آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگجوئیانہ اور مخاصمانہ ماحول میں سب سے پہلے حقائق اور معروضیت کا قتل ہو جاتا ہے اور پھر امن و آشتی کے بیانیے کا۔ پلوامہ کے خودکش حملے میں چالیس سے زیادہ بھارتی ریزرو فورس کے اہلکاروں کی ہلاکت سے بھارت میں جو کہرام مچا تو بدلے کا بیانیہ ایسا چلا کہ ہوشمندی کی آوازیں کہیں گم ہو کر رہ گئیں اور کشمیریوں کی دیرینہ آہ و بکا نہ صرف یہ کہ گھٹ کر رہ گئی بلکہ بھارت میں کشمیریوں کو سانس لینا بھی مشکل ہو گیا۔ اب تمام کشمیری مسلمان اور قوم پرست ’’دشمن‘‘ کے ایجنٹ ٹھہرے اور وہ بھی زیرِ عتاب جو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے دائرے میں سیاست کے قائل رہے ہیں۔ حالتِ جنگ میں حربی سُبکی کا بوجھ کون اُٹھاتا ہے جب قومی سورماؤں کو انتخابی معرکہ بھی درپیش ہو۔ ایسے میں ناکام جابرانہ و فسطائی پالیسیوں کے خمیازے کا ذکر یا پھر اپنی ہی انٹیلی جنس کی ناکامی کا تذکرہ ’’قومی مفاد‘‘ کے خلاف قرار دیئے جانے کے بعد گھات میں بیٹھے دشمن کے قدموں کی ’’نشاندہی‘‘ سے سرحد پار کمیں گاہوں کا سراغ لگانے اور ’’دشمن کو سبق سکھانے‘‘ کے بیانیے سے اختلاف کی گنجائش کہاں بچتی ہے، جس میں کوئی امن کی فاختہ اپنی بے وقت کی راگنی بجانے کا خطرہ مول لے۔ عین اس وقت دہشت گردی کے اعتراف کا اعزاز حاصل کرنے والوں کی شہادت (جو آرمڈ پروپیگنڈہ کہلاتا

ہے) پہ کوئی منہ چھپائے تو کیسے؟ ’’دشمن سرزمین‘‘ پہ دہشت کے چلتے پھرتے اشتہاروں کی موجودگی میں دہشت سے تائب دہشت گردی کی آکاس بیل کو تلف کرتی انتظامیہ فقط آئیں بائیں شائیں کرتی رہ جاتی ہے۔ مالی بحران میں پھنسی وزیراعظم عمران خان کی حکومت تو ولی عہد محمد بن سلمان کے شاہانہ استقبال کی شاہی تیاریوں میں ایسی مگن تھی کہ اُس کے پاس ایران، افغانستان اور بھارت کی جانب سے لگنے والے ’’سرحد پار سے دہشت گردی‘‘ کے الزامات کا جواب دینے کا وقت ہی نہ تھا اور اس بھولپن کا کسی کے پاس کیا جواب کہ ہم کیوں ایسے موقع کو خراب کرتے جو ہماری قسمت کو شہزادے کی فیاضی سے بدلنے کو تھا۔ وزیراعظم نے اس معاملے پر قوم سے فی البدیہہ خطاب کیا بھی تو اس کی اتنی ایڈیٹنگ کی گئی (جو ضروری تھی) کہ اس کا بھارتی میڈیا پرخوب مذاق اُڑایا گیا اور جس نکتے پر بھارتی میڈیا کو توجہ دینا چاہئے تھی وہ تھی اُن کی واشگاف یقین دہانی کہ حکومتِ پاکستان تحقیقات میں تعاون کے لئے تیار ہے اور اُنھوں نے ایسی ٹھوس شہادت پر مبینہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے مُدعے پر بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال کرنے والوں کو برملا ملک دشمن قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ بھارت میں چھائی جارحانہ قوم پرستی کے ماحول میں نئے پاکستان کی یقین دہانی پر کسی نے کیا کان دھرنے تھے، اُلٹا 2001میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے سے ممبئی کی بڑی دہشت گردی اور پٹھانکوٹ تک میں کی گئی نامکمل تفتیش کے یکطرفہ حوالوں سے وزیراعظم کی استدعا کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا گیا۔ایسے موقع پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان اور بھارت کا دورہ نے بیک ڈور ڈپلومیسی کو ایک نادر موقع فراہم کیا۔ یقیناً جن یقین دہائیوں کا ذکر وزیراعظم کی تقریر اور پھر کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیہ میں کیا گیا۔ شاید اسی طرح کی ٹھوس تجاویز سعودی شہزادے کے ذریعہ مودی سرکار کو باور کرائی گئی ہوں گی۔ بھارت سعودی مشترکہ بیان میں بھی اس کی جھلک دکھائی پڑتی ہے۔ اس میں پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی کے لئے ’’ضروری شرائط‘‘ پوری کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ کابینہ کی قومی سلامتی کے اجلاس میں پھر سے دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر زیادہ دلجمعی سے عملدرآمد کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات کا ذکر یونہی نہیں کیا گیا۔ دو جماعتوں پر پھر سے بندش عائد کر دی گئی ہے اور ایک کالعدم جماعت کے بہاولپور میں قائم مدرسہ اور جامعہ مسجد کا کنٹرول ضلعی انتظامیہ نے سنبھال لیا ہے اور اس اعلان کے ساتھ کہ اِس جماعت کے اس مبینہ ہیڈکوارٹر سے کوئی قابلِ اعتراض مواد اور اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔ بھلے بھارتی میڈیا کیسی ہی ہوائیاں چھوڑتا رہے، افغان جہاد سے ردّالفساد تک ایک لمبی تاریخ ہے۔ جو کانٹے بچھائے گئے تھے اور جہاد کی جو نرسریاں بنائی گئی تھیں وہ ان کے باغبانوں کیلئے سوہانِ روح بن گئی ہیں۔ کتنوں کو نگل پائیں، کتنوں کو اُگل پائیں۔ کابینہ کی قومی سلامتی کی کمیٹی میں پھر سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اُکھاڑنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ دیکھتے ہیں اس بار یہ عزم دہشت کی باقیات کا کتنا صفایا کر پاتا ہے۔ یہ عزم کہ پاکستان کو ہم دہشت گردوں کے ہاتھوں میں یرغمال بننے نہیں دیں گے قابلِ ستائش ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم اُن کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے ہیں جو عفریت ’’دشمن‘‘ کے لئے پالے گئے تھے، اُن کی اپنی نظریاتی و تزویراتی خودمختاری ہے۔ اُنہیں کسی متبادل پر راغب کرنے کی سوجھی بھی تو وہ شہری و دیہی معاشرے میں پھیلتے چلے گئے اور ریاست تو ریاست معاشرہ بھی ان کا یرغمال بن کے رہ گیا۔ نہ صرف پاک بھارت تعلقات اور پورے خطے کی اجتماعی معاشی بڑھوتری، بلکہ کشمیریوں کی انتفادہ کا اخلاقی جواز دہشت کے عالمی طعنوں کی نذر ہو گیا ہے۔ کشمیریوں کو ’’مہمان جہادیوں‘‘ کی ضرورت ہے نہ کسی بیساکھی کی۔ بھارتی جمہوریہ کب تک کشمیریوں کو فوجی جبر کا نشانہ بناتے ہوئے فسطائیت کی اسیر رہے گی؟ بھارتی حکمرانوں کی کشمیر میں بربرئیت کو اگر کوئی سہارا دیتا ہے تو وہ ہے دہشت گردی جس کا بہانہ بنا کر ہر طرح کے بہیمانہ اقدامات کئے جاتے ہیں۔ صرف بھارت ہی نہیں، ایران میں جاری دہشت گردی کی کارروائیوں میں ایرانی حکومت بھی پاکستان پر الزامات عائد کر رہی ہے۔ سیستان بلوچستان میں  27انقلابی گارڈز کی ہلاکت پر حکومتِ ایران نے جیش العدل نامی تنظیم کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے اور جس نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ پاکستان کے وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایرانی ہم منصب کو یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ماضی میں پاکستان کے سلامتی کے اداروں نے ایرانی پاسداران کی بازیابی کے لئے نہایت قابلِ ستائش خدمات انجام دی تھیں۔ اگر پاکستان کو سعودی ایرانی تاریخی مناقشے میں نہیں پھنسنا تو پاک ایران سرحد کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ہو گا اور جس فرقہ وارانہ جنگ نے عراق، شام اور یمن کو بھسم کیا ہے اس سے پاکستان کو محفوظ رکھنا ہے۔ پاکستان اپنے ہی گھر کی مزید صفائی کرے۔ دہشت گردی کا مکمل صفایا کرنا ہے تو نہ کوئی اچھا دہشت گرد ہے نہ دوست دہشت گرد۔ دہشت گردی کے خلاف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کی آٹھ کالعدم تنظیموں کو معمولی سے درمیانے درجے کے خطرے کی فہرست میں شامل کرنے کے اقدام کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے اور پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ دوسرے ممالک کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر وہ شدت پسند عناصر کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے سے بچنے کیلئے حقیقی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جنگجوئیت کے ماحول میں حقائق کی موت پر بس آنسو ہی بہائے جا سکتے ہیں۔