آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنا کام خود کریں

برطانوی اخبار کے ایک سروے کے مطابق 84 فیصد افراد بلب تک تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ 18سے 24برس کے افراد ہیں جو زیادہ وقت اپنے والدین کے ساتھ گزارتے ہیں۔ اسلامی فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق جب بچہ بالغ ہو جائے تو اسے بتدریج خود سے الگ رکھنے کی کوشش کرو، اس کے بستر سے لے کر کمرے تک کو الگ کر دو اور اسے کام سیکھنے یا تعلیم کے لئے باہر بھیجو، خود ہمارے نبی اکرم ﷺ اپنا ہر کام خود کر لیتے تھے، اپنا جوتا بھی مرمت فرما لیتے، سینے پرونے کا کام بھی جانتے تھے جب حضرت صہیب رومیؓ، روم سے پیدل آپ کے پاس حاضر ہوئے تو ان کا برا حال تھا، اس کی مہمانداری کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا صہیب تمہاری قمیص پھٹی ہوئی ہے، میں اپنا سینے پرونے کا ڈبہ لے آتا ہوں تم قمیص اتارو تاکہ میں سی دوں، وہ شاہ ابوالمعالیؒ آپ کے سامنے بیٹھ گئے اور آپ ان کی قمیص کو پیوند لگاتے رہے۔ (فقر کے پھٹے پرانے چولے کا کیا بلند مقام تھا کہ شاہِ رُسل ﷺ صہیب کی پھٹی ہوئی قمیص کی بخیہ گری کرتے رہے) والدین کا بے جا لاڈ پیار اور عاقل بالغ ہونے پر بھی اپنی اولاد کو کام پر نہ لگانے کے نقصانات اور خمیازے انسان کو زندگی بھر بھگتنے پڑتے ہیں آج مغرب میں اپنا کام خود کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں تن آسانی اور سہل انگاری بڑھتی جا رہی ہے، ہم اپنا بٹن تک نہیں ٹانک سکتے، پانی کا گلاس بھی مانگ کر پیتے ہیں اوریہ درست ہے کہ اکثر افراد بلب نہیں بدل سکتے فیوز نہیں لگا سکتے البتہ بلب آن کر کے آف نہیں کرتے، اسی طرح گھریلو زندگی کے چھوٹے موٹے کام دوسروں سے پیسے دے کر کراتے ہیں، اگر نوجوانوں کو کام کاج پر لگایا جائے، اور انہیں کچھ عرصہ والدین اپنے سے دور بھیج دیں تو خود اپنے کام کرنے سیکھنے کا موقع مل سکتا ہے، ایلیٹ کلاس تو ویسے بھی عضو معطل ہوتی ہے مگر متوسط اور غریب گھرانوں میں ہر فرد کو اپنا کام خود کرنے کی کوشش کرنا چاہئے، عظیم افراد انہی طبقات میں پیدا ہوتے ہیں، جہاں اپنا کام خود کرنے کا رواج ہو۔

حُسن بیوٹی پارلر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

سکھر:بیوٹی پارلر کے واش روم میں خفیہ کیمرے لگا کر بلیک میل کرنے کا انکشاف اب تو خفیہ کیمروں کی عصمت پر بھی دھبہ لگ گیا، خدا نہ کرے کہ ایسا کسی اور بیوٹی پارلر میں بھی ہوتا ہو اس لئے ملک بھر کے بیوٹی پارلرز کے واش رومز میں ڈانگ پھیر لینی چاہئے۔ کیونکہ گناہ میں پھیلنے اور نیکی میں سکڑنے کی صفت پائی جاتی ہے۔ اگرچہ مذکورہ بیوٹی پارلر کو سیل اور مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن عصمت مآب حسن میں بال تو پڑ گیا، اب یہی ہو سکتا ہے کہ ہر دلہن کو کسی بیوٹی پارلر لے جانے سے پہلے لواحقین واش روم کے کلیئر ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیں ورنہ دلہن زندگی بھر کے لئے یرغمال بن سکتی ہے، ہم ان دلہنوں کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اس بلیک میلنگ سے پردہ اٹھا دیا، آخر ہمارے ہاں عورت کیوں اتنی غیر محفوظ ہے۔ نئے پاکستان والے اس نئے جرم پر قابو پانے کے لئے بھی ایک ٹاسک فورس بنائیںجو بیوٹی پارلر کے واش روم روزانہ کی بنیادوں پر چیک کرے، ایک حل یہ بھی ہے کہ دلہن بیوٹی پارلر جائے واش روم نہ جائے، ایک اور حل یہ کہ دلہن بیوٹی پارلر ہی نہ جائے اور روایتی انداز میں گھر کی خواتین ہی دلہن کا میک اپ کریں اور میک اپ پر خرچ ہونے والی رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرا دی جائے بہرحال یہ نیا فتنہ خاصا گھمبیر ہے، اہل فکر و نظر اس پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی ایسا حل نکالیں کہ بیوٹی پارلر صنعت بھی متاثر نہ ہو اور دلہن بھی، خفیہ کیمروں کی زد میں نہ آ سکے، لوگ اپنی بہو بیٹیوں کو پارلر پر اعتماد کر کے بھیجتے ہیں، اگر یہ اعتماد ہی نہ رہا تو کئی بے گناہوں کا کاروبار تو ٹھپ ہو جائے گا، ممکن ہے اب لڑکے والے یہ شرط رکھ دیں کہ دلہن بیوٹی پارلر نہیں جائے گی، گویا ایک شخص نے اپنی گندی سوچ سے کہاں کہاں تک مار کی، کوئی ایسا ڈی ٹیکٹر دلہن کے پاس ہونا چاہئے کہ جو واش روم میں اگر خفیہ کیمرے نصب ہوں تو بول پڑے بیوٹی پارلرز تو خواتین کے لئے کمیونٹی سنٹر ہیں، اکثر خواتین ویسے بھی اپنی نوک پلک درست کرانے وہاں چلی جاتی ہیں۔ اگر خواتین ہوشیاری سے کام لیں تو وہ اس جرم کا خاتمہ کر سکتی ہیں، جونہی انہیں بلیک میل کیا جائے فوراً اپنے گھر والوں اور قانون نافذ کرنے والوں کے علم میں لے آئیں تو جیسے سکھر کے بیوٹی پارلر کا مالک جو یہ کام کرتا تھا چند خواتین نے اس کا جرم بے نقاب کر کے بیوٹی پارلر سیل اور مالک گرفتار کرا دیا جہاں بھی اس طرح کا جرم ہو گا رک جائے گا، عبرتناک سزا کا ملنا ضروری ہے۔

٭٭٭٭

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

خبر ہے کہ بھارت میں دلہا والوں نے اس بات پر شادی توڑ دی کہ لڑکی زیادہ وقت واٹس ایپ پر گزارتی ہے، دوسروں کی طرف دیکھنے سے پہلے اگر ہم اپنی طرف دیکھیں تو پاکستان میں لڑکے بھی اکثر وقت واٹس ایپ پر گزارتے ہی نہیں ضائع بھی کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ جب لڑکا ہو یا لڑکی وہ سیل فون کو بٹیر کی طرح ہاتھ میں لے کر اس سے کھیل بھی جو کھیلتا ہے تو صنم کا، آپ یقین جانیئے ایک غریب گھر کے نوجوان کے پاس ایسا سیل فون دیکھا جس کی مارکیٹ میں قیمت ڈیڑھ لاکھ ہے، اگر اللہ کی دی ہوئی نعمتیں بھی جرم کے لئے استعمال ہوں گی تو پھر آسمان سے کیا آئے گا؟ یہ تو سنا دیکھا تھا کہ بعض لوگ واش روم سگریٹ کی ڈبیہ لے کر جاتے تھے مگر اب تو واش روموں سے بھی موبائل پر کھسر پھسر سنائی دیتی ہے، جن معاشروں نے یہ اطلاع رسانی کے آلات ایجاد کئے وہاں انہیں ضرورت کے تحت استعمال کیا جاتا ہے، اقتصادی کونسل نے اچھا فیصلہ کیا ہے کہ پھلوں، موبائل فونز، گاڑیوں، پنیر اور مہنگی اشیاء کی درآمد بند کرنے پر غور شروع کر دیا، البتہ ہم یہاں حکومت سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ منقولہ جائیداد پر ٹیکس بڑھانے کے بجائے، وصول کرنے پر توجہ دے ایک خبر یہ بھی گردش میں ہے کہ نکاح کے فارمز بھی اب 25 ہزار میں ملیں گے ظاہر ہے نکاح خواں بھی اپنی فیس بڑھا دے گا، اگر ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جا رہے تو زندگی کو تو ایک غریب آدمی پر تنگ نہ کیا جائے، ہمارے ہاں یہ جو غیرت کے نام پر قتل میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے پیچھے بھی موبائل فون واٹس ایپ کا غلط، غیر اخلاقی استعمال کارفرما ہے، غلط اطلاعات خبروں اور افواہوں کا بازار بھی گرم ہے اس لئے فوری ردعمل سے پرہیز کریں، اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، والدین اپنے بچوں پر چیک رکھیں کہ کہیں وہ موبائل فون پر غلط کاموں میں تو نہیں پڑ گیا، پہلی چیک پوسٹ پر والدین بیٹھے ہوتے ہیں مگر ڈیوٹی نہیں کرتے اس لئے اولاد طرح طرح کی غلاظتوں میں قدم رکھ بیٹھتی ہے۔

٭٭٭٭

ہنی مون پیریڈ

....Oاحسن اقبال:حکومت کا ہنی مون ختم اب مسائل پر توجہ دے۔

پہلی شادی، پہلا ہنی مون، پہلا خمار نہ کر تنگ پپو یار!

....Oثانیہ مرزا کو شوہر کی یاد ستانے لگی سوشل میڈیا پر پیار بھرا پیغام بھیج دیا۔

پیار کی خاطر دونوں میں سے کسی ایک کو تو قربانی دینا ہو گی۔

....O آشا بھوسلے 85برس کی ہو گئیں۔

آواز تو 18برس کی ہے۔

....Oبورس جانسن سابق برطانوی وزیر خارجہ: تھریسامے نے برطانوی آئین کو خود کش جیکٹ پہنا دی ہے۔

گویا برطانوی آئین دہشت گرد ہو گیا۔

....Oامریکی سینیٹرز :ٹرمپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ تکلیف دہ، امداد روکنا قابل افسوس۔

ہم خوش ہیں وہ ہمیں خود کفیل بنا رہے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں