آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر نئی حکومت سے عوام بہتری کی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوتا۔ دنیا بھر کے جمہوری ملکوں میں یہی ٹرینڈ پایا جاتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، جاپان، آسٹریلیا اور دیگر کئی ترقی یافتہ ممالک میں بھی ووٹرز نئی حکومت کی ابتدائی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ اندازے لگاتے ہیں کہ ان کے ووٹ کی وجہ سے حکمران بننے والوں کی آئندہ سمت کیا ہوگی۔ ترقی پذیر اور غریب جمہوری ممالک میں تو عوام اپنے منتخب حکمرانوں سے کئی مشکل الحصول توقعات قائم کرلیتے ہیں۔ ان توقعات کی وجہ عام ووٹرز کا ناخواندہ یا کم تعلیم یافتہ ہونا، ملک میں غربت، بعض طبقات کی طرف سے لوگوں کو آگہی اور شعور سے دور رکھنے کی کوششیں، عام ووٹرز میں نسلی، لسانی، برادری، مذہبی یا مسلکی وابستگیوں کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا کی طرف سے بعض لیڈرز کی تعریفی پروجیکشن اور بعض لیڈرز کی برائیاں بھی شامل ہیں۔ یہ چلن صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ہے بلکہ برصغیر میں بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔

ہم نے دیکھا ہے کہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد دلفریب نعروں اور بلند بانگ دعوؤں سے متاثر ہوجاتی ہے۔ ووٹرز کے ایسے ہی رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے کئی سیاسی جماعتوں کے لیڈرز ملک کو درپیش اہم ترین مسائل پر کوئی قابلِ عمل حکمت عملی پیش کرنے کے بجائے اپنی ذاتی پروجیکشن پر زیادہ توجہ اور وسائل صرف کرتے ہیں۔ ساری دانائی ، بصیرت، تدبر اور دیگر کئی خوبیوں کا سرچشمہ بس ایک لیڈر یا اس کے چند اہل خانہ اور چند قریب ترین افراد کو ہی بتایا جاتا ہے۔ ایشیائی اور افریقی کئی ممالک میں اپنے لیڈر کی چاہت میں کئی ووٹرز نے اس صورت حال کو خوش دلی سے تسلیم کیاہوا ہے۔ ایسے ووٹرز حقائق کو نہیں جذبات کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔ ایسے ماحول میں حکومت اور اپوزیشن دونوں مناصب پر موجود سیاسی جماعتیں قوم کی ترقی میں حصہ دار بننے کے بجائے پولیٹکل پوائنٹ اسکورنگ میں زیادہ مصروف رہتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں لاہور اور پنجاب کے چند دیگر شہروں میں ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں واقعی بہت بڑے بڑے کام ہوئے لیکن ساتھ ہی پاکستان کے عوام پر اربوں ڈالر قرض کا مسلسل اضافہ بھی ہوتا رہا اور روپے کی قدر بھی کم ہوتی رہی۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی رہی۔ ایکسپورٹ میں کمی اور امپورٹ میں اضافہ ہوتا رہا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی اتحادی حکومت نے کئی بڑے کام کیے۔ محکمۂ پولیس کو سیاسی مداخلت سے بچاتے ہوئے پولیس پر عوام کا اعتماد قائم کرنے کیلئے آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درّانی کی سربراہی میں قابل قدر کوششیں کی گئیں۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کئی اچھے کام ہوئے لیکن ساتھ ہی پارٹی اور حکومتی معاملات میں کئی نقائص بھی سامنے آتے رہے۔

معیشت اور امن و امان حکومت کیلئے اہم ترین شعبے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے، پیداوار میں اضافے، قرضوں سے نجات اور امن امان کی بہتری کیلئے کسی سیاسی جماعت نے کوئی قابل عمل پروگرام عوام کے سامنے پیش نہیں کیا۔ ان جماعتوں نے اپنے اراکین میں سے ماہرین کے کسی پینل سے بھی عوام کو متعارف نہیں کروایا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں اپوزیشن کا کردار تو بڑھ چڑھ کر ادا کرتی ہیں لیکن حکومت چلانے کیلئے اپنی اہلیت بڑھانے پر بہت کم توجہ دیتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں اکنامک مینجمنٹ، خارجہ پالیسی، داخلی امور، صنعت، زراعت، تجارت، تعلیم، صحت، ماحولیات، قانون و انصاف، انسانی حقوق، سماج اور معیشت کو درپیش اہم مسائل ، ماں بچے کی صحت اور دیگر کئی اہم معاملات کی نشان دہی ا ور ان کیلئے مناسب لائحہ عمل بنانے کیلئے مطالعاتی گروپس اور تھنک ٹینکس موجود نہیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ 7ستمبر کو قوم سے خطاب میں پاکستان میں پانی کے ممکنہ بحران، ملک میں نئے ڈیمز کی فوری ضرورت پر بات کرتے ہوئے قوم سے عطیات کی اپیل کی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار پہلے ہی سپریم کورٹ ڈیم فنڈ قائم کر چکے ہیں۔ اب وزیر اعظم فنڈ اور ڈیم فنڈ کو اکٹھا کردیا گیا ہے۔ نئے ڈیمز کی تعمیر کے لئے وسائل فراہم کرنے اور ہر طرح کے تعاون کے لئے سب سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کو اپنا اپنا تعمیری کردار ادا کرنا چاہئے۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ ایسے بڑے کام چندوں سے نہیں کئے جاتے۔ ابھی تقریباً بیس برس پہلے کی ہی بات ہے جب مسلم لیگ ن کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے پاکستان میں قرض اتارو ملک سنوارو نامی مہم شروع کرتے ہوئے عوام سے عطیات کی اپیل کی تھی۔ معاشی مشکلات، مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدگی کی تشویش ناک صورت حال، پاکستان کے خلاف بھارت کے عزائم اور امریکہ کی جانب سے بھارت کو تھپکیاں، روشن امکانات سے بھرپور منصوبے سی پیک کی وجہ سے فی الحال بعض آزمائشوں کا سامنا کرنے والے ملک پاکستان کو معاشی، سیاسی اور سماجی شعبوں میں کئی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔ یہ مشکل منزلیں دل فریب نعروں، بلند بانگ دعوؤں یا محض خواہشات سے سر نہیں ہوں گی۔ ان حالات میں حکومتی یا اپوزیشن جماعتوں کی پولیٹکل پوائنٹ اسکورنگ بھی ملک یا جمہوریت کے لئے ہرگز مفید نہیں ہوگی۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کو درپیش کئی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے حکومت اور اپوز یشن اپنے اپنے جماعتی مفادات کو فی الحال ایک طرف رکھ کر ایک قومی ایجنڈا بنائیں ۔ اس ایجنڈے میں قلیل المدت، وسط مدتی اور طویل مدتی اہداف مقرر کئے جائیں۔

==== بیگم کلثوم نواز ====

تین بار پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز علالت کے بعد لندن میں انتقال کرگئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ن کو قائم اور متحد رکھنے میں بیگم کلثوم نواز کا کردار بہت اہم رہا۔

====ڈاکٹر حسن صہیب مراد====

شعبہ تعلیم میں پاکستانی قوم کے ایک بڑے خدمتگار ڈاکٹر حسن صہیب مراد نے نئی نسل کو اچھی اور معیاری تعلیم کیلئے 1990ء میں انسٹی ٹیوٹ آف لیڈر شپ اینڈ منیجمنٹ (ILM) کے زیر اہتمام کئی اسکول بعد ازاں کالجز قائم کیے۔ 2004ء میں پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ ایکٹ کے تحت انہوں نے ایک نجی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر اور دانشور خرم جاہ مراد کے صاحبزادے ماہر تعلیم ڈاکٹر حسن صہیب مراد پیر 10ستمبر کو خنجراب سے لاہور آتے ہوئے ٹریفک حادثے میں انتقال کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ اس حادثے میں ان کے صاحبزادے ابراہیم زخمی ہوئے۔ ڈاکٹر حسن صہیب ایک درویش صفت اور غریب پرور انسان تھے۔ پاکستان میں تعلیم کے فروغ اور معیار تعلیم میں مسلسل ترقی کیلئے انہوں نے اپنی زندگی وقف کررکھی تھی۔