آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 24؍ذوالحجہ 1440ھ 26؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر عزیزہ انجم، کراچی

رمضان کا مبارک مہینہ ایک بار پھر اپنے دامن میں رحمتوں، برکتوں کے خزانے سمیٹےجلوہ گر ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے، جس میں ہر نیکی کا اجر ستّر گنا بڑھ جاتا ہے۔ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستّر فرضوں کے برابر ہوجاتا ہے۔بچّہ، جوان، بوڑھا، مَرد ہو کہ عورت غرض کہ ہر ایک فرد کے دِل میں عبادت کا ذوق و شوق بڑھ جاتا ہے، مساجد کی رونقیں دوبالا ہوجاتی ہیں۔ زندگی کے تمام معمولات گھڑی کی سوئی کے ساتھ ترتیب پاتے ہیں۔بے شک ماہِ صیام اہلِ ایمان مَردوں اورخواتین کے معمولات یک سر بدل دیتا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی میں کتنے ہی رمضان گزارنے کے باوجود دین سے تعلق اور عبادت کی بَھرپور ادائیگی اسی ماہ تک محدود رہتی ہے اور بعد کے گیارہ مہینوں کا روٹین بالکل مختلف ہوتا ہے۔ عام طور پریہ بھی دیکھا گیا ہے کہ معمولات کی تبدیلی کے باوجود معاملات بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہوتی، بلکہ بسا اوقات معاملات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ ماہِ رمضان میںدفتری اوقاتِ کار کم ہو تے ہیں،اس کے باوجودزیادہ تر افراد حاضری لگا کر غائب ہوجاتے ہیں۔ دفتری امور اچھی طرح انجام دینے کی بجائے ٹالنے کے انداز میں نمٹائے جاتے ہیں۔ مزاج میں غصّہ اور تلخی دَرآتی ہے اور ایک عجیب بگڑا ہواسارویّہ ہوتا ہے۔حالاں کہ رمضان المبارک کے روزوں کا مقصد تقویٰ کا حصول بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ ٔبقرہ میں فرماتے ہیں، ’’اے لوگو !جو ایمان لائے ہو ،تم پر روزے فرض کردئیے گئے ،جس طرح تم سے پہلے ابنیاءکے پیروکاروں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو۔‘‘ قرآنی حکم کے مطابق روزے مسلمانوں کو متّقی بنانے کے لیے فرض کیے گئے ہیں۔ عام طور پر تقویٰ کا مطلب عبادت کی بہتر اور بَھرپور ادائیگی سمجھا جاتا ہے اور تقویٰ کا وسیع مفہوم، جو معاملات اور تعلقات سے وابستہ ہے، نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑوں مسلمانوں کے شب و روز بدل جانے سے بھی معاشرے میں کوئی بہتر تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ نیکی فرد کی ذات تک محدود اور تقویٰ کے ثمرات سے ارد گرد کا ماحول محروم ہی رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عبادت کے ساتھ عہد کی پابندی، حیا کی پاس داری، عدل و انصاف کے معاملات،خوش اخلاقی، گھریلو یا پیشہ وَرانہ فرائض اور ڈیوٹی احسن طریقے سے انجام دینے کو تقویٰ سے تعبیر کیا ہے۔ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کو بہتر انداز میں ادا کرنا تقویٰ ہے۔تھوڑا سا دِل بڑا کرلینا، معاملات میں خدا خوفی، قریبی رشتوں کو قائم رکھنے کے لیے عفو و درگزر، حُسنِ سلوک سمیت دیگر مثبت رویّے اور اقدامات سب ہی تقویٰ کے مظاہر ہیں،لہٰذا اپنے معمولات اس طرح ترتیب دیں کہ عبادت کے لیے بھی وقت نکل آئے اور زندگی کی ذمّے داریاں بھی بہتر انداز میں ادا ہو جائیں۔

چوں کہ خواتین کی دُنیا، تعلقات کی دُنیا کہلاتی ہے،تو وہ خاص طور پرماہِ مبارک میںمعمولاتِ زندگی کے ساتھ معاملات بھی بہتر بنائیں۔ رمضان کے قیمتی شب و روز شاپنگ، تفریح اور بے مقصد مصروفیات میں ضایع ہونے سے بچائیں۔ روزے کی صحیح ادائیگی کے لیے جسمانی تھکاوٹ والے کاموں سے بچیں۔سحر خیزی کے لمحے جب اور جتنے میسّر آئیں، رب سے قربت کے لیے اس کے حضور سجدہ ریز رہیں۔عبادت کی ادائیگی، نمازوں میں خشوع و خضوع کے ساتھ خود کو ایک بہتر انسان بنانےکے لیے اللہ سے مدد مانگیں۔ رمضان اپنے جائزےاور احتساب کا بھی مہینہ ہے۔سو، اپنے رویّوں اور معاملات کا جائزہ لیں، اپنی خُوبیوں،خامیوں پر نظر ڈالیں اور اس ماہِ رمضان کو ایک نئی زندگی کا نقطۂ آغاز بنانے کی بَھرپور سعی کریں۔زبانی کلامی دعویٰ نہیں، عمل بھی کرکے دکھائیں، تاکہ معاشرے میں خیر اور بھلائی کے اثرات غالب رہیں اور اردگرد کا ماحول آپ کی موجودگی سے خوش گوارہوجائے گا۔