آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن ( نیوز ڈیسک ) انگلینڈ اور ویلز میں رواں عشرہ کے آغاز سے دو تہائی کمی ہو گئی ہے۔ہاورڈ لیگ فار پینل ریفارم کے تحقیقی اعدادوشمار کے مطابق بچوں کی گرفتاریوں کی تعداد 2010 میں تقریباً ڈھائی ملین تھی جو کہ گزشتہ سال کم ہو کر 80000 رہ گئی۔چیریٹی نے گرفتاریوں میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو کرمنل جسٹس سسٹم سے باہر رکھنے سےجرائم روکنے میں مدد ملے گی۔ہاورڈ لیگ کے چیف ایگزیکٹیو فرانسس کروک نے بتایا کہ یہ مسلسل ساتواں سال ہے جب ہم بچوں کی گرفتاری میں کمی دیکھ رہے ہیں۔ یہ پولیس اور ہاورڈ لیگ کی قابل ذکر کامیابی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں بچوں کو پولیس کے غیر ضروری رابطوں اور کرمنل ریکارڈز کے بغیر اپنی زندگی کو تابناک بنانے کے مواقع ملیں گے۔ فریڈم آف انفارمیشن کے تحت حاصل اعدادوشمار کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ پولیس نے 2017میں 79012بچے گرفتار کئے جس کا مطلب ہر 7منٹ بعد ایک بچہ کی گرفتاری ہے۔ سٹڈی کے مطابق 2010میں 245763کے مقابلے میں گرفتار ہونے والے بچوں کی شرح 68 فیصد کم رہی۔ تحقیقی رپورٹ میں لڑکیوں کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی جو کہ گزشتہ سال 12495 تھی اور 2010 کے بعد سے اس میں لڑکوں کی بہ نسبت تیزی سے کمی ہوئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017 میں پرائمری سکول کی عمر کے 616 بچوں کو گرفتار کیا گیا جو کہ گزشتہ سال سے 12

فیصد کم ہیں۔اس تعداد میں کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہاورڈ لیگ نے ان شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں