آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں تیزی سے بڑھتی صنعتکاری اور ٹریفک کےگردو غبار اور آلودگی سے سالانہ لاکھوں بچےدمے کے مرض میں مبتلا ہوکر موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

امریکی تحقیق کار ادارے ملکن انسٹی ٹیوٹ سکول آف پبلک ہیلتھ ایٹ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے مطابق ہوا میں نائیٹروجن گیس کے مستقل اضافےاور آلودگی کے باعث سالانہ 4لاکھ بچے دمہ کے مرض کا شکار ہوتے ہیں۔

2010سے 2015 کے اعداد و شمار پر مبنی اس تحقیق میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا کہ 64فیصد مریض شہری علاقوں میں سامنے آئے۔

تحقیق کی سربراہ C, Anenberg.Susan کا اپنی تحقیق کے بارے میں کہنا ہے کہ دنیا بھر کے شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کے خاتمے پر ہی بچوں میں دمے کے مرض کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ صحت افزاء ماحول اور زرائع نقل و حمل کو ماحول دوست بنا کر دمے کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے جسمانی تندرستی اورپرفضاء ماحول میں صحت بخش مشغلے اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں کا زہریلا دھواں اور گرین ہاؤس سے نکلنے والا گیسیں انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کررہی ہیں، لہذا سائیکلنگ کریں یا زیادہ سے زیادہ پیدل چلیں۔

تحقیق کے اہم نکات

بین الاقوامی طبی جریدے (The Lancet) میں شائع ہونے والی ’نائیٹروجن کی آلودگی سے بین الاقوامی، شہری اور دیہی سطح پر بچوں میں دمہ کے مرض‘ کے عنوان سے ایک تحقیق سامنے آئی جس کے نتائج مندجہ ذیل ہیں:

1: گاڑیوں سے نکلنے والی زہریلی نائیٹروجن ڈآئی آکسائیڈ گیس ہوا میں شامل ہوکر تقریباً 4لاکھ بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔

2: بچوں میں دمے کی بڑھتی ہوئی شرح میں سے 13فیصد کی وجہ نائیٹروجن ڈآئی آکسائیڈکی آلودگی بتائی گئی ہے۔

3: دنیاکے 125شہروں میں سے نائجیریا کے شہر اورولو اور چین کا شہر بیجنگ بچوں میں دمے کے مرض میں قابل ذکر رہے اس کے علاوہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک بھی ہوا میں نائیٹروجن ڈآئی آکسائیڈ گیس کے اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

4: نائیٹروجن ڈآئی آکسائیڈ گیس کے پھیلاؤ میں چین کے 8شہر جبکہ ماسکو، روس، سیول اور جنوبی کوریا سر فہرست رہے۔

5: امریکی ریاستیں بھی اس مسئلے سے دوچار ہیں، نیو یارک، لاس اینجلس، شکاگو، لاس ویگس میں بھی آلودہ ہوا کے باعث دمے کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔

6: فضائی آلودگی کے سبب دمے کا مرض سے سالانہ 7,60,000 چینی شہری، 3,50,000 بھارتی شہری جبکہ 2,40,000 امریکی شہری متاثر ہوتے ہیں۔

دمہ کیا ہے؟

دمہ پھیپھڑوں کی بیماری کا نام ہے جس میں انسان کی سانس کی نالیوں میں یا پھیپڑوں کی نالیوں کے باریک ہونے سےانسان کو سانس میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ دمہ انسان کی صحت کو ہمیشہ کے لئے متاثر کر سکتا ہے، یہ ایک ایسا مرض ہے جس کے سبب انسان قسطوں میں مرتا ہے۔

وجوہات

طبی ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی، گاڑیوں کا زہریلا دھواں، سگریٹ نوشی، سانس کی نالیو ں میں انفیکشن دمے کے مرض کی وجہ ہوسکتی ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 2,35,000افراد دمے کے مریض ہیں۔

احتیاطی تدابیر :

دمے کی تشخیص ہونے کے بعد مریض کو چاہئے کہ:

1: سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں

2: دھول مٹی میں جانے سے پرہیز کریں

3: گھر سے نکلنے سے قبل ماسک کا استعمال کریں

ماہرین کا خیال ہے کہ دمہ کے مریضوں تعداد کا بڑھنا حیرت انگیز نہیں بلکہ معنی خیز ہے ، اس کے لئے جہاں طبی عملہ ذمہ دار ہے وہیں  مریض بھی ذمہ دار قرار دیئے جا سکتے ہیں جو اپنی حالت بہتر بنانے کا زیادہ خیال نہیں رکھتے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں