آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کس قدر آسانی ہے کہ آپ نے کارڈ مشین میں ڈالا اور اپنی مطلوبہ رقم حاصل کی اور چلتے بنے۔ نہ کیش سنبھالنے کا جھنجٹ اور نہ چوری ہونے کا خدشہ، اور تواور اے ٹی ایم مشینوں نے یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی اور رقوم کی منتقلی کا کام بھی آسان بنا دیا ہے۔ ہم چونکہ ٹیکنالوجی مستعار لیتے ہیں اسی لیے پاکستان میں یہ سہولت تو بہت بعد میں آئی ہے جبکہ خودکار کیش مشین مغربی دنیا میں51برس پہلے آچکی تھی۔ 27جون 1967 ءکودنیا کی پہلی 'آٹومیٹڈ ٹیلر مشین یعنی اے ٹی ایم لندن کے علاقے این فيلڈ میں بارکلیز بینک کی ایک شاخ میں لگائی گئی تھی۔ اس سے رقم نکالنے والے پہلے شخص ٹی وی فنکار ریگ وارنی تھے، اُن دنوں پلاسٹک کے کارڈ نہیں ہوتے تھے، اس لئے مشین سے پیسے نکالنے کیلئے چیک ہی استعمال ہوتے تھے، جن پر ہلکا سا کاربن14لگایا جاتا تھا۔ مشین چیک اور Pin نمبر کا موازنہ کرکے رقم ادا کرتی تھی۔ اے ٹی ایم کی گولڈن جوبلی کے موقع پر بینک نے اس پہلی مشین کو سونے کی مشین میں تبدیل کر دیا تھا۔

اے ٹی ایم کا آئیڈیا

رقم نکالنے کی آسانی دینے والی خودکار کیش مشین (اے ٹی ایم) کا خیال سب سے پہلےجان شیپر ڈبیرن کو آیا، ایک دن اُن کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر گاہکوں کو چاکلیٹ مشین کے ذریعے مل سکتی ہے تو ایسی مشین کیوں نہیں بنائی جاسکتی جو رقم دے سکے۔ انہوں نے اپنا آئیڈیا بارکلیز بینک کی انتظامیہ کو بتایا تو وہ فوراً اس مشین کی تیاری اور استعمال کیلئے تیار ہوگئی۔

پِن کوڈ کی ایجاد

پن کوڈ کی ایجاد کے بارے میں شیپرڈ بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے اے ٹی ایم مشین کی ایجاد کے بعد Pin کوڈ کے بارے میں سوچا تو باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بیگم سے بات کی۔ جب وہ فوج میں تھے تو ان کی پہچان ایک نمبر سے تھی، جس میں چھ عدد تھے اور انھیں یہ سارے اعداد یاد تھے لیکن ان کی بیگم کو ان میں سے صرف چار ہی یاد رہتے تھے۔ عام افراد کیلئے چھ ہندسے یاد رکھنا کافی مشکل ہے اور یہی وجہ تھی کہ شیپرڈ نے Pinکوڈ کے لئے اپنی بیگم کی یادداشت کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف چار اعداد مقرر کیے۔

استعمال میں کمی

انٹرنیٹ بینکنگ اور پوائنٹ آف سیل آئوٹ لیٹس پر کارڈ سوائپ کرنے کی سہولت کی وجہ سے اے ٹی ایم مشینوں کے استعمال میں کمی آئی ہے لیکن ابھی بھی عشروں تک لوگوں کے لیے کیش کی ضرورت برقرار رہے گی۔ آج کے دور میں بینک اے ٹی ایم کو ایک ایسی مشین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو بینک کے تقریباً سارے کام کرنے کی اہل ہو۔ اے ٹی ایم کے ڈویلپر این سی آر کا کہنا ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بینک کے اندر ملازم جو فرائض انجام دیتے ہیں، اس میں سے لین دین سمیت 80فیصد کام ایسے ہیں جو ایک اے ٹی ایم مشین پر کیے جا سکتے ہیں۔

اے ٹی ایم کے فراڈز

پچھلے دنوں ہم نے اے ٹی ایم فراڈ کے بارے میں سنا کہ مقامی اور غیر ملکی افراد ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے لوگوں کے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی اسکیمنگ کرکے ان کو لوٹ رہے ہیں۔ اس ضمن میں احتیاط اور اے ٹی ایم کے محفوظ استعمال کے ابلا غ کی بھی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس ضمن میں چند احتیاطیںنوٹ فرمالیں۔

آپ کا کارڈ اور PIN

اپنے اے ٹی ایم کارڈ، کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کو محفوظ جگہ پر رکھ کر نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ اسے موڑنے یا کھرچنے سے گریز کیجیے۔ اپنےPIN نمبر کو یاد کرلیجیے، اگر لکھنا ضروری ہو تو اسے لکھ کر اپنےبٹوے یا پرس میں نہ رکھیے اور نہ ہی کارڈ پر درج کیجیے۔

PINکے لیے ایسے نمبروں کا انتخاب نہ کیجیے جن کا آپ سے گہرا تعلق ہو، اس کے لیے ابتدائی حروف، تاریخ پیدائش اور ٹیلیفون نمبراستعمال نہ کیجیے۔ اپنے مالیاتی اداروں کے ہنگامی فون نمبر یاد رکھیے تاکہ کارڈ گم ہونے کی صورت میں فوری رابطہ کیا جاسکے۔ دوران سفرصرف ایک ATMکارڈ اپنے ساتھ رکھیے اور اس کاPINیاد کرلیجیے۔ کارڈ گم ہونے کی صورت میں فوری طور پرکارڈ جاری کرنے والے متعلقہ بینک سے رجوع کیجیے۔

اےٹی ایم استعمال کرتے وقت

اپنے گردو پیش سے باخبر رہیے، اگر آپ کو محسوس ہو کہ اے ٹی ایم کو نقصان پہنچایا گیا ہے یادیگربیرونی فٹنگز مشین میں جوڑی گئی ہیں یا پھر اس کی وائرنگ لوز ہے تو فوری طور پر بینک کو مطلع کیجیے اور اس اے ٹی ایم کو استعمال نہ کریں۔ اگر مشین کسی اندھیری جگہ یا سنسان علاقے میں ہے تو دوسرے اے ٹی ایم کا استعمال کیجیے۔

اپنے کارڈ کو ہاتھ میں رکھ کر اندر جائیں، نہ کے داخل ہونے کے بعداپنے بٹوےیا پرس سے اسے نکالیں۔ دھیان رکھیے کہ آپ کے بعد اے ٹی ایم استعمال کرنے کے لیے منتظر افراد میں سے کوئی آپ کےPIN کو نہ دیکھ سکے اور نہ ہی ہونے والے لین دین کو۔پِن کوڈ ڈالتے وقت ایک ہاتھ اُوپر رکھ لیں تاکہ پتا نہ چلے کہ آپ کون سے نمبر درج کررہے ہیں۔ اے ٹی ایم میں رُک کر اپنی رقم کو مت گنیں۔ کارڈ، رقم اور رسید حاصل ہوتے ہی فوری طور پراے ٹی ایم سے باہر آجایئے۔

اگر آپ کوئی بھی مشتبہ یا مشکوک علامت دیکھیں توفوری طور پراپنی ٹرانزیکشن کو منسوخ کرکے اے ٹی ایم سے باہر چلےجائیں۔ اے ٹی ایم کےاستعمال کے دوران گاڑی میں اپنی چابیاں اور دیگرقیمتی اشیا کو نہ چھوڑیئے اور نہ ہی کار کو اسٹارٹ رکھیں۔ اگر آپ ڈرائیو تھرو اے ٹی ایم کا استعمال کررہے ہیں تو گاڑی کے تمام دروازے لاک اور ایک کے علاوہ تمام کھڑکیوں کے شیشے چڑھالیں۔

اے ٹی ایم کےذریعے رقم نکالنے یا جمع کرانے کے بعداپنا کارڈ لینا نہ بھولیں۔ اس کے علاوہ اے ٹی ایم کی رسیدوں کو وہاں نہ چھوڑیئے۔ان کو یا تو اچھی طرح پھاڑ دیں یا پھر اپنے پاس رکھیے۔ یہ طریقہ کارڈکے غیر قانونی استعمال سے بچائو کا بہترین طریقہ ہے۔ساتھ ہی آپ کے علم میں تمام لین دین کا ریکارڈ بھی رہتا ہے۔

اگرآپ کا کارڈاے ٹی ایم میں پھنس جائے تو کسی کی بھی جانب سے مدد کی پیشکش سے محتاط رہیے۔ جرائم پیشہ افراد آپ کے پن کو کئی طریقوں سے (آپ کےپیچھے کھڑے ہوکر جھانک کر یا دیگر سوالات کرکے) جان سکتے ہیں، پھر آپ کے پھنسے ہوئے کارڈ کو نکال کر رقم نکال سکتے ہیں۔ اس حوالے سے فوری طور پر بینک کو بذریعہ فون یا برانچ کو مطلع کیجیے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں