آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سند ھ اسمبلی اور کراچی سٹی کونسل کا اجلاس دونوں انتہائی ہنگامہ خیز رہے دونوں اجلاسوں میں علیحدہ علیحدہ ایشوزپر ارکان میں تلخ کلامی، واک آؤٹ تک کی نوبت آگئی جبکہ سٹی کونسل کے اجلاس میں ہل پارک میں مسجد شہیدکرنے پر شدید احتجاج کے بعد جماعت اسلامی کے جنید مکاتی کو قراردادپیش نہ کرنے پر نوبت ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔ کراچی میں تجاوزات کا معاملہ سنگین صورت حال اختیار کرچکا ہے دکانوں کی مسماری کے بعد گھروں ، شادی ہالوں اور دیگر عمارتوں کو گرانے کے احکامات دیئے جاچکے ہیں سپریم کورٹ نے اپنی سماعت کے دوران کہاکہ کراچی میں کم از کم پانچ سوعمارتیں گرانا ہوں گی سپریم کورٹ نے غیرقانونی تعمیرات پر سندھ حکومت سے دوہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے اور کہاہے کہ شہر کی تباہی میں سب اداروں کی ملی بھگت ہے۔کراچی کی ایک انچ زمین پر سمجھوتہ نہیں ہوگا سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کی رپورٹ بھی مسترد کی اور کہاکہ ایڈووکیٹ جنرل ہم آپ کی لوریوں میں آنے والے نہیں عدالت نے کارساز ، شارع فیصل، راشد منہاس روڈ سے تمام شادی ہال گرانے کے احکامات جاری کئے شادی ہال مالکان نے اس ضمن میں شدیداحتجاج کیا اور شہر بھر میں شادی ہال بند کرنے کا الٹی میٹم دے دیا شادی ہالوں کے ہڑتال کے الٹی میٹم سے شہر بھر میں ہزاروں شادیاں کھٹائی میں پڑگئی جس پر وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ نے شادی ہال کو جاری کئے گئے نوٹس واپس لینے کی ہدایت کرتے ہوئے عدالتی احکام کی روشنی میں شادی ہالزکے قانونی جائزے کے لیے کمیٹی قائم کردی اور وزیربلدیات کو کیس ٹو کیس جائزہ لینے کی ہدایت کردی وزیربلدیات سعیدغنی کا کہنا تھا کہ سارے شادی ہال غیرقانونی نہیں انہوں نے کہاکہ اگر عمارتیں گرانے کا کہا گیا تو استعفیٰ دے دوں گا ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ قابل عمل ہے بھی یا نہیں۔ لوگوں سے گھر چھینے جائے توامن وامان کا مسئلہ پیداہوسکتا ہے جن کی دکانیں گرائی ہے ان کو متبادل جگہ دینی ہوگی دوسری جانب میئر کراچی وسیم اختر نے بھی شادی ہال اور عمارتیں گرانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ تجاوزات نہیں بلکہ زمین کے استعمال کی نوعیت بدلنے کا معاملہ ہے اگر 525 کچی آبادیوں اور گوٹھ اسکیموں کو باضابطہ قانونی شکل دی جاسکتی ہے تو یہ مسئلہ حل کیوں نہیں کیا جاسکتا تجاوزات کے خاتمے کی آڑ میں ہل پارک کی مسجد بھی شہید کردی گئی جس پر جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے شدیداحتجاج کیا اور مسجد کی جگہ پر نمازجمعہ کی ادائیگی بھی کی۔جس کی امامت جے یو آئی کے رہنما قاری محمدعثمان نے کی مسجدگرائے جانے پر جماعت اسلامی کے رہنما جنیدمکاتی نے سٹی کونسل میںقراراداد پیش نہ کرنے پر اپوزیشن ارکان میئر کی ڈائس کے سامنے پہنچے تو حزب اقتدار کے ارکان بھی میدان میں آگئے۔ دونوں طرف سے ارکان آپس میں گتھم گتھاہوگئے اور لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال کیا۔ ہاتھا پائی کے دوران بعض ارکان زمین پرگرگئے، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی گئیں۔ 15 منٹ تک ایوان شدیدشور شرابے اور ہنگامے کی نذر رہا۔ میئرکراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تھنڈراسکواڈ کے لوگوں کو لایا گیا جو مجھ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔جبکہ اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ سٹی کونسل میں ایک بار پھر خواتین کو بیلٹ سے مارنے کی یادتازہ ہوگئی، اجلاس شروع ہوا تو میئر نے ایوان کے سامنے جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر اکبر شاہ ہاشمی کی قرارداد پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا ، قرارداد میں کہا گیا کہ مسجد راہ نما گزشتہ چالیس سال سے قائم تھی جسے تجاوزات کے نام پر شہید کیا گیا اس سے مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے، مسجد کو فوری ازسرنو تعمیر کیا جائے، میئرنے کہاکہ مسجد کوہمارے ڈیپارٹمنٹ نے غلطی سے شہید کردیا تھا ان سے جواب طلبی کرلی ہے، آج دوبارہ مسجد کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، پارک کی آرائش کے ساتھ مسجد کو بھی اصل حالت میں بحال کریں گے۔کراچی میں تجاوزات کا معاملہ سیاسی رنگ اختیارکرچکا ہے یہ کہاجارہا ہے کہ تجاوزات کے خلاف مہم عجلت میں کسی منصوبہ بندی کے بغیر شروع کی گئی تھی جس کی لپٹ میں قانونی مارکیٹ اور دکانیں بھی آگئی سرکلرریلوے کی بحالی کے ضمن میں ایک بہت بڑی آبادی کو مسمار کرنا ہوگا جس سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے تجاوزات کے خلاف اے این پی کے صدرشاہی سید نے بھی ہفتہ باچاخان اور ولی خان میںتواناآواز اٹھائی ہے۔تجاوزات کے خلاف مہم سے قبل متبادل جگہ، سروے، نقصانات اور اس کے ازالے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جبکہ بیشتر علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کوئی آپریشن نہیں ہوا جس سے اس آپریشن کی شفافیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں ادھر سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن کے شدیداحتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا جس کے بعد بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے سادہ اکثریت کافی ہوگی بلدیاتی ایکٹ مجریہ 2013 میں ترامیم کا مسودہ منظور کرلیے جانے کے بعد کراچی اور حیدرآباد کے میئرز کے سرپر عدم اعتماد کی تلوار لٹکنے لگ گئی ہے تاہم میئرکراچی وسیم اختر کاکہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں میئر کے خلاف اگر تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو وہ ناکام ہوگی سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران میں امل عمرایکٹ بھی متعارف کرایا گیا جس کے مطابق ڈاکٹرزخمی شخص کے بلاتاخیر علاج کے پابند ہوں گےعلاج میڈیکل لیگل کی کارروائی اور پیسوں کے پیشگی مطالبے کے بغیر کیا جائے گا یہ ایکٹ امل عمر ایکٹ 2019 کہلائے گا اس ایکٹ کے نافذ العمل ہونے کے بعد بہت سی انسانی زندگیاں بچائی جاسکیں گی۔ ادھر متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی کے علاقے لانڈھی کے حلقے پی ایس 94 کا ضمنی انتخاب کا معرکہ سرکرلیا پی ٹی آئی دوسرے نمبر پررہی تاہم ایم کیو ایم کے جیت کا فرق بہت واضح تھا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں