آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹر بورڈ کراچی کی انتظامیہ بے بس ہو گئی، کراچی میں انٹر میڈیٹ کے امتحانات کے تحت ہونے والا اردو کا پرچۂ اوّل اور ریاضی ٹو کا پرچہ آؤٹ ہو گیا۔

آج ہونے والا انٹر کا اردو پرچہ اول امتحانی مراکز پہنچنے سے پہلے ہی نقل مافیا تک پہنچ گیا،پرچہ شروع ہونے پہلے سوشل میڈیاپر موجود تھا جبکہ اس کے ساتھ حل شدہ جوابات بھی سوشل میڈیا پر موجود تھے۔

کراچی میں اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے تحت جاری امتحانات میں آج ہونے والا انٹر کا ریاضی ٹو کا پرچہ بھی امتحانی مراکز پہنچنے سے پہلے نقل مافیا تک پہنچ گیا۔

یہ پرچہ بھی شروع ہونے سے 40 منٹ قبل سوشل میڈیاپر موجود تھا جبکہ اس کے ساتھ حل شدہ جوابات بھی سوشل میڈیا پر موجود تھے۔

کراچی میں اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے تحت امتحانات کھیل بن گئے، نقل مافیا کو کوئی لگام نہ ڈال سکا، انٹر بورڈ انتظامیہ بے بس ہوگئی۔

دوسری جانب کراچی کے ایس ایم سائنس کالج اور ایس ایم آئی یونیورسٹی کی انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی ہونے کے باعث ایس ایم سائنس کالج میں انٹر لاء کا پرچہ شروع نہیں ہوسکا جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا۔

صورت حال پر قابو پانے کے لیے رینجرز اورپولیس کی نفری ایس ایم سائنس کالج پہنچ گئی، ایس ایم سائنس کالج اور ایس ایم آئی یو کی انتظامیہ نے ایک دوسرے پر توڑ پھوڑ اور تشدد کے الزامات لگا دیئے۔

اس حوالے سے ’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ناظم امتحانات انٹر بورڈ کراچی عظیم صدیقی نے کہا کہ نقل روکنے کے لیے انہوں نے رینجرز کو طلب کر لیا ہے۔

ناظم امتحانات کراچی انٹر بورڈ نے مزید کہا کہ میں رینجرز کی مدد مانگے پر مجبور ہوں اس لیے رینجرز کو طلب کیا، رینجرز کے نام خط میں لکھا ہے کہ میری جان کو خطرہ لاحق ہے۔

عظیم صدیقی نے یہ بھی کہا کہ میں نےکوئی رانگ سینٹر لگنے نہیں دیا، نہ نقل مافیا کا کوئی سیٹ اپ لگنے دیا، حالانکہ نقل مافیا چاہتا تھا کہ میں غلط سینٹر لگا کر ان کی معاونت کروں۔

علاوہ ازیں ناظم امتحانات انٹر بورڈ کراچی عظیم صدیقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی اور تاخیر کے بعد ایس ایم کالج میں ہونے والا پرچہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنا الزام دہراتے ہوئے کہا کہ میں نے نقل مافیا کے مطابق کوئی سینٹر نہیں بنایا، اس لیے نقل مافیا سے مجھے اور میری فیملی کو خطرات لاحق ہیں۔

عظیم صدیقی کا کہنا ہے کہ لیک ہونے والی آڈیو میں آواز میری نہیں، اس آڈیو میں کچھ باتیں میری طرف سے منسوب کی گئی ہیں۔

ناظم امتحانات نے مزید کہا کہ مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں، مرتضیٰ وہاب کا نام میں نے نہیں نقل مافیا نے لیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے سخت اسکروٹنی کروائی اور غیر قانونی طور پر تبدیل کیے گئے نتائج کو منسوخ کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں