آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور سے اٹک جیل تک بیگم کلثوم نواز نے مشرف دور میں مختصر لیکن تاریخی جدو جہد کر کے یہ تاثر مٹا دیا کہ سیاست گھریلو خاتون کے بس کی بات نہیں۔بیگم کلثوم نواز شریف خاندان کی وہ غیر متنازع شخصیت تھیں جنہیں بدترین سیاسی مخالفین بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

تین بار خاتون اول رہنے والی کلثوم نواز تھیں تو گھریلو خاتون اور عملی سیاست سے دور لیکن حالات نے جب انہیں سیاست میں دھکیلا تو وہ ایک باصلاحیت اورمدبر سیاست دان کے طور پر سامنے آئیں ۔

مشرف دور میں شریف خاندان پر ٹوٹنے والی مصیبتوں کو بیگم کلثوم نواز نے نہ صرف جھیلا بلکہ اُن کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کیا، بڑے بڑے ساتھ چھوڑ گئے توانہوں نے مجلس تحفظ پاکستان کے نام سے ایک فورم بنایا، بیگم تحمینہ دولتانہ، ظفر اقبال جھگڑا اور سعد رفیق جیسے دیرینہ کارکنوں نے ان کا بھر پور ساتھ دیا۔

لاہور سے پشاور تک کاروان تحفظ پاکستان کا اعلان کیا تو آمر کی حکومت نے ان کو رہائش گاہ کا محاصرہ کرلیا ، رہنما گرفتار ہو گئے لیکن بیگم کلثوم نواز کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئیں تاہم انہیں چند کلومیٹر دور روک لیا گیا اورانہیں لفٹر کے ذریعے گاڑی سمیت اٹھا لیا گیا۔

کلثوم نواز نے پھر بھی ہمت نہ ہاری ،سیاسی حکمت عملی اپنائی اور نوابزادہ نصر اللہ کے ہاں جا پہنچیں، آمریت کے خلاف قائم سیاسی اتحاد جی ڈی اے میں ن لیگ کی شمولیت پر پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کو آمادہ کر لیا لیکن طاہر القادری اور عمران خان ناراض ہو کر اتحاد چھوڑ گئے، اس طرح جی ڈی اے ٹوٹا تو اے آر ڈی کے نام پر نیا اتحاد معرض وجود میں آیا۔

اے آرڈی بننے کے تھوڑے دن بعد ہی شریف خاندان کے تمام افراد جیلوں سے رہا کر کے جدہ بھیج دئیے گئے،نواز شریف کی رہائی کے بعد کلثوم نوازنے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔

2007ء میں وطن واپسی کے بعد بھی وہ سیاست سے دور رہیں۔ 2013ء میں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم اور کلثوم خاتون اول بنیں لیکن پھر بھی سیاست میں متحرک نظر نہ آئیں۔

پانامہ اسکینڈل میں نواز شریف کے نا اہل ہونے کے بعد ان کا سیاسی کرئیر ایک بار پھر جاگا، اپنے خاوند کی نشست پر انتخاب لڑا لیکن بد قسمتی سے کینسر کے موذی مرض نے گھیرلیا۔

انہوں نے الیکشن تو لڑا لیکن عملی طور پر میدان میں نا آ سکیں، یہاں تک کے حلف بھی نہ اٹھا سکیں،1950ء میں جنم لینے والی بیگم کلثوم نواز نےبیماری سے لڑتے لڑتے بالآخر ہمیشہ کیلئے دنیا کوخیرباد کہہ دیا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں