آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لاہور اور حلقہٴ ارباب ذوق کا 1970-71ء کا زمانہ بڑا دلچسپ تھا۔ یہ سارا زمانہ عزیزالحق کی تقاریر کا مجموعہ دیکھ کر اور بھی یاد آ گیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ زمانہ المناک تھا۔ مشرقی پاکستان میں فوجی دل آزاری انتہا کو پہنچی ہوئی تھی، بنگالی ہمارا نام سننے کو بھی تیار نہ تھے۔ ادھر جب ہم لوگ حلقہٴ ارباب ذوق میں ان سیاسی موضوعات کو زیر بحث لاتے تو انتظار حسین اور خاص کر شہرت بخاری ناراض ہو جاتے۔ آخر کو وہ ہوا جو پاکستان کے ساتھ ہوا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور مغربی پاکستان، پاکستان بن گیا۔ اس طرح شہرت بخاری والا حلقہٴ ارباب ذوق ادبی بن گیا اور عزیزالحق والا حلقہٴ ارباب ذوق سیاسی بن گیا۔ یوسف کامران سیاسی حلقے کے سیکرٹری بن گئے اور سہیل احمد خان حلقہٴ ارباب ذوق ادبی کے سربراہ ہو گئے۔ سب کچھ لٹتا دیکھ کر آنکھیں بند کرنے والی صورتحال تھی۔ ہماری سرکار بھی انہی خطوط پر چل رہی تھی۔ اکتوبر71ء میں70کے قریب ادباء، صحافیوں اور دانشوروں نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں حکومت کی دفاعی کارگزاری کی مذمت کی گئی۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ وہ سب لوگ جنہوں نے اس اعلامیہ پہ دستخط کئے تھے ان کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ مسعود اشعر اور اظہر جاوید امروز سے نکالے گئے۔ حلقہٴ ارباب ذوق سیاسی عزیزالحق کی شعلہ بیانی کے ساتھ خوب

چمکا۔ اسی زمانے میں پروفیسر عزیزالدین، منظور اعجاز، صفدر میر، خالد محمود لڈو، فہیم جوزی، سعادت سعید اور شاہد محمود ندیم خوب اپنی تقاریر کے جوہر دکھاتے رہے۔ تقاریر اپنی جگہ رہیں اور سیاست نے وہ رنگ دکھایا کہ پاکستان دولخت ہو گیا۔ اونچی آواز میں بولنے والے بھی چپ ہو گئے اور ادبی حلقہ چلانے والے بھی خاموش ہو گئے۔ آنکھوں سے اشکوں کی جگہ چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ بے بسی اور بددلی کا یہ عالم پھر تازہ ہو گیا ہے جب عزیزالحق کی تقاریر کا مجموعہ میرے سامنے آیا۔ عزیزالحق کو رابعہ سنبل کے شوہر سعید نے گولی مار کر خود بھی خودکشی کر لی تھی۔ اس آواز کو خاموش ہوئے تیس برس ہو گئے مگر کتاب دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ہمارے سامنے کھڑا عزیزالحق شعلہ فشانی کر رہا ہے۔ آج اس کی تقاریر پڑھتے ہوئے مجھے ثناء اللہ بلوچ اور حاصل خان بزنجو مسلسل یاد آتے رہے۔ یہ میرے عزیز دوست ہمہ وقت حکومت سے کہتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لو۔ ہمارے عزیز رحمن ملک جواباً کہتے ہیں ”پہاڑوں سے اتر آؤ، ہتھیار پھینک دو“ حالانکہ بلوچستان کے تمام لوگ پہاڑوں پر نہیں ہیں۔ جن جوانوں کے بارے میں آواز اٹھائی جاتی ہے ان کا نام لے کر کہو کہ ان کو آزاد کر دو۔ وہ چند دن بعد آزاد ہو کر ملتے تو ہیں مگر وہ زندگی سے بھی آزاد ہوئے ہوتے ہیں۔
یہ غیر سنجیدہ ماحول اور دل گرفتہ صورتحال مسلسل گرد باد کی طرح رواں ہے۔ میرے نوجوان ایف سی کے، ان کو ایک نہیں کل 22کے22کو شہید کر دیا جاتا ہے۔ زیارتوں کیلئے جانے والوں کو پھر ایک اور دفعہ بسوں سے اتار کر شہید کر دیا جاتا ہے۔ اگر حکومت کے گالوں پر سرخی نظر آتی ہے تو وہ آئی ایم ایف کی مرہون منت ہے۔ حکومت بیورو کریسی سے اتنی خوفزدہ ہے کہ ایک وقت میں 22/افسران کو گریڈ 22میں ترقی دے دیتی ہے۔ سامراجی قوتوں کے علاوہ سرمایہ داروں سے اتنی ڈری ہوئی ہے کہ ان سے ٹیکس تک وصول کرنے سے خوفزدہ ہے۔ میں طاہرالقادری کو 1972ء سے جانتی ہوں۔ وہ نیشنل سینٹر میں تقاریر کرنے آتے تھے۔ جوان تھے تو تشہیر کا بھی شوق تھا۔ اب یکدم بوڑھے ہو کر پھر اسی ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ ضعیف الاعتقاد لوگ ان کو سن کر اپنے چھپے ہوئے سرمائے کا منہ کھول دیتے ہیں۔ اس کا انجام 23دسمبر کے جلسے میں نظر آ گیا۔ سب لوگ ان کے اعلان ناموں پر غور و فکر کر رہے ہیں، کوئی نہیں پوچھتا ان کی سرگرمیوں اور اچانک سرگرمیوں کے پیچھے کن قوتوں کا ہاتھ ہے۔ جبکہ وہ کہتے ہیں ”مجھے نہ صدر بننا ہے نہ وزیراعظم“ تو پھر ”یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟“ اس کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں جبکہ قادری صاحب کا اثر الطاف حسین نے بھی قبول کر لیا ہے اور انہوں نے بھی واپسی کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ سارے اشارے ہوا میں تحلیل ہونے والے نہیں ہیں۔ ان کے پیچھے باقاعدہ منصوبہ بندی موجود ہے۔ پورا سال 2012ء اشارے دیتے ہوئے گزرا ہے۔ اب جبکہ حکومت کی مدت ختم ہونے کی تاریخ خود حکومت نے دے دی ہے اس کے باوجود یہ چھلاوے کس سیاست کی شعبدہ بازی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
مجھے تو یہ بھی فکر ہے کہ ادھر ہوگیو شاویز کی صحت جواب دے رہی ہے ادھر فیڈرل کاسٹرو اسپتال میں داخل ہیں، تو وہ قوتیں جو پوری دنیا سے اشتراکی نصب العین کو ختم کرنا چاہتی ہیں وہ کمزور ہونے اور مالی طور پر مستحکم نہ ہونے کے باعث بھی پوری دنیا پہ سامراجیت کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔ پاکستان میں ایک نئی قوت نے جنم لیا ہے۔ 2013ء میں عوامی ورکرز پارٹی یقیناً عوام میں مقبولیت حاصل کرے گی۔ میں تو تجویز دوں گی کہ ایم کیوایم کی طرح نہ سہی، کچّی آبادیوں میں جا کر اور غریبوں کی حمایت لے کر فنڈز اکٹھے کریں۔ یوں ان مجبور لوگوں کو علم ہو گا کہ ان کی حمایت کرنے والی ایک پارٹی نے جنم لیا ہے۔ نکلیں دیہاتوں میں اور غریبوں کی بستیوں میں، شاونسٹ طریقے پر میرے اور تمہارے پیسوں سے فنڈ اکٹھا کرنے سے عوامی پارٹی، عوام میں رچاؤ اختیار نہیں کرے گی۔ یہ وقت ہے متبادل رہنمائی دینے کا۔ نعرہ بازوں سے الگ اپنی قوت کو مجتمع کریں، ایف ایم ریڈیو بنائیں، عورتوں کے گروپ بنائیں، نوجوانوں کو سامنے لائیں، پھر نہ کوئی قادری چلے گا اور نہ کوئی بھائی۔ عوامی پارٹی کو اپنے ہاتھوں کو اٹھانے سے پتہ چلے گا کہ عوام اندر سے کتنے جلے ہوئے ہیں۔ الیکشن قریب ہیں، عوامی پارٹی اپنے بازو آزمائے اور آگے بڑھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں