آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میہڑ (نامہ نگار )کاچہو کے علاقے نئیں دلاں میں ایک روز قبل سی آئی اےپولیس دادو اور فرید آباد پولیس کی طرف سے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے پرائمری ٹیچر عبدالفتاح اوگاہی اورشہزاد بھیو کی لاشیں میہڑ اسپتال میں 16 گھنٹے تک پڑی رہیں اور ان کے ورثا مقتول ٹیچر عبدالفتاح اوگاہی کے بیٹے سیف اللہ اوگاہی رشتیدار عبدالکریم اوگاہی ،عبداللہ اوگاہی اور متوفی شہزادو بھیو کی لاش اس کی بیوی شہزادی اور ساس ماروی نے وصول کی جو اپنے آبائی شہر غوث پور ضلع کشمور لے گئے ہیں۔اس موقع پر ہلاک ہونے والے پرائمری ٹیچر عبدالفتاح اوگاہی کے ورثاء نے احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عبدالفتاح اوگاہی بیگناہ تھے وہ مویشی کے تاجر تھے۔ گذشتہ جمعہ کے روز گاؤں سے کراچی کے لئے روانہ ہواتھے جہان مویشی کے پیسے لینے تھے لیکن پولیس نے جعلی مقابلے میں انہیں قتل کرکے ہمارہ گھر اجاڑ دیا ہے۔ہلاک ہونے والے شہزادو بھیو کے ورثاء نے بھی کہا کہ وہ بھی مویشی کے تاجر تھے اور کراچی جا ر ہے تھے جنہیں قتل کرکے لاش دی گئی ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ اور دیگر اعلی حکام سے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف میہڑ میں ڈی ایس پی جاوید اقبال ، فرید آباد کے ایس ایچ او عبید رحمان دھاریجو ، سی آئی اے کے طارق لاکھیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ

ہلاک ہونے والے جرائم پیشہ تھے وہ گاڑیاں چھین کر بلوچستان لے جا کر فروخت کرتے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں