آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں صفورا چورنگی کے قریب ڈیڑھ سالہ بچے کی گولی لگنے سے ہلاکت کا مقدمہ 4 نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا، جبکہ بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ احسن پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق بچے کا پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں کیا گیا ہے جس کے مطابق احسن کو دائیں جانب سے سینے میں گولی لگی اور بائیں جانب کمر سے پار ہوگئی ۔

ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر شیراز نے بتایا ہے کہ بچے کو 10 سے 15 فٹ کے فاصلے سے گولی لگی ہے اور وہی گولی والد کو بھی چھو کر گزری ہے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ میں ملوث 2 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور دیگر 2 اہلکاروں سے تفتیش کی جارہی ہے ۔

واقعے کا مقدمہ بچے کے والد کی مدعیت میں سچل تھانے میں 4 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے ، جس میں اقدامِ قتل اور قتل خطا کی دفعات لگائی گئی ہیں ، تاہم احسن کے والدین کا کہنا ہے کہ مقدمہ ان کی مرضی سے درج نہیں کیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق احسن کی نماز جنازہ آج صبح 10 بجے گلستان جوہر بلاک 8 میں ادا کی جائے گی ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صفورا چورنگی کے قریب ڈیڑھ سالہ مقتول احسن کے والد کاشف راجہ اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ رکشے میں سامان خریدنے جارہے تھے کہ ملزمان کا تعاقب کرنے والے موٹر سائیکل پر سوار پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی جس کی زد میں آکر ننھا احسن موقع پر جاں بحق ہوگیا۔

دوسری جانب احسن کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے سامنے پولیس والوں نے فائرنگ کی ہے اور وہاں کوئی مقابلہ نہیں ہو رہا تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ اس سے پہلے ڈیفنس میں امل ، انتظار ، شارع فیصل پر مقصود اور نارتھ کراچی میں 18 سالہ طالبہ نمرہ بھی پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوچکی ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں