آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

2014ء میں اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام کیا تھا۔ جولائی کی ابتدا سے اگست کے آخر تک تقریباً 50 دنوں کے عرصے پر محیط اسرائیل کی جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں۔ غزہ میں اسرائیل نے فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ زمینی حملے بھی کیے۔ اس قتل عام کی پوری دنیا نے مذمت کی تھی اور اس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس دوران جو دردناک واقعات رونما ہوئے، انہیں شاید دنیا بھول چکی ہوگی لیکن اس وقت جن بچوں کے سامنے یہ واقعات رونما ہوئے، وہ آج تک نہیں بھول سکے۔ ان واقعات کا بچوں کے ذہنوں پر جو اثر ہوا، وہ آج کے فلسطین کے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ دہشت زدہ اور شدید نفسیاتی مسائل کا شکار وہی بچے جوان ہورہے ہیں۔ جن والدین نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا، وہ سینہ کوبی کرکے ماتم کرکے یا غم ہلکا کرنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کرکے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو سنبھال چکے ہیں لیکن جن بچوں نے اپنے والدین، بہن بھائیوں یا قریبی عزیز واقارب کو اپنے سامنے قتل ہوتے دیکھا، وہ نہیں سنبھل سکے ہیں۔ ان کی کربناک نفسیاتی کیفیت کو دیکھ کر ان کے اپنے یہ کہتے ہیں کہ کاش یہ بھی اس قتل عام میں مارے جاتے۔ ان 50 دنوں میں 2200 سے زائد فلسطینی قتل ہوئے، جن میں سے 500 بچے بھی شامل تھے۔ 2014ء کا المیہ ختم نہیں ہوا۔ بچوں کے ذہنوں اور آنکھوں میں وہ سارے مناظر محفوظ ہیں اور اسے اپنا ورثہ سمجھ کر اس کی حفاظت کرتے ہوئے جوان ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک تخمینہ کے مطابق 3 لاکھ سے زائد بچوں کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ راتوں کو چیخیں مار کر یہ بچے اٹھ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں ’’میں نے قتل کردیا، میں نے قتل کردیا۔ تم نے کسی کو نہیں مارا۔‘‘ اسکول کی کاپیوں پر بمباری کرتے ہوائی جہازوں، زمین پر پڑی ہوئی لاشوں کی ڈرائنگز بنی ہوئی ہیں۔ گھروں کی دیواروں پر بندوقیں لیے فوجیوں اور خون میں لت پت لاشے کی تصویریں نظر آتی ہیں، جو ان بچوں نے بنائی ہوئی ہیں۔ یہ نہ ہنستے ہیں اور نہ کسی سے بات کرتے ہیں۔ بس آسمان اور دیواروں کو تکتے رہتے ہیں۔ ان کا علاج کرنے والی ماہر نفسیات ڈاکٹر زابیہ القرا کا کہنا یہ ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان بچوں کے جسموں میں زندگی واپس لانے والی روح کیسے ڈالیں۔ طبی طور پر ہم انہیں مردہ بھی قرار نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر زابیہ القرا بتاسکتی ہیں کہ عمیر اور اس کی دو معصوم بہنوںکا کیا بنے گا، جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے امی، ابو اور بہن کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ ان بچوں نے جو کچھ دیکھا، اس کا تصور کرتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور دماغ سوچنا بند کردیتا ہے۔ الامان والحفیظ۔ یہ دردناک واقعہ فلسطین میں رونما نہیں ہوا بلکہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے شہر ساہیوال میں پیش آیا۔ تین معصوم بچوں کے سامنے ان کے پیاروں کو قتل کسی اور نے نہیں، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہل کاروں نے کیا، جو پنجاب پولیس کا حصہ ہے۔ اس واقعہ کو اب کوئی بھی رنگ دیا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین اور ان کی بہن کو قتل کیا گیا۔ ان بچوں کے ذہنوں پر جو اثر ہوا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں لیکن اس واقعہ نے پاکستان کے کروڑوں بچوں کو دہشت اور خوف میں مبتلا کردیا ہے۔عمیر اور اس کی دو چھوٹی بہنوں منیبہ اور جاذبہ کی آنکھوں میں جو مناظر محفوظ ہیں، انہیں کوئی جے آئی ٹی، کمیشن یا تحقیقات کے ماہرین دھندلا نہیں کرسکتے۔ یہ بچے سب جانتے ہیں کہ حقیقت میں کیا ہوا۔ کس طرح ان کے ابو خلیل، امی نبیلہ، بہن اریبا اور انکل ذیشان کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔

اس واقعہ نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کے بعد ہی ہمیں یہ احساس ہوا ہے کہ اس طرح کے بے شمار واقعات پاکستان میں پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں۔ جعلی مقابلوں میں کئی بے گناہ پاکستانی مارے گئے ہیں۔ پہلے والے واقعات کے بارے میں اب ہم نے اس لیے سوچا ہے اور زیادہ دکھی بھی ہیں کہ چھوٹے بچوں کے سامنے ایساواقعہ رونما ہوا۔ کہتے ہیں کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ وہ اپنے شہریوں کو اپنا بچہ تصور کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے، انہیں قتل نہیں کرتی۔ یہ بات اس وقت سچ ہوتی ہے، جب ریاست نو آبادی یا استعماری خصوصیات کی حامل نہ ہوا اور اس کا اپنے شہریوں یعنی بچوں سے سوتیلی ماں یا غیریت والا تعلق نہ ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت یا فلسطین میں اسرائیل اپنے نوآبادی اور استعماری عزائم کی تکمیل کے لیے قتل عام کرتے ہیں کیونکہ کشمیر یا فلسطین کے لوگوں سے ان کا اپنائیت والا کوئی رشتہ نہیں۔ امریکا اور یورپی ممالک میں بعض نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مقابلوں میں بے دردی سے مار دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے نسلی گروہوں کے لوگوں کو مارنے کا تصور ہی نہیں ہے، جنہیں ریاست اپنا تصور کرتی ہے۔ مقابلوں میں جہاں بھی بے گناہ مارے جاتے ہیں، اس کا سبب ریاست کا نوآبادی یا استعماری رویہ ہوتا ہے۔ اس سے مزید کوئی بات کہنا مناسب نہیں۔

یہ ٹھیک ہے کہ ہماری فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بڑی جنگ لڑی ہے اور قربانیاں بھی دی ہیں لیکن اس طرح کے واقعات سے دہشت گردوں کو ہی فائدہ ہوتا ہے۔ دہشت گرد خود لوگوں کو ماریں یا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر لوگ مقابلوں میں مارے جائیں، دونوں صورتوں میں ریاست پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور یہی دہشت گردوں کا مقصد ہے۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ساہیوال جیسے واقعات مسلسل کیوں رونما ہوتے ہیں۔ یہ مائنڈ سیٹ ہمارے محافظوں میں کیونکر پیدا ہوا؟ ساہیوال کے واقعہ کے بعد ہمیں ضرور غور کرنا چاہئے۔ خلیل اور ان کی اہلیہ کو بھی اپنے قتل کا اتنا دکھ نہیں ہوگا، جتنا اپنے معصوم بچوں عمیر، منیبہ اور جاذبہ کے اداس چہرے دیکھ کر ہورہا ہوگا، جن کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو قتل کردیا گیا۔

ادارتی صفحہ سے مزید