آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(جنگ نیوز) دنیا کا طویل ترین سمندری راستہ پاکستان سے شروع ہو کر روس کے جزیرے پر ختم ہوتا ہے۔ یہ راستہ 20؍ ہزار میل یعنی تقریباً 32؍ ہزار کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ حال ہی میں کیے جانے والے ایک بحری سروے سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کا طویل ترین سمندری راستہ پاکستان کے ساحلی علاقے سونمیانی سے شروع ہو کر روس کے جزیرے کیم چاتکا (Kamchatka Peninsula) پر ختم ہوتا ہے۔ 2012ء میں ایک ویب سائٹ ریڈ اِٹ پر ایک صارف کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ طویل ترین بحری راستہ پاکستان سے روس پر ختم ہوتا ہے اور اس حوالے سے ایک نقشہ بھی شیئر کیا گیا تھا تاہم، اُس وقت اس بات کی تصدیق نہیں ہو پائی تھی۔ بعد ازاں معروف ٹیکنالوجی کمپنی IBM کے بھارت میں قائم دفتر سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ڈاکٹر کوشل مکھرجی اور یونائیٹڈ ٹیکنالوجیز ریسرچ سینٹر آئرلینڈ کے ماہر طبعیات ڈاکٹر روہن چابَکسوَر نے اس حوالے سے مزید تحقیق کرتے ہوئے ایک مقالہ تحریر کیا۔ اپنی تحقیق کیلئے انہوں نے سب سے پہلے نیشنل اوشنک ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے بین الاقوامی ریلیف ماڈل سے مدد لی اور زمین پر سمندر اور خشکی کا سہ ابعادی (Three Dimensional) نقشہ تیار کیا جو ہائی ریزولوشن تھا۔ تجزیہ شروع ہونے پر معلوم ہوا کہ یہ کام ریاضی کی بنیاد پر مکمل کیا جانا انتہائی مشکل تھا کیونکہ زمین کے محور کے

گرد گھومنے پر ہر پوائنٹ کا دوسرے پوائنٹ سے فاصلہ ناپنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس طرح کے پوائنٹس کی مجموعی تعداد تقریباً 23؍ کروڑ ہے۔ ماہرین نے یہ خیال ترک کرکے جدید ریاضی کا جدید ترین ایلگورتھم بنایا اور اس کا ’’برانچ اینڈ بائونڈز‘‘ نامی قاعدہ استعمال کیا۔ اسی ایلگورتھم کے ذریعے معلوم ہوا کہ طویل ترین سمندری راستہ پاکستان اور روس کے جزیرے کیم چاتکا کے درمیان ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں