آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرواحسن ، کراچی

شہادت کی ولولہ انگیزی کو کتاب ”فلسفہ شہادت“ میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ شہید کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قوم میں ہمت اور ولولہ پیدا کرتا ہے۔ جن قوموں میںجوش بالخصوص الہی جذبے کی روح مر جاتی ہے، ”شہید “ اُن میں دلاوری، صبر، ہمت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ملک و قوم کے نصیب میں کچھ دن ایسے لکھے جاتے ہیں جو قربانیوں کے متقاضی ہوتے ہیں، لیکن فتح کا بگل تب بجتا ہے جب نظریے کی جیت ہو۔ بحیثیت پاکستانی قوم ایسا ہی ایک دن 6 ستمبر 1965 کا تھا جو فرزندانِ وطن سے حفاظت کا تقاضہ کر رہا تھا، جس دن نے ماؤں سے ان کے بیٹے اپنی ناموس پر قربان کرنے کا سوال کیا۔ 6 ستمبر پاکستانی تاریخ میں یومِ دفاع کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، سترہ روزہ جنگ میں چشمِ فلک نے نوزائیدہ ریاست کے باشندوں کو ایک ایسے سانچے میں ڈھلتے دیکھا جہاں ہمدردی، خیرخواہی، اپنے شاہین صفت فوجی بھائیوں کے ساتھ وارفتگی، ملک و ملّت سے دیانت داری گویا ایمان کی اساس ہو۔ اس دن ”لا الہ الا اللہ“ کا اظہار بھی ہوا اور راہِ حق کے شہیدوں نے اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ قربانی کی لازوال داستانیں اس دن سے منسوب ہوئیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشانِ وطن رزم گاہ حق و باطل کا رُخ کرتے، کچھ شہادت سے سرفراز ہوئے اور کچھ غازی بن کر سرخرو رہے ہیں لیکن ملک دشمن ریاست کو لوہے کے چنے چبوا دیئے۔ یہ دن ہمارے نظریے کی فتح کا دن ہے جس دن ہم نے دیکھا کہ ہم سے بڑی طاقت ہمارے جذبہ حب الوطنی کے آگے کیسے زیر ہوگئی۔ سوچیے کیسا لاثانی دن ہوگا جب ماؤں کی ممتا اپنے جگر گوشوں کو مادرِ وطن پر قربان کرنے سے گریزاں نہ ہو یقیناً یہ دن اور اس دن کے شہدا سُرخ سلام کے حق دار ہیں۔

6 ستمبر کو ازلی ستمگر بھارت نے روایتی دشمنی نبھاتے ہوئے حملہ کیا لیکن خدائے بزرگ و برتر نے اس کے پاسبانوں کو اتنی ہمت و جرات بخشی کہ انہوں نے نا صرف اپنے عزیز وطن کی آزاد حیثیت پر حرف نہ آنے دیا بلکہ افواج پاکستان کا لوہا پوری دنیا میں منوایا۔ ہمارے عوام اور فوجی جوانوں نے بہادری اور جانثاری کی ایسی تاریخ رقم کی جو بھارت چاہتے ہوئے بھی کبھی اپنے ذہن سے کھرچ نہیں سکتا۔ جہاں ایک طرف راہِ حق کے شہدا نے اپنا لہو پیش کیا وہیں اس معرکے میں عوام و افواج کے مابین وہ جذبہ و عزم نظر آیا جو قابل داد و تحسین تھا۔ 1965 کی جنگ نوزائیدہ ریاست کے لیے نہایت پریشان کُن ہوتی مگر جہاں افواج و عوام دشمن کے مقابلے پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہوجائیں تو ایسی قوم کو مغلوب کرنا ناممکن ہو جاتا ہے اور یہی ہوا۔ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرنے پر بھارت نے ٹھانی کہ پاکستان کو سزا دی جائے اور اسی خیال سے 6 ستمبر کو دشمنِ ازلی نے پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کراس کی۔ ریڈیو پاکستان سے پیغام نشر ہوا کہ دشمن نے 10کروڑ ”لا الہ الا اللہ“ کہنے والوں کو للکارا ہے، ہم دشمن کو عبرت ناک شکست دیں گے۔ پھر کیا تھا ساری قوم یک جان ہو کر دشمن کے عزائم کی راہ میں حائل ہو گئی۔ حملے کے وقت بھارت کے فوجی سربراہ نے کہا تھا کہ ہم صبح کا ناشتہ لاہور میں کریں گے لیکن شہدا کے جذبوں کے آگے ہم سے بڑی طاقت کو سر جھکانا پڑا۔ ہماری بہادرا فواج نے بھارتی فوجیوں کو لاہور کے باہر ہی روک دیا اور ان کے لاہور میں ناشتہ کرنے کی خواہش کو منوں مٹی تلے دبا دیا۔

ہماری بری فوج نے اپنی مرضی کا محاذ کھول کر کھیم کرن کو فتح کر کے ریلوے اسٹیشن پر پاکستانی پرچم لہرا دیا۔ اس سے قبل چھمب اور دلوا کی چوکیوں پر پاکستانی فوج قبضہ کر چکی تھی۔ بھارت نے ہمار ی سپلائی لین توڑنے کے لیے سیالکوٹ کے پاس چونڈا کا محاذ کھول دیا، جہاں پر دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ ہوئی۔ ہمارے بہادر جوان ٹینکوں کے سامنے اپنے جسموں سے بم باندھ کر لیٹ گئے، بھارت کے ٹینکوں کو تباہ کیا اور انہیں آگے نہیں بڑھنے دیا۔ ہماری ہوائی فوج نے دشمن کے چار جہاز اکھنور کی فضاؤں میں تباہ کر دیئے تھے۔ ہمارے بہادر ایم ا یم عالم نے ایک منٹ میں بھارت کی فضاؤں پر حملہ کر کے ان کے لڑاکا جہاز تباہ کر کے ریکارڈ قایم کیا۔ پٹھان کوٹ کا ہوئی اڈا بھی تباہ کر دیا گیا اور فضاؤں پربھی پاکستان کی ہوائی فوج کی برتری قایم ہوئی۔ ادھر ہماری بحری فوج نے کُھلے سمندروں میں آگے بڑھ کر دوارکا کے بحری اڈے پر حملہ کر کے اس کے راڈار کو تباہ کر دیا، جس سے بھارت کو بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔ بھارت کے دفاعی تجزیہ کاروں نے اپنی کتابوں میں اس نقصان کو تسلیم کیا ہے۔ دیس کے رکھوالے جوانوں نے ثابت کردیا کہ جب تک ہم ہیں کوئی بھی طاقت چاہے وہ کتنی بھی بڑی ہو ہمارے پُرکھوں کی امانت کی طرف میلی نظر سے دیکھ نہیں سکتی۔یومِ دفاع منانے کا مقصد معاشرتی اصلاح، شہدا کی گراں قدر قربانیوں کو یاد رکھنا، اُن کے لہو سے انصاف کرنا جب کہ اپنی وفا داریوں کی درجہ بندی کرنا ہے اور یہ ےاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہر دور وفا کا متقاضی ہے، آج بھی وطنِ عزیز کو اندرونی و بیرونی دشمنوں کا سامنا ہے، ایسے وقت میں ہماری یکجہتی، ہماری وفا ہی ہماری بقا ہے۔ یہی راہِ حق کے شہدا کی وفا تھی اور ہے جس کی بدولت آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہیں اور کوئی شک نہیں کہ وہ وفا ہی تھی اور ہے کہ ماو ¿ں کے اپنے گھروں کے چراغ دے کر وطن سے محبت کے چراغ کو لو بخشی۔ راہ ِ حق کے شہیدوں کا لہو درس دے رہا ہے کہ ہم اپنے ماضی کو یاد رکھتے ہوئے آگے بڑھیں اور یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندرونی و بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہیں اور کامیابی حاصل کرتے رہیں۔ فتح دراصل یہ نہیں کہ ظاہری اشیاءکا حصول ممکن ہو بلکہ کا اس مفہوم نظرےے کی فتح ہے۔ 6ستمبر یومِ دفائے مادرِ وطن ہمارے نظریے کی جیت کا دن ہے ،جنگِ بدر ہو یا جنگِ اُحد بحیثیت مسلمان ہم نے دیکھا کہ کیسے کمزور ، طاقت ور پر غالب آجاتے ہیںاور معرکہ کربلا میں کیسے اللہ رب العزت نے اپنے قلیل بندوںکو کثیر ظالموں پر نصرت و کامرانی عطا فرمائی ۔ بہرکیف مادرِ وطن کی عزت و عصمت کے لیے جو شعلے جنگِ ستمبر کے شہیدوں نے اپنے لہو سے بجھائے اور کامرانی حاصل کی انہی کی بدولت شہدائے راہِ حق، خدا کی رضاؤں کے حق دار ٹھہرے اور انہی کے سبب آج پاکستانی قوم سرخرو ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں