آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حماد غزنوی میرے دوست ہیں۔ ان ہی صفحات میں ان کا لکھا آپ پڑھتے رہتے ہیں۔ایک باران کا کراچی جانا ہوا۔کسی ہوٹل میں ٹھیرے۔ دوستوں سے ملنے کی تمنا تھی سو اُنھوں نے کراچی میں قدم رکھتے ہی ایک دوست کا نمبر ملایا۔ بات ہوئی۔ قیام گاہ کا بتایا۔ چند ہی منٹ بعد دروازہ پر دستک ہوئی۔ وہ صاحب پہنچ چکے تھے۔حماد حیران بھی ہوئے اور خوش بھی کہ دوستی کا جذبہ کیسے اُن کے دوست کو کشاں کشاں لے آیا۔ ابھی یہ سرشاری کی کیفیت ہی میں تھے کہ اُن صاحب نے غسل خانہ کی راہ لی۔ کوئی پون گھنٹہ بعد برآمد ہوئے تو تشکر اُن کی باتوں اور آنکھوں سے عیاں تھا۔ کہنے لگے: ’’ہمارے ہاں پانی ہی نہیں آ رہا۔ تین روز بعد نہایا ہوں۔‘‘

ایسا احوال کراچی ہی سے مخصوص نہیں۔ پانی کی کم یابی کا علاقہ بجائے کم ہونے کے بڑھتا جاتا ہے۔ جہاں پانی میسر بھی ہے پینے کے قابل نہیں۔ اربابِ اختیار کی جانب سے اس حقیقت کے ادراک کے ساتھ کہ ہماری 60 سے 70 فیصد بیماریوں کا تعلق پانی کیساتھ ہے، صاف پانی کی فراہمی کا عندیہ دیا جاتا ہے۔ صاف پانی کی فراہمی یقیناً حکومت کی ذمہ داری ہے، نجی اداروں کی نہیں مگر ایسا نہ ہونے کے باعث لوگ بوتلوں میں بند پانی استعمال کر رہے ہیں جو سستا ہرگز نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ وہ دن دُور نہیں جب پانی، سافٹ ڈرنک اور دودھ قریب قریب ایک ہی نرخ پر ملا کریں گے۔ ملک کی تمام آبادی کو بلاامتیازصاف پانی کی رسائی اب تو مذاق ہی لگتی ہے۔ اور اُن لوگوں کے لیے تو یہ مذاق اور بھی تلخ ہو جاتا ہے جو چھپڑوں سے یا فضلہ ملا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ شیر اور بکری کے ایک گھاٹ پر پانی پینے سے معاملہ آگے بڑھ چکا ہے۔ اب تمام جانور اور انسان ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔جہاں پانی کی فراوانی ہے وہاں ہم استعمال میں اس کے ضیاع اور زیاں کا احساس نہیں کرتے۔ برش کرتے، شیو بناتے، غسل کرتے، گاڑی دھوتے، پودوں کو پانی دیتے کہیں بھی ہمیں خیال نہیں آتا کہ ہم ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔ پانی کیسی نعمت ہے، اندازہ لگانا ہو تو ان خواتین سے پوچھئے جو تیز دھوپ میں میلوں چل کر دو گاگر پانی لے کر گھر جاتی ہیں کہ اُن کے پیارے بوند بوند اسے پی سکیں۔

دوسری جانب پانی کی آلودگی بھی اہم مسئلہ ہے۔ ہم پانی میں کچھ پھینکتے ہوئے کبھی نہیں سوچتے کہ اس سے پانی آلودہ ہو جائے گا اور اس میں موجود حیات کو نقصان پہنچے گا۔ نہروں میں، دریائوں میں کتنے مقامات ہیں جہاں گندگی اور فضلہ پانی میں شامل ہوتا ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا پانی اس پر مستزاد ہے۔ رائن یورپ کا اہم دریا ہے۔ سوس الپس (سوئٹزر لینڈ) سے چھوٹی سی ندی کی صورت میں نکل کر 1320 کلومیٹر کی مسافت میں بڑے دریا کی صورت اختیار کرتا جرمنی، فرانس اور ہالینڈ کی خوب صورتی میں اضافہ کرتا روٹر ڈیم کے مقام پر نارتھ سی میں جا گرتا ہے۔ اس کی چال، اس کی چھب دیکھنے والوں کو دیوانہ کیے دیتی ہے۔ مگر ایسے اطوار کچھ عرصہ پہلے تک نہیں تھے۔ ستر کی دہائی تک اسے ’’یورپ کا کھلا گندا نالا‘‘ کہا جاتا تھا۔ خطرناک حد تک بڑھتی آلودگی کی سطح اور غیرموزوں موسم کے باعث قریباً 100 کلومیٹر کے علاقہ میں دریا سے آکسیجن کا خاتمہ ہو گیا۔ اور یوں اس حصہ میں آبی حیات کا نشاں تک نہ رہا۔

مگر اب اس کی دُنیا بدل چکی ہے۔ آلودگی کی سطح بہت کم ہے۔ آبی حیات جو ختم ہو چکی تھی پھر سے اس کے حسن میں اضافہ کرنے کو آن موجود ہے۔ رائن کی صفائی اب ایک قابلِ تقلید کارنامہ ہے۔ اس مثالی عمل میں رائن کنارے ممالک کی حکومتیں تو شامل تھیں ہی، اس دریا کے ساتھ آباد لوگوں اور فیکٹریوں کا جامع اور رضاکارانہ حفاظتی اقدامات اپنانا بھی ناقابلِ فراموش ہے۔

راوی اور دیگر دریائوں کے ساتھ بھی معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ کھیت اور فصلیں جو اس پانی سے سیراب ہوتی ہیں مضر دھاتوں کی حامل ہوتی ہیں جو خوراک کی زنجیر بننے کے باوصف انسانی اور جانوروں کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔یہ جو سبزیوں کی دکانوں پر بڑے حجم میں سجی سبزیاں ہم دیکھتے ہیں، اسی آلودگی کی پیداوار ہیں، کسی سائنسی معجزہ کی نہیں۔یہاں بھی ویسے ہی جذبہ کی ضرورت ہے جیسا رائن کی صفائی میں دیکھنے میں آیا تھا۔ اس میں حکومت کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عوام اور صنعت کاروں کو اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اور صحافیوں کا تو کام ہی آگاہی ہے۔آبادی کے بڑھنے، پانی کے بے جا اور غلط استعمال اور آبی آلودگی کے باعث پانی کی فی کس فراہمی ناکافی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم سے کم ہو رہی ہے۔ پانی سے ہر شخص متعلق ہے تو کیوں نہ پانی سے متعلق خواندگی کی ایک مہم ابتدا کی جائے۔ پانی کی اس صحافت کے ذریعہ پانی کی کمی، تقسیم، تناسب پر بحث میں ماہرین، رہ نما اور ذرائع ابلاغ مثبت طور پر شریک ہوں۔یوں ایک ایسی پالیسی کی تشکیل میں مدد ملے گی جو منصفانہ ہو، جمہوری ہو۔

سیانے کہتے تھے دوست وہ ہے جو دوست کے کام آئے۔ پانی کی کمی کے تناظر میں کچھ یوں کہنا پڑے گا کہ دوست وہ جو دوست کے نہانے کے کام آئے مگرسب لوگوں کے دوست ہوٹل میں تھوڑاہی ٹھیرتے ہیں!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں