آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بریسٹ کینسر جُرم نہیں، جسے چُھپایا جائے

بات چیت: عالیہ کاشف عظیمی

عکّاسی: اسرائیل انصاری

’’نیشنل بریسٹ کینسر فائونڈیشن‘‘ کے زیرِ اہتمام ہر سال دُنیا بَھر میں اکتوبر کا پورا مہینہ ’’بریسٹ کینسر آگہی‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، تاکہ مرض کی وجوہ، علامات اور روک تھام سے متعلق خواتین میں شعور بیدار کیا جا سکے اور اگر کوئی خاتون خدانخواستہ مرض کا شکار ہوجائے، تو وہ ابتدائی مرحلے ہی میں، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فوری معالج سے رابطہ کرے۔ یاد رہے کہ اگر یہ مرض ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے، تو صحت یابی کے امکانات خاصے بڑھ جاتے ہیں۔ بریسٹ کینسر کی شرح کے اعتبار سے ایشیائی مُمالک میں پاکستان کا پہلا نمبر ہے۔ جب کہ شرحِ اموات کا سبب بننے والے امراض میں بھی بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے۔ اصل میں ہمارے یہاں ہر سطح تک صحت کی بنیادی سہولتیں میسّر نہیں اور پھر لاعلمی جیسے محرّکات بھی مرض کے پھیلائو کی وجہ بن رہے ہیں۔ سو ’’آگہی ماہ‘‘ کی مناسبت سے ہم نے اس ضمن میں مُلک کی معروف جنرل سرجن، بریسٹ کینسر اسپیشلسٹ، ڈاکٹر روفینہ سومرو سے تفصیلی بات چیت کی۔

ڈاکٹر روفینہ سومرو نے1984ء میں طب کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد،1991ء میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجن آف پاکستان سے جنرل سرجری میں ایف سی پی ایس کیا اور پھر2015ء میں آغا خان یونی ورسٹی، کراچی سے میڈیکل ایجوکیشن میں ایڈوانس ڈپلوما حاصل کر کے، 2016ء میں رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف گلاسکو (یو کے) سے ایف آر سی ایس کیا۔ جب کہ ہارورڈ میڈیکل اسکول (یو ایس اے) آفس آف گلوبل ایجوکیشن سے انٹروڈکشن ٹو کلینیکل ریسرچ ٹریننگ پروگرام میں بھی حصّہ لیا۔ 2017ء میں امریکن کالج آف سرجنز سے ایف اے سی ایسFellow American College Of Surgeonsکی ڈگری حاصل کی۔ علاوہ ازیں، انہیں پاکستان سوسائٹی آف سرجنز، ایسوسی ایشن آف بریسٹ سرجن (یو کے) اور سوسائٹی آف بریسٹ کینسر (یو ایس اے) کی ممبر شپ بھی حاصل ہے۔ نیز، رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف گلاسکو کے اراکین میں بھی شامل ہیں۔ نیز، گزشتہ آٹھ برس سے سی پی ایس پی کے اٹلس پروگرام کی سینئر انسٹرکٹر کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ کئی مقالات اور ایک کتاب ’’اٹلس آف بریسٹ ڈیزیز‘‘ کی مصنّفہ ہیں۔ اس وقت لیاقت نیشنل اسپتال اینڈ میڈیکل کالج، کراچی کے شعبہ جنرل سرجری کی سربراہ ہیں اور بطور کنسلٹنٹ، بریسٹ سرجن اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

س : ایک عام خاتون کے سمجھنے کے لیے بریسٹ کینسر کے محرّکات اور عوامل پر کچھ روشنی ڈالیے؟

ج : دراصل انسانی جسم خلیات سے مل کر بنتا ہے، جن کی تعداد تین ارب کے لگ بھگ ہے، یہ ایک قدرتی نظام کے تحت پیدایش سے لے کر موت تک ایک جیسے نہیں رہتے، بلکہ جو خلیے کسی بھی وجہ سے ختم ہو جائیں، ان کی جگہ نئے خلیات لے لیتے ہیں۔ یوں جسم اپنے خلیات کی مخصوص تعداد پوری کرلیتا ہے، لیکن اگر کسی بھی سبب اس نظام میں کچھ گڑبڑ واقع ہوجائے، تو جسم کے پُرانے ناقص خلیات ختم ہونے کی بجائے نہ صرف تیزی سے تقسیم ہونے لگتے ہیں، بلکہ اپنی مقررہ تعداد سے تجاوز بھی کرجاتے ہیں۔ اب جسم کے جس حصّے کے خلیے مخصوص تعداد سے ہٹ کر بڑھ رہے ہوں، وہاں یہ گچھے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جسے طبّی اصطلاح میں ’’رسولی‘‘ کہا جاتا ہے۔ بریسٹ کینسر میں بھی یہی عمل کارفرما ہے۔ عمومی طور پر بریسٹ کینسر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور بڑھ کر ایک گلٹی (Lump) کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو دبانے سے باآسانی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اگر مرض کی بروقت تشخیص نہ ہو اور علاج میں تاخیر یا کوتاہی ہو جائے، تو یہ سرطان بغل کے گلینڈز اور پھر جسم کے دیگر حصّوں تک پھیل جاتا ہے، مثلاً جگر، پھیپھڑوں اور ہڈیوں وغیرہ تک۔ اگرچہ بریسٹ کینسر کی اصل وجوہ کا تاحال علم نہیں ہو سکا، لیکن بعض عوامل اہم ضرور ہیں۔ جیسا کہ خاتون ہونا ہی سب سے بڑا رسک فیکٹر ہے۔ 

پھر بڑھتی ہوئی عُمر،30سال یا اس سے زائد عُمر میں پہلا حمل ٹھہرنا، نومولود کو اپنا دودھ نہ پلانا اور50برس کی عُمر تک ماہ واری آنا مرض لاحق ہونے کے خطرات بڑھا دیتے ہیں۔ یاد رکھیے، اگر ایک خاتون کو طویل عُمر تک ماہ واری آتی رہے، تو اُسے بریسٹ کینسر لاحق ہونے کے امکانات،40برس کی عُمر میں مینوپاز کا شکار ہوجانے والی خواتین کی نسبت زیادہ ہوتےہیں۔جب کہ دیگر وجوہ میں ہارمون ری پلیسمینٹ تھراپی، مانع حمل ادویہ، موٹاپا، تمباکو نوشی، الکوحل کا استعمال، بانجھ پَن، مرغّن اور فروزن غذائوں کا استعمال، ماحول کا صاف ستھرا نہ ہونا اور آلودگی وغیرہ شامل ہیں۔ نیز، اگر بریسٹ کینسر کی فیملی ہسٹری ہو، مثلاً والدہ، بہن، نانی، دادی وغیرہ کو یہ مرض لاحق ہوا ہو، تو بھی مرض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

س : یہ مرض دِن بہ دِن عام کیوں ہوتا جا رہا ہے؟

ج : بے شمار وجوہ ہیں۔ مثلاً ماحولیاتی آلودگی، فاسٹ فوڈز، ناقص، غیر معیاری، ملاوٹ شدہ غذا یا دودھ کا استعمال، صفائی ستھرائی کا فقدان اور موٹاپا وغیرہ۔

س : موروثیت کا تناسب کس حد تک ہے؟

ج : اس مرض کی موروثی ہونے کے15فی صد امکانات پائے جاتے ہیں، وہ بھی اُس صورت میں، جب خاندان کے قریبی فرد کے جین میں سرطان کا کوڈ محفوظ ہو، پھر ایک وجہ جین بھی ہے۔اصل میں والدین کے ذریعے مخصوص جینزBrca1 اورBrca2منتقل ہوتے ہیں،اگر کسی بھی وجہ سے کسی ایک فریق کا یہ جین گڑبڑ کا شکار ہوجائے، تو اُن کی یہاں جنم لینی والی لڑکیوں میں بریسٹ کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یعنی اگر والد کے بھی جین کا توازن بگڑ جائے، تو بیٹیوں میں بریسٹ کینسر کا رسک بڑھ سکتا ہے۔

س: پاکستان سمیت دُنیا بَھرمیںاس مرض کے پھیلائو کی شرح کیا ہے اور پاکستان کا نمبر مرض اور مریضوں کے اعتبار سے کون سا ہے؟

ج : دُنیا بَھر میں ہر12خواتین میں سے ایک، بریسٹ کینسر کے رسک کا شکار ہے۔ تاہم، ایشیائی مُمالک میں پاکستان سرِفہرست ہے۔ اگر اعداد و شمار کی بات کی جائے، تو مغربی مُمالک اور پاکستان کا تناسب تقریباًیک ساں ہے۔ جب کہ عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اموات کی وجوہ میں بریسٹ کینسر ٹاپ ٹوئینٹی میں شامل ہے۔

س : کیا مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے ماہرین کی تعداد تسلی بخش ہے؟

ج : ہر گز نہیں، یہاں مریضوں کی نسبت اونکولوجسٹ سرجنز ہی کی نہیں، ریڈیالوجسٹ وغیرہ کی بھی تعداد انتہائی کم ہے۔ ریڈی ایشن کے عمل ہی سے گزرنے کے لیے مریضوں کو 4سے 5ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے، جب کہ سرطان کے مخصوص اسپتال تو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔

س : بریسٹ کینسر کی اقسام کی بھی کچھ تفصیل بتائیں؟

ج : بائیوآپسی رپورٹ کے مطابق بریسٹ کینسر کی کچھ اقسام شدید نوعیت کی، تو بعض کی نوعیت درمیانی اور معمولی ہوتی ہے۔ تاہم، ایک قسم، جو طبّی اصطلاح میں Ductal کہلاتی ہے، بہت عام ہے۔ 90فی صد خواتین اسی کا شکار ہوتی ہیں۔ دیگر اقسام میں Tubular ، Mucinous وغیرہ شامل ہیں۔

س : مینوپاز کا آغاز 40برس کی عُمر میں ہونے سے بریسٹ کینسر کے خطرات کم ہو جاتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

ج : عام طور پر اگر کوئی خاتون وقت سے پہلے مینوپاز کا شکار ہو جاتے، تو کئی طبّی مسائل جنم لیتے ہیں، لیکن یہ عمل بریسٹ کینسر کے خطرات کم کرنے کے اعتبار سے بہتر ہے، کیوں کہ جس خاتون کے ماہ واری کے چکر یعنی (Menstrual cycle) جتنے زیادہ ہوتے ہیں،اس میں بریسٹ کینسر کے خطرات بھی اتنے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس طرح اگر ہارمونز تھراپی پانچ یا دس سال سے کروائی جا رہی ہو ، تو وہ بھی بریسٹ کینسر کی وجہ بن سکتا ہے۔

س : مرض کی ابتدائی علامات پر بھی کچھ روشنی ڈالیں؟

ج : زیادہ تر کیسز میں تو گلٹی ظاہر ہوتی ہے، لیکن یہ واحد اور حتمی علامت نہیں، کیوں کہ بعض کیسز میں جو علامات ظاہر ہوتی ہیں، اُن میں بریسٹ کی جِلد یا نپل کا اندر کی جانب دھنس جانا، ساخت میں تبدیلی، بریسٹ میں درد، نپل سے خون کا اخراج، بغل میں غدود محسوس ہونا، سُوجن، حجم میں فرق، جِلد کی رنگت بدل جانا وغیرہ شامل ہیں، جب کہ بعض کیسز میں بغیر درد کی گلٹی بھی ظاہر ہوتی ہے۔

س : مرض کی تشخیص کا سب سے مؤثر طریقہ کار کون سا ہے؟

ج : عمومی طور پر تشخیص کے تین مراحل ہیں۔ پہلا ماہر معالج کا معائنہ، دوم میموگرام اور سوم بائیوآپسی۔ میموگرام مشین ہاتھ کے ذریعے محسوس کی جانے والی گلٹی بھی تقریباً دو برس قبل تشخیص کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لہٰذا ایک ماہر معالج ہمیشہ مرض کی تشخیص کے لیے پہلے میمو گرام ٹیسٹ ہی تجویز کرتا ہے، جس کے بعد بائیوآپسی کے ذریعے حتمی تشخیص کی جاتی ہے۔

س : اس وقت علاج کے کون کون سے جدید طریقے رائج ہیں اور سب سے مستند کون سا ہے؟

ج : اس وقت تقریباً 4 سے 5 جدید طریقۂ علاج مستعمل ہیں، جو مرض کی قسم اور اسٹیج کے لحاظ سے اپنائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ایک طریقۂ علاج سرجری ہے، جو جسم کے دیگر حصّوں تک مرض نہ پھیلنے کی صورت میں کی جاتی ہے۔ دوسرا طریقہ کیمو تھراپی ہے، جس میں مریضہ کو مخصوص ادویہ ڈرپ میں شامل کرکے دی جاتی ہیں۔ گرچہ ان کے مضر اثرات سے انکار ممکن نہیں، لیکن یہ وقتی ہی ہوتے ہیں۔ ایک طریقۂ علاج ٹارگٹ یا جین تھراپی ہے، جس میں کینسر والے جین کو ٹارگٹ کر کے دوا دی جاتی ہے۔ یعنی اگر "Her2gene" مثبت ہے، تو پھر اِسے ختم کرنے کے لیے مخصوص دوا دی جائے گی۔ اس طرح ایک علاج ریڈی ایشن تھراپی کا بھی ہے، جو شعاؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بعض کیسز میں ہارمونز کی ادویہ بھی استعمال کی کروائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ طریقۂ علاج صرف ان خواتین کے لیے ہے، جن کی بائیوآپسی رپورٹ ہارمونز ادویہ کے لیے پازیٹو ہو۔ اصل میں ہر مریضہ کے مرض کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے بائیوآپسی رپورٹ کے بعد ہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون سا طریقۂ علاج مؤثر ثابت ہو گا۔

س: کس مرحلے پرسرجری کی ضرورت پیش آتی ہے؟

ج: سرجری کی تو تقریباً ہر مریضہ کو ضرورت ہوتی ہے، لیکن اگر سرطان جسم کے کسی دوسرے حصّے تک پھیل جائے، تو پھر براہِ راست سرجری نہیں کی جاتی۔ اس صورت میں پہلے ادویہ کے ذریعے سرطان کا پھیلائو روکا جاتا ہے اور پھر سرجری کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

س: اگر دورانِ حمل بریسٹ کینسر کی تشخیص ہو جائے، تو علاج کا کیا طریقۂ کار ہو گا؟

ج: ایک پوری ٹیم اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ آیا بریسٹ کینسر کے ساتھ حمل کی مدّت کسی پیچیدگی کے بغیر پوری ہو بھی سکتی ہے یا نہیں۔ عام طور پر ابتدائی تین ماہ میں بریسٹ کینسر کے علاج سے گریز کیا جاتا ہے، پھر بعد میں رپورٹس کی روشنی میں علاج کا طریقۂ کار تجویز کیا جاتا ہے۔ تاہم، حاملہ کی ریڈی ایشن اور "Sentinel node biopsy"نہیں کی جاتی۔ البتہ بعض کیسز میں کیموتھراپی انتہائی مخصوص دوا کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔

س: عُمر کے کس حصّے میں بریسٹ کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟

ج: یوں تو اس عارضے کا رسک عُمر کے ساتھ بڑھتا ہے ،تاہم پاکستان میں 40سے 50سال اور مغربی مُمالک میں 50سے 60برس کے بعد خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہٰذا خواتین کو چاہیے کہ وہ 40سے50برس کی عُمر کے درمیان میموگرام ضرور کروائیں۔

س: ایک بار سرجری کے بعد بھی دوبارہ مرض لاحق ہونے کے خطرات ہوتے ہیں، اگر ہاں تو وجوہ کیا ہیں؟

ج:جی بالکل،اگر صرف سرجری کی جائے، تو مرض دوبارہ لاحق ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں، لیکن کیموتھراپی وغیرہ کے بعد یہ خطرات کم ہو جاتے ہیں۔

س: سرجریز مختلف نوعیت کی ہوتی ہے یا بریسٹ ریموول لازم ہے اور ایک خاتون پر اس کے کیا نفسیاتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ نیز، سرجری کے لیے ذہنی طور پر کسی طرح آمادہ کیا جاتا ہے؟

ج:دیکھیں، مرض جس قدر جلد تشخیص ہوجائے، بریسٹ ریموول کے خطرات اتنے ہی کم ہو جاتے ہیں۔ رہی بات نفسیاتی اثرات کی، تو صرف مریضہ ہی نہیں، اُس کے اہلِ خانہ بھی شدید نفسیاتی دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں، کیوں کہ یہ لفظ’’بریسٹ کینسر‘‘ہے ہی ایسا کہ جسے سُن کر عورت گویا جیتے جی مَرجاتی ہے۔ لہٰذا اگر کسی خاتون کی رپورٹ مثبت آجائے، تو مریضہ سمیت اُس کے اہلِ خانہ کی بھی کائونسلنگ کی جاتی ہے، تاکہ علاج معالجے میں ذہنی دبائو آڑے نہ آئے۔یہاں لیاقت نیشنل اسپتال میں تو ’’اونکولوجسٹ سپورٹ سینٹر‘‘ موجود ہے۔ جہاں اس مرض سے صحت یاب ہونے والی خواتین محض خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت مریض خواتین کی کائونسلنگ کرتی ہیں اور جب مریض خواتین کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی ان ہی خواتین کی طرح علاج کے بعد بھی ایک بَھرپور زندگی جی سکتی ہیں، تو ان میں بھی جینے کی نئی لگن پیدا ہوتی ہے۔

س: ہمارے معاشرے میں سرطان سے متعلق کئی مفروضات بھی عام ہیں، مثلاً بریسٹ کینسر سے متعلق کہا جاتا ہے کہ میموگرام(ابتدائی تشخیصی ٹیسٹ) اور بائیوآپسی، مرض کے پورے جسم میں پھیلائو کی وجہ بن جاتے ہیں، تو ان میں کہاں تک صداقت ہے؟

ج:میموگرام ایک مشین ہے، جس کے مضراثرات انتہائی خفیف ہیں، جب کہ بائیوآپسی تو علاج کا ایک اہم حصّہ ہے۔ کوئی معالج چاہے جتنا بھی تجربہ کار کیوں نہ ہو، اُس کے ہاتھ مائیکرواسکوپ نہیں بن سکتے۔ پھر بائیوآپسی رپورٹ ہی کی بنیاد پر علاج کا طریقۂ کار اور ادویہ وغیرہ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ جب کہ یہ بھی ہمارے مشاہدے میں ہے کہ بعض خواتین کا مرض ابتدائی مرحلے پر تشخیص بھی ہوا، مگر انہوں نے بائیوآپسی کے ڈر سے دوبار معالج سے رابطہ نہیں کیا اور پھر جب سال، دو سال بعد آئیں، تو مرض پورے جسم میں پھیل چُکا تھا۔ جب انہوں نے بائیوآپسی کروائی ہی نہیں، تو پھر سرطان کیوں پھیل گیا، تو یہ سب مفروضات ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

س: کس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کہ مرض سے محفوظ رہا جا سکے؟

ج:بریسٹ کینسر سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین روزمرّہ معمولات میں تھوڑی سی تبدیلی لے آئیں۔ جیسا کہ ورزش کو معمول کا حصّہ بنالیا جائے، صحت و صفائی کا خاص خیال، وزن کنٹرول میں رکھیں، پہلا حمل 30برس کی عُمر سے قبل ٹھہر جائے، تو اچھا ہے۔ پھر بچّے کی پیدایش سے لے کر مقررہ مدّت تک لازماً اپنا دودھ پلائیں۔ مانع حمل ادویہ، ہارمون ری پلیسمینٹ تھراپی کے ازخود اور غیر ضروری استعمال سے اجتناب برتیں۔ متوازن غذا خاص طور پر تازہ پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔مرغّن غذائوں کا استعمال نہ ہی کیا جائے، تو بہتر ہے۔ مینوپاز کے بعد وزن نہ بڑھنے دیں۔ تمباکو نوشی اور الکوحل کے استعمال سے مکمل طور پر اجتناب برتیں اور جسم میں وٹامن ڈی کا لیول برقرار رکھیں۔ نیز، پیچیدگیوں سے بچائو کے لیے معالج کی ہدایت پر سختی سے عمل کریں۔

س:’’بریسٹ کینسر آگہی ماہ‘‘ کے حوالے سے خواتین کو کچھ مفید مشورے دینا چاہیں گی؟

ج: دیکھیں، بریسٹ کینسر جُرم نہیں، جسے چُھپایا جائے لہٰذا کوئی بھی خاتون اگر بریسٹ میں معمول سے ہٹ کر کسی بھی قسم کی تبدیلی یا علامت محسوس کرے، تو فوری طور پر اپنی فیملی کو اعتماد میں لے کر، ماہر معالج سے رابطہ کرے۔ اور ہر خاتون مہینے میں کم از کم ایک بار خود بریسٹ کا معائنہ کرے، تاکہ سرطان کی شکل میں نمودار ہونے والے کسی بھی خطرے کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔