آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت یعقوب علیہ السّلام، حضرت اسحاق علیہ السّلام کے بیٹے، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پوتے اور حضرت یوسف علیہ السّلام کے والد ہیں،یوں انبیائے کرامؑ کے مبارک سلسلے میں آپؑ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپؑ کے دادا اور والد نبی ہیں، تو خود بھی اس منصب پر فائز ہوئے اور صاحب زادے کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوّت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی ولادت کی خوش خبری ،حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو آپؑ کے والد حضرت اسحاق علیہ السّلام کی ولادت کی اطلاع کے ساتھ دی تھی۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’پھر ہم نے اُنھیں(ابراہیمؑ کو) اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوبؑ کی خوش خبری دی۔‘‘ (سورۂ ہود71:)ایک اور جگہ ارشاد فرمایا’’اور ہم نے(ابراہیمؑ) کو اسحاق ؑ (جیسا بیٹا) اور یعقوبؑ (جیسا پوتا) عطا کیا اور سب کو ہدایت دی۔‘‘ (سورۂ انعام84:)حضرت یعقوبؑ کا دوسرا نام، ’’اسرائیل‘‘ تھا، اسی لیے آپؑ کی اولاد’’بنی اسرائیل‘‘ کہلاتی ہے۔ اسرائیل دو الفاظ’’ اسرا‘‘ اور’’ ایل‘‘ کا مرکب ہے۔’’ اسرا‘‘ عبد کو کہتے ہیں اور’’ ایل‘‘ کے معنی اللہ کے ہیں،یوں اسرائیل کا مطلب’’اللہ کا بندہ‘‘ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوبؑ کو یہ فضیلت بھی عطا فرمائی کہ بنی اسرائیل میں مبعوث ہونے والے تمام پیغمبر آپؑ ہی کی نسل میں سے ہیں۔

مُلکِ شام سے ہجرت

حضرت اسحاقؑ کے دو جڑواں بیٹے،’’محیص‘‘ اور ’’یعقوبؑ ‘‘ تھے۔ آپؑ کو بڑے بیٹے سے قدرے زیادہ محبّت تھی، جب کہ اہلیہ، یعقوبؑ کو زیادہ چاہتی تھیں۔ روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت اسحاقؑ نے بڑے بیٹے سے شکار کا گوشت کھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ محیص والد کی خواہش پر فوراً شکار کے لیے چلا گیا، لیکن اسی اثناء میں والدہ نے حضرت یعقوبؑ سے کہا کہ’’ بکری ذبح کر کے والد کو کھانا پیش کردو اور اُن سے دُعائیں لے لو۔‘‘ حضرت یعقوبؑ نے والدہ کے مشورے پر ایسا ہی کیا، لیکن جب بڑا بھائی گوشت بھون کر والد کی خدمت میں لے کر گیا اور اُسے حقیقت کا علم ہوا، تو وہ حضرت یعقوبؑ کا دشمن ہو گیا۔ والدہ نے جب یہ دیکھا، تو اُنہوں نے حضرت یعقوبؑ کو فوری طور پر اپنے ماموں کے پاس عراق کے شہر’’حران‘‘ جانے کی ہدایت کی۔ حضرت اسحاقؑ کو بھی محیص کی ناراضی کا علم تھا، لہٰذا اُنہوں نے بھی اس مشورے کی تائید کی اور پھر حضرت یعقوبؑ اُس روز رات کے پہلے پہر ماموں کے پاس جانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔

راستے میں خواب

حضرت یعقوبؑ اُس رات اور دوسرے دن چلتے رہے اور پھر رات کے کسی پہر ایک گاؤں کے باہر جنگل میں ایک پتھر کو تکیے کی جگہ سَر کے نیچے رکھ کر سو گئے۔ وہ خواب میں دیکھتے ہیں کہ آسمان سے زمین تک ایک سیڑھی لگی ہوئی ہے، جس سے فرشتے اوپر چڑھ اور نیچے اُتر رہے ہیں۔ اسی دَوران اللہ تعالیٰ، حضرت یعقوبؑ سے مخاطب ہوتے ہیں کہ’’مَیں تجھ کو عَن قریب برکت دوں گا اور تیری اولاد کو کثیر کر دوں گا۔ یہ زمین تیرے لیے کر دوں گا اور تیرے بعد تیری اولاد کے لیے بھی۔‘‘جب حضرت یعقوبؑ نیند سے بیدار ہوئے، تو انتہائی خوش تھے۔ آپؑ نے منّت مانی کہ اگر وہ اپنے والدین کی طرف سلامتی کے ساتھ لَوٹ گئے، تو اُس جگہ، جہاں خواب نظر آیا تھا، اللہ عزّوجل کی عبادت کے لیے ایک گھر بنائیں گے۔ نیز، یہ منّت بھی مانی کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ اُنہیں دے گا، اُس کا دسواں حصّہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے۔ حضرت یعقوبؑ نے اُس پتھر کو تیل لگایا، جس پر سَر رکھ کر سوئے تھے تاکہ واپسی میں اُس کے ذریعے جگہ کی نشان دہی ہو سکے۔

ماموں کی بیٹیوں سے نکاح

حضرت یعقوبؑ طویل سفر کے بعد ’’حران‘‘ میں اپنے ماموں کے پاس پہنچ گئے۔ ماموں، بھانجے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے اور اُن کی خُوب خاطر مدارات کی۔ ماموں’’لابان‘‘ کی دو جوان بیٹیاں تھیں، بڑی کا نام’’لیا‘‘ اور چھوٹی کا’’راحیل‘‘ تھا۔ حضرت یعقوبؑ نے ماموں سے چھوٹی بیٹی، راحیل کا رشتہ مانگا، تو ماموں نے اِس شرط کے ساتھ ہاں کر دی کہ وہ چھے سال تک اُن کی بکریاں چرائیں گے۔ جب مدّت گزر گئی اور شرط پوری ہو گئی، تو اُنہوں نے لوگوں کو اکھٹا کر کے دعوت کی اور شادی کر دی۔ رات کو حضرت یعقوبؑ پر انکشاف ہوا کہ شادی تو راحیل کی بجائے بڑی بہن، لیا سے ہوئی ہے۔ حضرت یعقوبؑ نے صبح ماموں سے پوچھا’’ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ مَیں نے تو راحیل سے نکاح کا پیغام دیا تھا۔‘‘ ماموں نے جواب دیا’’ ہمارے ہاں بڑی بیٹی کے ہوتے چھوٹی سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ ہاں، اگر تمھیں چھوٹی پسند ہے، تو مَیں اُس سے بھی تمہارا نکاح کر دوں گا، مگر تمھیں مزید سات سال تک بکریاں چرانی ہوں گی۔‘‘ حضرت یعقوبؑ نے مزید سات سال تک بکریاں چرائیں، جس کے بعد اُن کا نکاح چھوٹی بہن سے بھی کر دیا گیا۔( واضح رہے، اُس وقت دو بہنوں کا ایک ہی وقت میں ایک مَرد سے نکاح ہوسکتا تھا)۔مؤرخین تحریر کرتے ہیں کہ حضرت یعقوبؑ کی چار بیویاں تھیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اولادِ کثیر سے نوازا۔ آپؑ کے12بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی۔ بیٹوں کی شادیاں ہوئیں اور پھر اُن کی اولاد پھیلتے پھیلتے بارہ قبیلوں کی شکل اختیار کرگئی۔ چھوٹی بیوی، راحیل سے دو بیٹے پیدا ہوئے، ایک حضرت یوسف علیہ السّلام اور دوسرے بن یامین۔

مُلکِ شام واپسی کا حکم

حضرت یعقوبؑ نے بیس برس تک ماموں کے گھر قیام فرمایا، پھر اُنہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے واپس ارضِ کنعان جانے کا حُکم ملا، تو اُنہوں نے اپنے اہل و عیّال کے ساتھ حران سے واپس جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ بیٹیوں اور اُن کے بچّوں سے جدائی کے سبب ماموں اداس و غم گین ہو گئے۔ اُنہوں نے حضرت یعقوبؑ کو روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ تو حکمِ الہٰی کے پابند تھے۔ بالآخر ماموں نے بھیڑ بکریوں کے بڑے ریوڑ اور زادِ راہ ساتھ کر کے سب کو رخصت کیا۔

بڑے بھائی سے ملاقات

حضرت یعقوبؑ اپنے اہل و عیّال، مال مویشیوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اُس مقام پر پہنچ گئے، جہاں اُن کے بڑے بھائی، محیص رہتے تھے۔ محیص نے جب اپنے علاقے میں ایک اجنبی قافلے کو دیکھا، تو بڑے متعجّب اور متجسّس ہوئے۔ اُنھوں نے اپنے لوگوں کو قافلے کی جانب روانہ کیا تاکہ حقیقتِ حال کا علم ہو سکے۔ لوگوں نے واپس آکر بتایا کہ’’ اس قافلے کا سربراہ، یعقوب( علیہ السّلام) نامی کوئی شخص ہے اور یہ لوگ حران سے نقل مکانی کر کے کنعان جا رہے ہیں۔‘‘ محیص نے جب یہ سُنا، تو اُنھیں 20برس پرانا واقعہ یاد آ گیا اور وہ سمجھ گئے کہ یہ تو چھوٹے بھائی ،یعقوبؑ ہیں۔ پھر محیص نے اپنے قبیلے کے چار سو لوگوں کو ساتھ لیا اور حضرت یعقوبؑ کی جانب چل پڑے۔ جب حضرت یعقوبؑ کو اپنے بڑے بھائی کے آنے کا علم ہوا، تو خوف زَدہ ہو گئے کہ جس بھائی کے ڈر سے وہ بیس برس والدین سے دُور رہے، آج اُن ہی سے سامنا ہونے جا رہا ہے۔ روایت میں ہے کہ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ نے آپؑ کے پاس فرشتے بھیجے، جنہوں نے کہا کہ’’ آپؑ پریشان نہ ہوں، اللہ آپؑ کے ساتھ ہے، اپنے بھائی کے استقبال کی تیاری کریں۔‘‘ اس پیغام سے اُنھیں بڑا حوصلہ ملا۔ اُنہوں نے بھائی کو تحفے میں دینے کے لیے اپنے ریوڑ میں سے خُوب صورت بھیڑ، بکریاں ساتھ لیں اور کچھ دُور جا کر بھائی کا استقبال کیا۔ بیس سال کی طویل جدائی نے محیص کے دِل سے رنجش اور نفرت ختم کر دی تھی۔ چھوٹے بھائی کی محبّت نے جوش مارا اور آگے بڑھ کر گلے لگا لیا۔ دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو بوسہ دیا اور دیر تک ماضی کی یادوں میں کھوئے رہے۔

بیت المقدس کی تعمیر

حضرت یعقوبؑ نے کچھ دن بڑے بھائی کی میزبانی میں گزارے، پھر اُن سے اجازت چاہی۔ محیص نے بہت سے تحفے، تحائف دے کر عزّت و احترام کے ساتھ چھوٹے بھائی کو رخصت کیا۔ حضرت یعقوبؑ کو اچھی طرح یاد تھا کہ بیس سال پہلے جب وہ اپنے ماموں کے پاس جا رہے تھے، تو اُنہوں نے منّت مانی تھی کہ اگر وہ اپنے والدین کے پاس سلامتی کے ساتھ لَوٹ گئے، تو جس جگہ خواب دیکھا تھا، وہاں اللہ کا گھر بنائیں گے۔ لہٰذا، وہ بیس سال پُرانے راستوں کو یاد کرتے ہوئے یروشلم کے قریب اس بستی تک پہنچ گئے، جس کے باہر اُنہوں نے قیام فرمایا تھا۔ بستی کے باہر خیمے نصب کر دیے گئے اور پھر حضرت یعقوبؑ نے اپنے بچّوں کے ساتھ اُس پتھر کی تلاش شروع کر دی، جس پر اُنہوں نے تیل لگایا تھا۔چوں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال تھی، سو جلد ہی وہ اُس پتھر کو ڈھونڈنے میں کام یاب ہو گئے۔ جس جگہ وہ پتھر نصب تھا، وہ بستی کے ایک شخص شخیم بن جمور کی ملکیت تھی۔ آپؑ نے ایک سو بھیڑوں کے بدلے اُس سے یہ جگہ خریدی اور پھر اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر وہاں ایک عبادت گاہ تعمیر کی۔یہی جگہ آج ’’بیت المقدس‘‘ کہلاتی ہے۔

اہلیہ کا انتقال

بیت المقدّس میں قیام کے دَوران حضرت یوسفؑ کی والدہ، حضرت راحیل ؑکے یہاں دوسرے بیٹے بن یامین کی پیدائش ہوئی، لیکن دَورانِ زچگی وہ انتقال کر گئیں۔ حضرت یعقوبؑ نے اُنھیں’’ بیت اللحم‘‘ میں سُپردِخاک کیا اور قبر کے سرہانے نشانی کے طور پر ایک پتھر گاڑ دیا۔ آج بھی حضرت راحیل ؑکی قبر اور وہ پتھر موجود ہے۔(واللہ اعلم)

بیت المقدس سے روانگی

حضرت یعقوبؑ کو اپنی بیوی، حضرت راحیلؑ سے بہت محبّت تھی، لہٰذا اُن کے انتقال سے اُنھیں سخت صدمہ پہنچا اور وہ بیت المقدّس کی سکونت تَرک کر کے اپنے والد کے پاس حبرون چلے آئے۔ یہ وہی جگہ ہے، جہاں آپؑ کے دادا، حضرت ابراہیمؑ بھی سکونت پزیر تھے۔ اس دَوران بڑے بھائی، محیص بھی وہاں پہنچ چُکے تھے۔ حضرت اسحاقؑ نے دونوں بیٹوں کی موجودگی میں180سال کی عُمر میں وفات پائی۔

حضرت یعقوبؑ اور غموں کا پہاڑ

حضرت یعقوبؑ کو چھوٹی بیوی سے ہونے والے دو بیٹوں، یوسف ؑاور بن یامین سے بے حد محبّت تھی اور اُنہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔ سوتیلے بھائیوں کو یہ بات بہت بُری لگتی تھی اور وہ ان دونوں بھائیوں کو رنج و تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ حضرت یعقوبؑ جانتے تھے کہ بڑے دَسوں بھائی اُن دونوں سے حسد کرتے ہیں۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنی زندگی کا بڑا حصّہ رنج و غم میں گزارا۔ ابھی نوجوان ہی تھے کہ بڑے بھائی کے خوف سے والدین کو چھوڑنا پڑا اور بیس برس دیارِ غیر میں گزارے۔ بڑھاپے میں بڑی بیوی سے ہونے والے دس بیٹوں کے ہاتھوں حضرت یوسفؑ کو دی جانے والی تکالیف اور طویل جدائی نے اُنہیں شدید اذیّت پہنچائی۔ وہ حضرت یوسفؑ کی جدائی کے سبب چالیس سال تک اُنہیں یاد کر کے روتے رہے، یہاں تک کہ روتے روتے آنکھوں کی بینائی ضائع ہوگئی۔ آخر چالیس سال بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوبؑ کو بیٹے سے اس حیثیت سے ملایا کہ وہ والئی مِصر تھے۔ دونوں باپ، بیٹا طویل جدائی کے بعد ملے، تو لپٹ کر دیر تک روتے رہے۔ حضرت یعقوبؑ اپنے بیٹے، حضرت یوسفؑ کے پاس مِصر میں 24سال تک مقیم رہے۔

بیٹوں کو وصیت

حضرت یعقوبؑ کی وفات کا وقت قریب آیا، تو آپؑ نے اپنے سب بیٹوں کو جمع کیا اور اُن سے پوچھا’’ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا’’ اے ابّا جان! ہم سب اُس ربّ کی عبادت کریں گے، جو آپؑ کا اور آپ ؑکے آبائواجداد ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کا معبود ہے۔‘‘ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’بھلا جس وقت یعقوبؑ وفات پانے لگے، تو تم اُس وقت موجود تھے۔ جب اُنہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ’’ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ تو اُنہوں نے کہا کہ’’ آپؑ کے معبود اور آپؑ کے باپ ،دادا ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے معبود کی عبادت کریں گے۔ جو معبودِ یکتا ہے اور ہم اس کے فرماں بردار رہیں گے۔‘‘ (سورۃ البقرہ133:)اسی سورت کی آیت 132میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اور اس بات کی ابراہیمؑ نے اپنے بیٹوں کو وصیّت کی اور یعقوبؑ نے بھی (اپنے بیٹوں کو) کہ اے میرے بیٹو! اللہ نے یہی دین تمہارے لیے منتخب فرمایا ہے، لہٰذا، تمہیں موت آئے، تو اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو۔‘‘ 

وصال و تدفین

تفسیرِ قرطبی میں مذکور ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مِصر میں 24سال رہنے کے بعد وفات پائی اور وفات سے پہلے حضرت یوسف علیہ السّلام کو وصیّت فرمائی کہ’’ میری میّت میرے وطن بھیج کر والد، اسحاق علیہ السّلام کے پاس دفن کیا جائے۔‘‘ سعید بن جبیرؒ نے فرمایا کہ حضرت یعقوب علیہ السّلام کی میّت کو لکڑی کے تابوت میں رکھ کر بیت المقدس منتقل کیا گیا۔ اسی وجہ سے عام یہود میں یہ رسم چل نکلی کہ وہ اپنے مُردوں کو دُور دُور سے بیت المقدّس لے جا کر دفن کرتے ہیں۔ وفات کے وقت حضرت یعقوب علیہ السّلام کی عُمر ایک سو سینتالیس سال تھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ حضرت یعقوب علیہ السّلام مع اپنی اولاد جب مِصر میں داخل ہوئے، تو اُن کی تعداد93 نفوس پر مشتمل تھی اور جب اُن ہی سے پھیلنے والے افراد حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے ساتھ مِصر سے نکلے، تو اُن کی تعداد چھے لاکھ، ستّر ہزار تھی۔ (تفسیرِ قرطبی، ابنِ کثیر)

قرانِ کریم میں ذکر

قرآنِ مجید کی16آیات میں حضرت یعقوبؑ کا اُن کے نام ’’یعقوب‘‘ کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے۔اس کی تفصیل یوں ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیات132، 133، 136، 140، سورۂ آلِ عمران کی آیت84، سورۃ النساء کی آیت163، سورۂ انعام کی آیت84، سورۂ ہود کی آیت71، سورۂ یوسف کی آیات6، 38، 68میں، سورۂ مریم کی آیات6، 49، سورۂ الانبیاء کی آیت72، سورۃ العنکبوت کی آیت27 اور سورۂ ص کی آیت45میں آپؑ کا ذکر کیا گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں