آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بہشت میں قیام یوں تو ہر ذی روح کی آرزو رہی ہے مگر مسلمانوں میں یہ بات آرزو سے بڑھ کر جنون کی حد میں شامل ہو چکی ہے۔ بہشت کے حوالے سے بے شمار خوش کن تصورات ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ قرآن پاک میں بہشت کے بارے میں جن نعمتوں، آسانیوں اور آسائشوں کا ذکر ہے ان کے حوالے سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ نیک روح لطافت کے اس اعلیٰ درجے پر فائز ہو گی جس میں اسے اس طرح کی سرشاری نصیب ہو گی جو مادی دنیا میں ان چیزوں کے حصول کے بعد ہمیں محسوس ہوتی ہے،کیوں کہ ابدی دنیا میں تو زمان و مکان اور مادے کا تصور ہی نہیں ہو گا پھر مادی اشیاء کا حصول کیسا؟
ہمارے زیادہ تر اعمال بہشت کی جستجو میں سرانجام پاتے ہیں یعنی اعمال کا محرک منطقی طور پر اچھے اور درست کام کرنا نہیں بلکہ اجر و ثواب کمانے کے لئے ہوتا ہے تبھی ہم عبادات میں بھی جمع تفریق کے قائل ہیں اور گنتی کی یہ عادت دراصل ظاہری ترقی اور ظاہری مفاد سے منسوب ہے۔ بہشت کا حصول بھی دراصل خدا کی خوشنودی سے زیادہ اپنے آرام و آسائش کی دائمی طلب گاری کا آئینہ دار ہے لیکن زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اعمال کی بجائے کسی بہشتی دروازے کی آس میں رہتے ہیں اور اس مقام پر بھی یہ آرزو ہرگز نہیں ہوتی کہ کوئی ہستی یا معجزہ پلک جھپکتے ان کے تن من پر لگے برائی کے تمام داغ دھو کر انہیں پاک صاف کر دے بلکہ

صرف بہشت میں داخلے کا سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔
بابا فرید گنج شکر پنجاب کے بڑے صوفی شاعر جن کی پوری زندگی طہارت، حب الٰہی اور خدمت ِ خلق سے بھرپور تھی۔ جن کے ہر اشلوک میں ایک حکم موجود ہے اور اس حکم میں ان کی اپنی ذات بھی شامل ہوتی ہے، مثلاً
اٹھ فریدا سُتیا دے جھاڑو وچ مسیت
توں سُتا رب جاگدا تیری ڈاڈھے نال پریت
مسیت (مسجد) سے مراد کل کائنات ہے جس کی صفائی ستھرائی ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ انسان جس کا ہر لمحہ یادِ خدا میں بسر ہو اور ہر لمحہ عمل سے عبارت ہو۔ بابا فرید کے دربار پر ایک بہشتی دروازہ موجود ہے جس کے بارے میں عمومی روایات کے مطابق بابا فرید نے فرمایا تھا کہ جو کوئی اس سے گزرے گا وہ بہشت میں جائے گا۔ کیا ایسا ممکن ہے بابا فرید جیسا صاحب ِ علم و عرفان صوفی جو ولایت کے درجے پر فائز ہو ایسی بات کہہ دے جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو سکے۔ ان کے کہنے کا مقصد اپنے کلام میں دیئے گئے سبق اور ان کی زندگی کے عملی نمونے کی پیروی تو ضرور ہو سکتا ہے اور وہ رستہ جس پر وہ تمام عمر چلتے رہے مگر وہ نہیں ہو سکتا جو ہم نے اخذ کر لیا ہے۔ ان کا رستہ مشکل رستہ تھا۔ خالق اور مخلوق سے محبت کا رستہ کیوں کہ خالق کی سچی محبت انسان کو جبلی سطح سے بلند کر کے انسانی سطح پر لے جاتی ہے اور وہ نسل، قوم، مذہب اور علاقے کی قید سے آزاد ہو کر وحدتِ انسانی بلکہ وحدتِ مخلوق کا قائل ہو جاتا ہے۔ تمام مخلوق اس خالق کی تخلیق کردہ ہے جو محبوب اور مطلوب ہے۔ اس لئے تمام مخلوق کی عزت اور اس سے محبت واجب ہو جاتی ہے ،صوفی خدمتِ خلق کے رستے پر چلتا ہوا خدا تک پہنچتا ہے۔ اس لئے ہر انسان اُس کے لئے معتبر ہے۔ بابا فرید کا ہی شعر ہے
فریدا خالق خلق میں، خلق دِسّے رب مانہہ
مندا کس نوں آکھیئے، جاں تِس بن کوئی نانہہ
یعنی اگر ہر ایک میں خدا کا جلوہ ہے تو پھر برا کس کو کہیں؟ جب کہ تیرے سوا کائنات میں کچھ موجود ہی نہیں۔ وحدت الوجود کا یہ نظریہ وحدتِ مخلوق اور وحدتِ انسانی کا درس دیتا ہے اور تمام انسانوں کو ایک لڑی میں پرو کر ہر قسم کی تفریق کی نفی کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے ”اس نے تمہیں ایک ہی جوہرِ حیات سے پیدا کیا۔ انسان ایک ہی امت ہیں لیکن لوگوں نے اختلاف کیا“۔ صوفیاء نے ان آیات سے انسانی وحدت کا تصور اخذ کیا تو ان کیلئے کوئی جھگڑا باقی نہ رہا۔ ظاہری تفاوت باطنی حیثیت پر اثر انداز نہ ہو سکا کیوں کہ باطن میں ایک ہی چراغ روشن ہے، فرق صرف ظاہر کا ہے جو ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے۔ آج یہ فرق بڑھتے بڑھتے ایک ایسی خلیج بن چکا ہے جس کو ختم کر کے دوبارہ دوستی کے رشتے کو استوار کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے اور یہاں بھی ہم سرفہرست ہیں۔ ایک عالم ہم سے خوفزدہ ہے۔ ہم جو سلامتی، رحمت، امن، انسانیت، محبت اور وضع داری کے پرچارک ہیں مگر ہماری تعلیمات ہماری ترجیحات اور منشورِ حیات میں شامل نہیں اور نہ ہی ہمارے قول و فعل اس کے عکاس ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں الہیات کے باب میں ٹھیکیداری کا رویہ غالب ہے جبکہ صوفی ٹھیکیداری نہیں کرتا، وہ مناظر ے کے کھٹ راگ میں بھی نہیں پڑتا، کسی کی نفی اور اثبات سے بھی اسے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی وہ کسی کو ایمان اور کفر کی سندیں تقسیم کرتا ہے۔ اس کی گٹھڑی میں سزائیں اور عطائیں نہیں صرف محبت کا تعویز ہے۔ اس ہستی سے جو ستّر ماؤں سے زیادہ مہربان ہے اس لئے وہ اس کے خوف، ڈر، جبر اور قہر سے ڈرانے دھمکانے کی بجائے اس سے محبت کی بات کرتا ہے، ایسی محبت جو دنیاوی اغراض و مقاصد اور اخروی اجر و ثواب کی طلب گار نہیں۔ وہ تو ’جو دم غافل سو دم کافر‘ کا قائل ہے مگر ہم نے اس صوفی کی تعلیمات سے اپنی من مرضی کا مفہوم اخذ کر کے اپنے لئے ایک آسان راستہ چُن لیا اور ظاہر پرستی کے قائل ہو کر رہ گئے۔ حضرت سلطان باہو نے کہا تھا۔
ایہہ تن رب سچے دا حجرہ پا فقیرا جھاتی ہو
نہ کر منت خواج خضر دی اندر آب حیاتی ہو
یعنی تمام خزانے انسان کی ہستی کے اندر موجود ہیں۔ صرف اپنے اندر جھانکنے اور خود کو تلاشنے کی ضرورت ہے۔ اندر کھلنے والا دروازہ ہی دراصل بہشتی دروازہ ہے اور بہشت بھی اندر ہی موجود ہے جو صائب اور غیر صائب افعال سے مشروط ہے۔ وہ مسرت اور سرشاری جو کسی نیک فعل کے سرانجام دینے سے حاصل ہو بہشت کے مصداق ہے اور وہ بے سکونی، غیر اطمینانی اور گِلٹ جو کسی بد یا غیر صائب فعل کے نتیجے میں پیدا ہو جہنم کے مترادف ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان جس کا ضمیر جاگتا ہو وہ انسانیت کو زد پہنچا کر خود کو آرام میں محسوس کرے۔ صوفیاء نے اسی لئے عبادات کے ظاہری پن پر کڑی تنقید کی ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں عبادات اگر رب سے عشق کے جذبے کے طور پر سرانجام نہ دی جائیں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل عبادت وہ ہے جو آپ کو اپنے سچے خدا کے عشق میں باندھ دے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیاء ایمان کی سلامتی سے زیادہ عشق کی سلامتی کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔
حضرت رابعہ بصری کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن وہ اپنے ایک ہاتھ میں آگ اور ایک ہاتھ میں پانی کا پیالہ اٹھائے بازارِ مصر سے گزر رہی تھیں۔ کسی نے پوچھا آپ کہاں جا رہی ہیں۔ فرمایا اس آگ سے جنت کو جلانے جا رہی ہوں تاکہ لوگ جنت کے لالچ میں عبادات نہ کریں بلکہ خدا کی محبت میں اس کے سامنے سر جھکائیں اور اس پانی سے دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے جا رہی ہوں تاکہ لوگ دوزخ کے خوف سے عبادات نہ کریں۔ مطلب عبادات کا محرک رب کا عشق ہو کسی اور شے کا حصول یا خوف نہ ہو تب عبادت، عبادت کہلاتی ہے۔صوفیاء کے دربار درِ مراد ہیں اور مرنے کے بعد بھی وہاں فیض کے چشمے اُسی طرح جاری و ساری ہیں یہ دربار محکوم ، مجبور اور بے وسیلہ لاگوں کیلئے پناہ گاہیں ہیں۔ جہاں لنگر بھی ہے اورسر چھپانے کا ٹھکانہ بھی لیکن صوفیاء کی پھیلائی ہوئی روشنی کوگدی نشینی کی دنیاداری نے بری طرح گہنا دیا ہے۔ صوفیاء کے کلام کو پڑھتے ہوئے حرفوں اور لفظوں کی دیوار پھلانگ کر روح کے احاطے میں داخل ہونا پڑتا ہے پھر لفظ اپنے اصل معنی و مفہوم میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ضرورت ہے بہشتی دروازے کی بجائے بابا فرید کے کلام میں چھپی بصیرتوں پر توجہ مرکوز کی جائے تو بشارتوں کے دروازے خود بخود کھلتے جائیں گے۔ خدا کرے یہ سلسلہ جاری رہے اور ہم اس دھرتی کو صوفیاء کی تعلیمات کے مطابق امن، محبت اور وضع داری کا گہوارہ بنا سکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں