آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈینیئل ڈومبے

ترکی کرنسی ڈگمگارہی ہے

لیرا جو پہلے ہی پیر کو ڈالر کے مقابلے میں 5 فیصد کم ہوگیا تھا اور جمعرات کو مزید 4 فیصد ،جمعہ کو مزید 16 فیصد نیچے چلاگیا۔

لہذٰا کیوں ملک کی کرنسی اتنی مشکل میں ہے جس کی اکثر اس کی اقتصادی اور متحرک اور قابل رشک جغرافیائی حدود اربعہ کی اکثر تعریف کی جاتی ہے، یورپی اور مشرق وسطیٰ دونوں کی مارکیٹس کے بہت قریب ہے؟

اور صدر رجب طیب ادوگان کی حکومت کا کیا کردار ہے،جس نے اپنے 15 سالہ دور اقتدار میں معیشت کو تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا؟ یہاں فنانشل ٹائمز نے ترک کرنسی کے ڈرامائی طور پر نیچے جانے کے پس پردہ کیا سچائی چھپی ہے جس نے سرمایہ کاروں کو نقصان پہنچایا اس پر نظر ڈالی ہے اور حکومت کی معاشی مہارت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

ترک لیرا کا گرنا تھوڑا تعجب خیز ہے

لیرا دنیا کی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بڑی کرنسی ہے، اب تک ایک سال کیلئے 40 فیصد سے زائد قدر کھودی ہے۔ ایک طویل عرصے کے دوران زوال بھی زیادہ حیران کن ہے۔پانچ سال قبل ایک ڈالر ٹی ایل(ترک لیرا) ٹو میں خریدا جاتا تھا۔جمعہ کو امریکا کی سرکاری کرنسی ٹی ایل 6.50 سے زائد میں خریدی گئی۔

کرنسی کی کمزوری کے لئے کئی وجوہات ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے توجہ کا مرکز نیٹو کا 60 سال سے زائد عرصے سے اتحادی امریکا کے ساتھ ترکی کا غیر معمولی تنازع ہے۔ امریکریساتی محکمہ نے گزشتہ ہفتے شمالی کیرولینا کے ایک پادری کی حراست پر ترکی پر پابندی عائد کردی،اس اقدام نے مارکیٹس کو جھنجھوڑ دیا۔ امریکا کے ریاستی محکمے میں مذاکرات اس ہفتے تعطل کو حل کرنے میں ناکام رہا۔

کیا یہ سب پادری کے حوالے سے ہے؟

نہیں، ترکی میں دیگر عناصر کردار ادا کررہے ہیں۔

ملک قلیل مدتی غیرملکی فنڈز کی اکثر آمد سے آسودہ حال رہا ہے،جزوی طور پر امریکا اور یورپ کی کی غیرمعمولی لچکدار مالیاتی پالیسی کی وجہ سے، جنہوں نے سرمایہ کاروں کی ترکی اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں اعلیٰ آمدنی کے حصول کیلئے حوصلہ افزائی کی۔

چند تجزیہ کاروں نے طویل عرصے تک ترکی کو مقداری سہولت کھیل کے طور پر دیکھا ہے، ایک ایسا ملک جس نے ترقی یافتہ معیشتوں کی بڑی اثاثوں کی خریداری اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔ لیکن بطور امریکا اور یوروزون مقداری سہولت کا کھیل تاریخ بن گیا،کم از کم اقتصادی سائیکل کیلئے، فنڈز جو ترکی چاہتا ہے انہیں حاصل کرنا اب مشکل تر ہورہا ہے۔ وہ فنڈز ناقابل ذکر حد تک دور ہیں۔

اے بی این ایمرو کی جمعرات کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سرمایہ کار فکرمند تھے کہ ترکی اس کے سالانہ بیرونی سرمایہ کاری کی تقریبا 218 ارب ڈالر کی ضروریات کو مالی امداد نہیں مل سکے گی،جس میں ترک کمپنیوں کے غیرملکی نامزد قرض اور ساتھ ہی ساتھ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ کا بھاری خسارے کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری فنڈز شامل ہیں۔ رپورٹ نے مزید کہا کہ بنیادی کیس کا موجودہ منظر نامہ یہ ہے کہ ترکی ترکی کافی فنڈز جمع کرے گا، تاہم غیرملکی کرنسی کی منتقلی پر ممکنہ سرمائے کے کنٹرول کے بارے میں افواہوں اور آئی ایم ایف کی امداد نے غیر ملکی کرنسی کی مارکیٹ میں مزید دباؤ بڑھادیا ہے۔

مارکیٹس کیا سوچتی ہیں؟

متعدد سرمایہ کاروں نے ترک حکومت سے ملک کی کھپت اور تعمیرات پر مبنی معیشت کی رفتار سست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔منطق یہ ہے کہ ٹیکس میں اضافہ اور اخراجات میں کمی ایک مشکل اقتصادی اتراؤ کے خطرے اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کو کم کرے گا جو اس وقت مجموعی ملکی پیداوار کو 5 فیصد سے زائد ہے۔اس کے ساتھ ملک کا غیر ملکی فنڈز پر انحصار کم ہوگا۔ معیشت کو سست کرنے سے افراط زر کی جانچ پڑتال کی جاسکتی ہے،جو اب 15 فیصد سے زیادہ چل رہا ہے۔

شرح سود میں اضافہ افراط زر کی جنگ اور لیرا کے زوال کو سست یا برعکس لے جانے میں مدد کرسکتا ہے، ڈالر اور یورو بامزد قرض جو حالیہ برسوں میں نمایاں طور بڑھ گئے ہیں کے ساتھ جدوجہد کرنے والی ترک کمپنیوں کے لئے بڑی قابل غور ہے۔

سینٹرل بینک کے اعداد وشمار کے مطابق ترکی کی غیرمالیاتی کمپنیوں کے غیر ملکی کرنسی واجبات اب ان کے 200 ارب سے زائد ڈالر کے ان کے فارن ایکسچینج اثاثوں سے آگے نکل چکے ہیں۔صرف آئندہ 12 ماہ میں، نجی غیرمالیاتی اداروں کو غیر ملکی کرنسی کے قرضے میں 66 ارب ڈالر سے زائد رقم ادا کرنا پڑے گی۔ ترکی کے بینکوں کے لئے یہ اعدادوشمار 76 ارب ڈالر ہے۔

کیا طیب اردوگان اتفاق کرتے ہیں؟

جدید ملک کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے بعد سے طیب ادوگان سب سے طاقتور حکمران ہیں، اب تک معیشت کی بحالی کی ضرورت سے قائل نہیں ہوئے ہیں۔

ان کی حکومت نے 2016 میں ناکام خونی انقلاب کے بعد ترقی کو جاری رکھنے کیلئے ٹیکس کے وقفے سمیت سمیت اقدامات کئے ہیں اور اس کے بعد سے چیزوں کو سست کرنے کیلئے گریزاں رہے ہیں۔ بلند شرح سود پر بھی ان کی طویل عرصے سے سرزنش کی جارہی ہے، جسے انہوں نے اس سال تمام برائیوں کی جڑ بیان کیا، ترکی کی کاروباری تنظیم کار پر طویل عرصے سے گراں ہے۔

اس پس منظر کے خلاف ترکی کے سینٹرل بینک شاید ناگزیر طور پر شرح سود کے اضافے کے لئے گریزاں ثابت کیا، اضافے کے وسیع پیمانے پر امکانات کے باوجود گزشتہ ماہ ایسا کرنے میں کمی کی۔ مشکل یہ ہے کہ بینک کے اسلحہ خانہ میں اس کے پاس چند دیگر ہتھیار ہیں، چونکہ اس کے پاس مارکیٹ میں مداخلت کے ساتھ محدود غیرملکی کرنسی کے ذخائر ہیں۔

اس بحران میں ترکی کرنسی کے نیچے جانے میں مطلق العنانی نے کیا کردار ادا کیا؟

طیب ادوگان کا کافی وسیع دور صدارت واقعی توجہ کا مرکز ہے۔ انقلاب کی کوشش کے بعد انہوں نے حکم ناموں کے ذریعے تدریجی طور پر حکمرانی کی۔ گزشتہ سال انہوں نے ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی جس نے صدارتی اختیارات میں بہت زیادہ اضافہ کیا،اختیارات جو اس سال جون میں ان کےریاست کے سربراہ کی حیثیت سے نئی مدت جیتنے کے بعد مؤثر ہوئے۔

متعدد حکومتیں صدر کے تیزی سے خودمختار حکمران اور حکومت کے بڑھتے ہوئے عدالت جیسے ماحول کو دیکھ کر خبردار ہوئی ہیں۔

پہلے، طیب ادوگان کی طویل صدارتی مدت کے دوران اقتصادی سربراہی کی پوسٹ علی باباکین جو سابق یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کار اور وزیر خارجہ تھے اور سابق میریل لانچ اکنامسٹ میہمیت سمسیت جیسی ٹیکنوکریٹ شخصیات سے لے لی گئیں۔

ان جیسے حکام نے دگنا کردار ادا کیا، انہوں نے اکثر ترکی کا اقتصادی کیس دنیا بالخصوص فنڈز مینیجر اور انویسٹمنٹ بینکوں کے سامنے پیش کیا اور وہ طیب ادوگان کو ایسی کسی بھی کارروائی سے دور رہنے مشورہ دیں گے جسے وہ خطران تصور کرتے ہیں جیسا کہ سرمائے پر کنٹرول میں اضافہ۔

بعض اوقات سینٹرل بینک شرح سود کا اضافہ طیب ادوگان اور مسٹر باباکین جیسے حکام کے درمیان اجلاسوں کی سربراہی میں کیا گیا تھا،جو یہ دعویٰ کریں گے کہ اس کے علاوہ کوئی متبادل راستہ نہیں تھا۔ جون کے انتخابات میں اپنی فتح کے بعد طیب ادوگان نے اپنے داماد بیرات ال بیرک جو سابق کاروباری ایگزیکٹو ہیں کو مزید بااختیار وزیر خزانہ مقرر کیا۔ جیسا کہ لیز کی بعد ازاں کارکردگی نے ظاہر کیا کہ مارکیٹ اس حکمت عملی سے بالکل قائل نہیں ہوئی۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں