آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں ساری عمر عورتوں کی حمایت میں بولتی رہی ہوں۔ بہت کچھ جاننے کے باوجود، مسئلہ یہ ہے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ لوگوں کی یادداشت بھی کم ہوجاتی ہے۔ ہر چند کہ میری یادداشت پر بھی اثر پڑا ہے، مجھے 1960ء سے لے کر اب تک نوکری میں بالواسطہ اور بلاواسطہ معلوم ہے کہ افسروں اور وزیروں کی بیویاں کیسے غلط رقم چھپانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ہمارا ایک شاعر دوست مر گیا،اس کی بیوی رشوت کی رقم سنبھال کر رکھتی تھی اور پانچ وقت نماز پڑھتی تھی۔ جب تک وہ نوکری میں تھا اور اس کے بعد بھی وہ سال میں ایک دفعہ امریکہ بچوں کے پاس جایا کرتے تھے اور خیر سے لاہور کے علاوہ اسلام آباد میں بھی گھر بنالیا تھا۔ مجھے بہت سے افسروں کا علم ہے جنہیں کمپنیاں اور بینک اپنے خرچے پہ یورپ کی سیر اس لیے کرواتے ہیں کہ ان کے پروجیکٹ پر وہ افسر دستخط کردے۔ یہ جو روز اخبار میں اشتہار دیکھتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں ملک کی شہریت لینے کے لیے اتنے ہزار ڈالر یا یورو دیں اور ہم شہریت دلوا دینگے۔ اس میں سفارت خانے، ٹریول ایجنٹس، غیر ممالک بھیجنے والی ایجنسیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہنڈی اور حوالہ کا غیر ممالک ڈالر بھیجنے کا راستہ بنتا ہے۔ میری ایک دوست ہے اس کے شوہر کی بلیو ایریا میں دو بلڈنگیں ہیں۔ اس کا خاندان کرائے کے گھر میں اور کرایہ بھی ڈالروں کی شکل میں دیا جاتا ہے۔

مجھے اپنی جوانی کا ایک قصہ یاد ہے۔ میں سیکرٹریٹ گئی ہوئی تھی۔ چیف سیکرٹری کے کمرے کے سامنے تھی۔ ان کی بیوی دوڑتی اور چلاتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ ’’گل سن۔ اودھی فائل کڈدے۔ میں پیسے پھڑیکے نیں۔‘‘ پٹواری یا تھر میں قرضہ لینے والے کسان اور غریب خاندان، ساری عمر، ان پٹواریوں کے ہاتھوں قید رہتے ہیں۔ یہ لوگ تو غریب کو باتھ روم تک نہیں بنانے دیتے ہیں۔ پھر افسروں اور وزیروں کے گھر ڈالیاں آتی ہیں۔ آم کے زمانے میں،ڈرائی فروٹ کے زمانے میں، ریلوے کے علاوہ کبھی بسوں کے اڈے پر پیٹیوں کی پیٹیاں دیکھیں۔ میں ایک دفعہ ملتان نیشنل سینٹر کا آڈٹ کرنے گئی۔ وہاں کے ڈائریکٹر بہت بڑے مبلغ تھے۔ انہوں نے خرچے کی مد میں تمام افسروں اور وزیروں کو بھیجی جانے والی پیٹیوں کا حساب لکھا ہوا تھا۔ یہ ہے تو بہت پرانی بات، مگر آج بھی سندھی پرانے افسر اپنے علاقے سے خیرپور کی کھجوریں، آم، چاول اور لاڑکانہ سے امرود، بالکل ڈھٹائی کے ساتھ سفارش کر کے منگواتے ہیں۔

اچھا اب سنیں ہوائی جہازوں کا قصہ، عمران خان نے آرڈر کردیئے کہ فرسٹ کلاس میں کوئی وزیر سفر نہیں کرے گا۔ مگر ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا کہ قومی اور بین الاقوامی پروازوں پر اکانومی کلاس میں بیٹھے وزیروں سے خود اسٹاف کوئی سفارش کروانے کے لیے آفر کرتا ہے کہ آپ فرسٹ کلاس میں آجائیں وہاں سیٹیں خالی ہیں۔

اچھا یہ تو طے ہے کہ غیر ممالک میں خریدی ہوئی جائیدادیں واپس نہیں لی جاسکتیں۔ پھر ان کے نام ایکسپوز کرنے کا کیا فائدہ۔ ویسے بھی بہت سے مر گئے۔ چلو ان بیویوں کے آرام کا سامان کر گئے۔ جن کو اولادیں رکھنے کو تیار نہیں ہوتی ہیں اور وہ اولڈ پیپلز ہوم میں سر چھپاتی ہیں۔ ہمارا بزدل متوسط طبقہ کیا کرے، بقول میری اماں، ’’گنجی کیانہائے گی اور کیا نچوڑے گی۔‘‘

میرے خالو، ڈی سی آفس میں اسسٹنٹ تھے۔ بہت میری چھوٹی عمر کی بات ہے۔ میں نے دیکھا تھا کہ ان کے گھر فصل کی گندم، پھل، مٹھائیاں اور سبزیاں ہر روز ٹوکرا بھر کر آتی تھیں۔ میری خالہ اور خالو دونوں انتہائی مذہبی پانچوں وقت کے نمازی تھے۔ بہت دور جانے کی کوئی ضرورت نہیں، اس شہر اسلام آباد کو ہی کھنگالیں، ایک ایک شخص کی تین چار بلڈنگیں اور چھ سات گھر وں کا پتہ چل جائے گا۔

1976ء میں، میری اسلام آباد پوسٹنگ ہوئی۔ لوگوں نے بتایا کہ 5روپے گز کے حساب سے زمین مل رہی ہے۔ اس وقت اسلام آباد صرف مسٹر بکس کی بلڈنگ تک تھا۔ میں نے کہا کہ اول تو اسلام آباد آنے کا کوئی ارادہ نہیں، دوسرے ہمارے پاس تو نیا شوربہ اور گنی چنی بوٹیاں ہوتی ہیں۔ ہم کہاں سے ایکسٹرا پیسے نکالیں۔ احمد فراز چونکہ اسلام آبادجا چکا تھا۔ اس نے بہتے دریا میں خوب ہاتھ دھوئے اور بڑی عقل مندی کی۔ اسی زمانے میں پیپلز پارٹی کی وزیر خوش بخت نے مسعود اشعر کو نیف ڈیک کی زمین 78 ہزار روپے میں خریدنے کی پیش کش کی۔ مگر ان تلوں میں تیل کہاں تھا۔ ویسے بھی اللہ کا شکر ہے کہ اسی سستے کے زمانے میں ضمیر جعفری سے لے کر منشا یاد تک نے آرام سے گھر بنا لیے تھے۔ سال کچھ اور گزرے تو سستی زمین کہہ کر بارہ کہو سے لے کر چک شہزاد اور بنی گالہ اور فارم ہائوسز کوڑیوں کے مول خرید لیے یہی حال زمینوں کا ہے۔ کسی پولیس افسر کے پاس کسی کونے کھدرے میں اضافی زمین نہیں۔ سب ایماندار بیویاں، وہ رقم سنبھال سنبھال کر رکھتیں، ڈائمنڈ کے سیٹ بنالئے، سر پہ دوپٹہ اوڑھے پاک باز کہلائی جاتی رہی ہیں۔ یہ رواج، یہ طریقے میرے عزیز محترم وزیراعظم، چپراسی سے لے کر، پولیس کانسٹیبل تک سب پر حاوی۔