آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں آج گردوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ہر سال مارچ کے دوسرے ہفتے میں جمعرات کا دن اس کیلئے منتخب کیا جاتا ہے۔ رواں سال کے لیے اس کا عنوان ’’گردوں کی صحت ،ہر جگہ ہر ایک کے لیے‘‘ہے ۔ اس دن کو منانے کا آغاز 2006ء میں کیا گیا اور ہر سال اسے مختلف عنوانات سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ اس کا مقصد انسانی جسم کے لیے گردوں کی اہمیت کو اُجاگر کرنا اور اس میں ہونے والے امراض سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک میں مختلف تقریبات اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان تقریبات میں ماہرین گردوں کے امراض اور ان کی حفاظت سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔ آئیے آج گردوں کے عالمی دن کے موقع پر ہم بھی ان کے افعال، صحت اوربیماریوں سے متعلق گفتگو کرتے ہیں۔

گردوں کی اہمیت اور افعال

گردے انسانی جسم کا ایک اہم جزو ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کے دائیں اور بائیں طرف کمر کی نچلی جانب نصف دائرے کی شکل میں موجود عضو کو گردے کہا جاتا ہے۔ ایک صحت مند نوجوان مرد کے گردوں کی لمبائی 11سینٹی میٹر جبکہ ایک صحت مند لڑکی کے گردوں کی لمبائی 10سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ گردوں کا اہم فعل انسانی جسم میں موجود خون کو فلٹر (صفائی) کرنا ہوتا ہے۔ ان دونوں گردوں سے روزانہ 24گھنٹوں کے دوران 1500لیٹر خون گزرتا ہے۔ گردے میں موجود باریک نالیاں اور جالی دار کپ خون کو چھاننے کے بعد صاف خون کوانسانی جسم میں دوبارہ شامل کردیتے ہیں۔ فلٹر ہونے کے دوران خون میں موجود زائد نمکیات اور پانی پیشاب کی شکل میں انسانی جسم سے باہر خارج ہوجاتے ہیں۔

ایک صحت مند نظام کے لیے دونوں گردوں کا درست انداز سے کام کرنا بے حد ضروری ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک کی کارکردگی بھی متاثر ہوجائےتو انسان کی زندگی خطرے سے دوچار ہوجاتی ہے۔

گردوں کے امراض و اسباب

گزشتہ برس کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں گردوں کے مریضوں کی تعداد 52کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں یہ سالانہ شرح ہردس لاکھ افراد میں 100یا 150مریضوں پر مشتمل ہے ۔ان مریضوں کی تعداد مندرجہ ذیل گردوں کے عام امراض کا شکار ہے۔

٭ کرونک کڈنی ڈزیز٭گردے میں پتھری٭گردوں کی پیوند کاری (ٹرانسپلانٹ)

ماہرین گردوں میں خرابی کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ ان میں ٹائپ 1اور ٹائپ 2ذیابطیس، ہائی بلڈپریشر، دل اور خون کی وریدوں سے متعلق بیماریاں، موروثی گردوں کی بیماری اور موٹاپے جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

گردوں کی حفاظت کیسے کی جائے ؟

گردوں کے عالمی دن کا مقصد دنیا بھر کی عوام کو گردوں کی اہمیت اور حفاظت سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔آپ کی ذرا سی لاپرواہی بھی آپ کو گردوں کی خرابی یا گردوں کے امراض میں مبتلا کرسکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ گردوں کی حفاظت جسم کے دیگر افعال کی طرح زیادہ سے زیادہ کی جائے اور یہ کیسے کرنی ہے، آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔

خود کو فٹ اور فعال رکھیں: بلڈ پریشر متوازن رکھ کر گردوں کے موذی امراض کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ فٹ اور فعال رہنے کے لیے ایکسرسائز بے حدضروری ہے۔ بلڈپریشر لیول میں رکھنے کے لیے سیلیبرٹیز اور طبی ماہرین سائیکلنگ، چہل قدمی اور دوڑنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رکھیں:اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے گردے صحت مند رہیں تو باقاعدہ طور پر بلڈ شوگر لیول کا خیال رکھیں۔ گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کی نصف تعداد کا سبب ذیابطیس ہی ہے۔ چنانچہ اگر آپ خون میں شوگر کی سطح کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے تو گردوں کی خرابی کے خطرات کو کم کرسکتے ہیں۔

بلڈ پریشر بڑھنے نہ دیں:ہم جانتے ہیں کہ بلڈ پریشر قلبی امراض اور اسٹروک جیسے جان لیوا امراض کا باعث بنتا ہے۔ تاہم، گردوں کے صحت مند رہنے کے لیے آپ کے بلڈ پریشر کا نارمل رہنا بھی بے حد ضروری ہے۔ صحت مند انسان میں بلڈ پریشر کی نارمل سطح 80/120پائی جاتی ہے۔ اگر آپ کا بلڈ پریشر 90/140سے بڑھ جائے تو لازمی طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

متوازن غذا کا استعمال کریں:گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی روزمرہ خوراک سے نمک کی زائد مقدار کا استعمال کم کرنے کی کوشش کریں۔ دن بھر میں نمک کی 5سے6 گرام مقدار حاصل کریں۔ساتھ ہی باہر کے کھانوں کے بجائے گھر کے بنے کھانوں کو اہمیت دیں۔ دوسری جانب وزن کا بڑھنا بھی گردوں کی خرابی کی وجہ بن سکتا ہے اس لیے کوشش کریں کہ وزن نہ بڑھنے پائے۔ اس کے علاوہ تمبا کو نوشی بھی ترک کردیں ۔

پانی کا استعمال: ایک بالغ انسان کے لیے ماہرین روزانہ 2 سے 4 لیٹر پانی پینا ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر فرد کے لیے پانی کی مقدار ان کے وزن کے سبب مختلف ہوسکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں