس واضح پیغام کے بعد بھی جن لوگوں کوسمجھ نہیں آسکی تھی، ان کی سیاست کیاہوسکتی ہے؟ پتا نہیں ان کا مشن کیا ہوسکتا ہے؟

محمود خان خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بن چکے ہیں۔ یہ مرحلہ سندھ کے لئے مراد علی شاہ نے بھی طے کرلیا ہے۔ ان سطورکی اشاعت تک چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور دوست محمد مزاری ڈپٹی اسپیکر بن چکے ہوںگے۔ ووٹوں کی زیادہ تعداد بتاتی ہے کہ ن لیگ کے اراکین نے اپنے پارٹی امیدواروں کے بجائے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ترجیح دی ہے۔ لیگی اراکین کے حالیہ رجحان کودیکھا جائے تویہ بات بالکل عیاں ہے کہ بہت جلد نون لیگ میں سے فارورڈ بلاک صوبائی اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی میں بھی نظر آئے گا۔

اب بات ہو جائے یوم آزادی کی۔ اس مرتبہ قوم نے جشن آزادی بھرپور اندازمیں منایا۔ جذبے کے ساتھ جوش بھی نظرآیا۔ اس کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ کچھ لوگوں نے آزادی کا جشن منانے کی مخالفت کی تھی۔ اس مرتبہ بیرونی دنیا میں مقیم پاکستانیوں نے بھی زیادہ جوش و خروش سے جشن آزادی کااہتمام کیا۔ چین، ایران، امریکہ سمیت دنیاکے کئی ممالک میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان طلباوطالبات نے بھی بھرپور اندازمیں جشن آزادی پاکستان منایا۔ اب جشن آزادی کے پل پر ناصری زبیری کی نظم ’’گزارش‘‘ پیش خدمت ہے۔

اے وطن!

کب تری دھرتی سے نہیں پیار ہمیں

کب محبت کے کسی قرض سے انکار ہمیں

اے وطن!

ہم کو تری سبز بہاروں کی قسم!

تری تقدیس پہ نگران فصیلوں کے کواڑوں کی قسم!

برف پہنے ہوئے مغرور پہاڑوں کی قسم!

ترے صحرا، تری روہی، ترے ٹیلوں کی قطار

تری زرخیز زمینیں، تری فصلوں کی بہار

ترا شوریدہ سمندر، ترے خاموش کنار

ترے چشمے، ترے دریا، تری جھیلوں کا خمار

اس قدر حسن کہ بس آنکھ نہ ٹھہرے جس پر

اس قدر رنگ ِ تنوع کہ نظر تھک جائے

حسن بے مثل سلامت ہو ترا تا بہ ابد

تا قیامت تری پائندہ رہے ہر سرحد

چاند تارہ ترے پرچم کا چمکتا ہی رہے

سبز کے ساتھ سفیدی بھی فلک کو چومے

ہاں مگر اتنی گزارش ہے

کہ اے ارضِ وطن!

ایک شاعر کی یہ خواہش ہے

مرے رنگ ِ چمن!

نعمتوں کا تری ہر شخص کو حق مل جائے!

اس سمند ر سے پیاسوں کو رمق مل جائے!!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں