آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9 جمادی الثانی 1440ھ 15 فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی(رفیق مانگٹ)افغان طالبان نے 25فروری کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کرنے والے 14 رکنی وفد کا اعلان کردیا ،دوسری طرف طالبان کی طرف سے قطر میں ان کے سیاسی دفتر کو باضابطہ قانونی یا سفارتی حیثیت دینے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان نے رواں ماہ 25تاریخ کو امریکا کے ساتھ مذاکرات شامل ہونے والی ٹیم کا اعلان کیا ہے جس کی قیادت ملا عباس استانکزئی کریں گے۔ وفد میں امریکی جیل گوانتانامو بے کے پانچ سابق قیدی بھی شامل ہیں جنہیں2014میں رہا کیا گیا تھا۔ ان میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کے چھوٹے بھائی انس حقانی بھی شامل ہیں جو اس وقت کابل کی جیل میں قید ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق انس حقانی کو رہا کیا جائے تاکہ وہ اس مذاکراتی عمل کی تیاری میں شریک ہو سکیں۔وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرف سے قطر کے دارالحکومت دوحا میں ان کے 2013سے قائم دفتر کو قانونی اور سفارتی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔طالبان کی طرف سے اس دفتر کو باضابطہ سیاسی طور پر

تسلیم کیے جانے کامطالبہ امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات میں سامنے آیا۔اس دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ قانونی حیثیت دینے افغان امن عمل کیلئے جاری مذاکرات میں تیزی لائی جاسکے گی۔افغان حکومت کے اعتراض کے بعد قطر نے اس دفتر کو عوامی یا سرکاری رابطوں کے لئے استعمال پر پابندی لگا رکھی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں