آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ایک مرتبہ پھر دُنیا بَھر کی معیشتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 74ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر چُکی ہے۔ تاہم، اس مرتبہ تیل کی قیمتیں بڑھنے کا سبب طلب میں اضافہ نہیں، بلکہ امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری کے لیے دیے گئے استثنیٰ کا خاتمہ ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران پر مزید پابندیاں عاید کی تھیں۔ تاہم، نصف درجن سے زاید ممالک کو ایرانی تیل کی خریداری پر پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا تھا اور 2مئی کو یہ رعایت ختم ہو گئی۔ امریکا کی جانب سے استثنیٰ ختم کرنے کے اعلان کے فوراً بعد ہی تیل برآمد کرنے والے ممالک نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔ گرچہ اس موقعے پر سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ تیل کی طلب پوری کرے گا، لیکن ایران بہ آسانی اپنے حصّے کی برآمدات کسی اور مُلک بالخصوص سعودی عرب جیسے اپنے حریف مُلک کو دینے پرآمادہ نہ ہو گا۔ تاہم، اس کشمکش میں پاکستان جیسے ترقّی پزیر ممالک، جن کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصّہ تیل درآمد کرنے پر خرچ ہوتا ہے اور اُن کی معیشت پہلے ہی دبائو کا شکار ہے، یقیناً فکر مند ہوں گے۔ گو کہ آج دُنیا میں تیل کی وہ اہمیت نہیں، جو ایک عشرے قبل تھی، لیکن اس کی طلب میں کمی یا اضافہ عالمی ترقّی کی رفتار ضرور متاثر کرتا ہے، جب کہ امریکا کے نو دریافت شُدہ تیل کے کنویں کسی اور جانب اشارہ کر رہے ہیں۔

گزشتہ برس امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ اس معاہدے کو دُنیا کی ’’بدترین ڈیل‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم، جوہری معاہدے میں شامل دیگر ممالک نے اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ امریکی صدر کے علیحدگی کے اعلان سے قبل امریکا کے اتحادی ممالک، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور یورپی یونین نے سفارتی سطح پر آخری وقت تک ڈونلڈ ٹرمپ کو منانے کی کوشش کی، لیکن امریکی صدر ایک نئی ڈیل پر مُصر رہے۔ اس سلسلے میں ٹرمپ کو اپنے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں بالخصوص سعودی عرب اور اسرائیل کی حمایت بھی حاصل تھی۔ مذکورہ ممالک نے امریکی مؤقف تائید کی۔ امریکا کا ماننا ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں پائی جانے والی افراتفری کا ذمّے دار ہے اور اسی کی وجہ سے شام اور یمن میں خانہ جنگی ہوئی۔ امریکا، سعودی عرب اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ نیوکلیئر ڈیل کے نتیجے میں ایران کو ملنے والی رعایتوں سے خطّے میں ایرانی اثر و نفوذ نے تقویّت حاصل کی اور تیل کی تجارت کے سبب اسے عمومی طور پر عالمی امور اور بالخصوص علاقائی سیاست میں دوبارہ فعال ہونے کے مواقع ملے۔ اس کے برعکس ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی پاس داری کر رہا ہے اور عالمی تفتیش کار اور آئی اے ای اے ( انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجینسی) اس کے جوہری پروگرام پر اطمینان کا اظہار کر چُکی ہے، لہٰذا معاہدے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ تاہم، ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں پائے جانے والے تنائو کا ذمّے دار ایران کو ٹھہراتے ہیں اور اس کے میزائل پروگرام پر بھی شدید معترض ہیں۔ خیال رہے کہ واشنگٹن تہران کی پیرا ملٹری فورس، پاس دارانِ انقلاب کو دہشت گرد فوج قرار دے کر اس پر پابندی عاید کر چُکا ہے اور یہ ایک مُلک کی جانب سے کسی دوسرے مُلک کی فوج پر پابندی عاید کیے جانے کا پہلا واقعہ ہے۔ امریکا پاس دارانِ انقلاب پر شام اور یمن میں مداخلت کا الزام عاید کرتا ہے، جب کہ ایران اپنے اس عمل کو اپنے مفادات کا تحفّظ قرار دیتا ہے۔ بہر کیف، امریکا نے مشرقِ وسطیٰ بالخصوص ایران کو ایک کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایران پر عاید پابندیوں کی وجہ سے خطّے کے دوسرے ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں اور وہ اس بات پر سوچ بچار کر رہے ہیں کہ وہ ایران سے فوجی تعاون کیسے برقرار رکھیں۔ یا د رہے کہ ایران تیل کی سب سے اہم گزر گاہ، آبنائے ہُرمز کے دہانے پرواقع ہے اور ایرانی نیوی اس کی محافظ کہلاتی ہے۔

عالمی پیمانے پر تیل کی پیداوار پر نظر دوڑائیں، تو پتا چلتا ہے کہ ایران تیل پیدا کرنے والا دُنیا کا چوتھا بڑا مُلک ہے، جب کہ سعودی عرب پہلا۔ تازہ پابندیوں سے قبل ایران کی تیل کی برآمدات کا حجم 25لاکھ بیرل یومیہ تھا، جب کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ استثنیٰ ختم ہونے کے بعد یہ 10لاکھ بیرل یومیہ ہو جائے گا۔ پھر یہ بھی کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں کہ اس وقت ایران کی معیشت شدید ترین بُحران سے گزر رہی ہے اور ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر نچلی ترین سطح پر ہے۔ ایرانی صدر، حَسن روحانی اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ افراطِ زر کو کنٹرول کر پائے، نہ اپنی کرنسی کی قدر کو سہارا دے سکے اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا کر سکے۔ تیسرا اور آخری عُنصر ایرانی نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی کا بھی سبب ہے۔ نیز، مُلک کے سخت گیر مذہبی عناصر بھی ان کی معتدل حکومت کے لیے چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ جوہری معاہدے سے ایران کو کچھ حاصل نہیں ہوا، جس کے بانی حَسن روحانی تھے، جب کہ تیل کی تجارت میں مزید کمی بھی خاصی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔امریکی اعلان کے نتیجے میں جن ممالک کا استثنیٰ ختم ہوا، ان میں چین، بھارت اور تُرکی جیسے مضبوط معیشت کے حامل ممالک بھی شامل ہیں۔ گو کہ چین اور تُرکی نے اس فیصلے کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، لیکن اُن کے لیے اس کے منفی اثرات سے بچنا مشکل ہو گا، کیوں کہ ان ممالک کی کئی کثیر القومی کمپنیز کا لین دین امریکا سے وابستہ ہے۔ یاد رہے کہ گرچہ یورپ نے نیوکلیئر ڈِیل سے علیحدگی کے معاملے پر امریکا کی بہ جائے ایران کا ساتھ دیا تھا، لیکن یورپی کمپنیز کو امریکا سے وابستہ اپنے تجارتی مفادات کو نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ مذکورہ امریکی فیصلے کے بعد پاس دارانِ انقلاب کے سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کو تیل کی تجارت کے لیے ابنائے ہُرمز کے استعمال سے روکا گیا، تو وہ باقی دُنیا کے لیے بھی اس راہ داری سے تجارت کو نا ممکن بنا دیں گے۔ خلیجِ فارس میں واقع آبنائے ہُرمز سے تیل کے پانچویں حصّے کی تجارت ہوتی ہے ۔ تیل کی ترسیل میں کمی سے صرف ایران ہی متاثر نہیں ہوا، بلکہ لیبیا میں، جو اوپیک کا ایک اہم رُکن ہے، خانہ جنگی شدّت اختیار کر چُکی ہے۔ جنرل ہفتار اور وزیرِ اعظم، سراج کے درمیان جاری تصادم نے لیبیا کو تیل کی مارکیٹ سے باہر کر دیا ہے، جب کہ جنوبی امریکا میں واقع، وینزویلا کا سیاسی بُحران بھی اس کی تیل کی تجارت میں رُکاوٹ بن رہا ہے۔ امریکا، وینزویلا کے صدر، نکولس مدورو کے خلاف مُلک بَھر میں جاری ہنگاموں کے بعد جوآن گائیدو کو مُلک کا نیا حُکم راں تسلیم کر چُکا ہے اور صدر مدورو کے خلاف دبائو برھانے کے لیے وینزویلا پر بھی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ اس ساری صُورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب واشنگٹن تیل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر آمادہ ہے اور عالمی ماہرین کے مطابق ایران اور وینزویلا پر عاید پابندیاں اس سلسلے میں ایک ’’ٹیسٹ کیس‘‘ ہیں۔ خیال رہے کہ وینزویلا کے تیل کا معیار خطّے میں سب سے بہتر ہے اور امریکا ہی یہ تیل زیادہ استعمال کرتا ہے۔

امریکا میں شیل آئل کی کثیر مقدار میں دریافت کے سبب تیل کی عالمی منڈی میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ امریکا، رُوس کے بعد وہ دوسری بڑی طاقت ہے، جو تیل کی پیداوار میں خود کفیل ہے۔ آج امریکا تیل کی اتنی ہی مقدار کی عالمی مارکیٹ میں ترسیل کر سکتا ہے، جتنی کہ سعودی عرب کرتا ہے۔ تاہم، فی الوقت شیل آئل کا معیار برینٹ کروڈ آئل کے مقابلے میں کم تر ہے، لیکن اگر تیل کا بُحران پیدا ہوتا ہے، تو امریکا یقیناً وہ ٹیکنالوجی بروئے کار لا سکتا ہے کہ جس سے شیل آئل کی کوالٹی بھی بہتر ہو جائے اور قیمت بھی کم رہے۔اس کے نتیجے میں امریکا کے مغربی اتحادیوں میں بھی اعتماد پیدا ہو گا اور انہیں اس بات کا احساس ہو گا کہ اُن کا لیڈر ان کی تیل کی ضروریات پوری کر سکتا ہے، جو پہلے مشرقِ وسطیٰ کا دست نگر تھا۔امریکی ماہرین کے مطابق، امریکا 2021ء تک باقاعدہ طور پر تیل برآمد کرنے والا ایک بڑا مُلک ہو گا اور وہ وقت اب زیادہ دُور نہیں۔ خیال رہے کہ آج سے صرف 10برس قبل امریکا کے رواں خسارے کی سب سے بڑی وجہ تیل کی درآمدات تھیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر معمولی خود اعتمادی کا ایک بڑا سبب شیل آئل ہے اور وہ ایک گھاگ تاجر کی طرح اس کی قیمت وصول کرنا جانتے ہیں۔ تاہم، فی الحال یورپ اور ایشیا تیل کی بڑھتی یا کم ہوتی قیمتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ گرچہ اس وقت یورپی معیشتیں بہ مشکل سنبھل رہی ہیں، لیکن تیل کی قیمتوں میں اضافہ تُرکی، ارجنٹائن اور پاکستان کے لیے سُود مند ثابت نہیں ہو گا، کیوں کہ اس کے سبب ان کا افراطِ زر اور رواں خسارہ مزید بڑھ جائے گا۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی شدید دبائو میں ہے اور یہ سعودی عرب سے مؤخر قیمتوں پر تیل لے کر گزر بسر کر رہا ہے۔ اب دُنیا کی کم زور معیشتوں کو یقیناً وہ دن یاد آتے ہوں گے کہ جب تیل کی قیمت کم ہو کر 28ڈالرز فی بیرل پر آگئی تھی اور پاکستان کا، جو تیل کی درآمد پر کم و بیش 12ارب ڈالرز خرچ کرتا تھا، درآمدی بِل کم ہو کر 7ارب ڈالرز پر آگیا تھا۔ تب مُلک میں پاکستان مسلم لیگ (نون) کی حکومت تھی اور اسحٰق ڈار وفاقی وزیرِ خزانہ تھے۔ انہوں نے تیل کی کم قیمت کا فائدہ اٹھایا اورپاکستان کی شرحِ نمو 5فی صد سے تجاوز کرگئی۔ مسلم لیگ (نون) کے مخالفین اور ناقدین کو یہ بات ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک مرتبہ پھر مرکزی بینکوں کو اپنی مالیاتی پالیسی سخت کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ گزشتہ برس ایک طویل عرصے بعد انہوں نے مالیاتی معاملات میں ڈھیل دی تھی، جس کے مثبت نتائج کی وجہ سے ترقّی نے رفتار پکڑنا شروع کی تھی، لیکن تیل کی قیمتوں میں اضافہ یہ رجحان تبدیل کر سکتا ہے، کیوں کہ مجموعی طور پر معیشتیں مستحکم تو ہیں، لیکن پائے دار نہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی ایک بڑی وجہ تیل کی عالمی مارکیٹ کا غیر مستحکم ہونا بھی ہے۔ مثال کے طور پر اگر عالمی مارکیٹ میں ایرانی تیل کی ترسیل کم ہو جائے گی، تو کیا سعودی عرب طلب پوری کر پائے گا۔ ’’آرام کو‘‘، جو دُنیا کی سب سے بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنی ہے، تقریباً 36لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چُکی ہے، لیکن یہ پیداوار پہلے لگائے گئے تخمینوں سے کچھ کم ہے۔ پھراپنی معیشت مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سعودی عرب تیل کی قیمت80ڈالرز فی بیرل مقرّر کرے۔ تاہم، گزشتہ برس ٹرمپ نے سعودی عرب کو مجبور کیا تھا کہ وہ اپنے تیل کی قیمت 50سے55ڈالرز فی بیرل کے درمیان رکھے۔ سو، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اگر تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں، تو اس پر ان کا کیا ردِ عمل ہو گا۔اس ضمن میں ماہرین کا خیال ہے کہ ایک مرحلے پر امریکا بھی تیل کی عالمی مارکیٹ میں داخل ہو سکتا ہے اور ٹرمپ جیسے سیماب صفت اور تاجرانہ مزاج کے حامل امریکی صدر سے اس بات کی توقّع رکھنا ناممکن نہیں۔ اگر ایسا ہوا، تو یہ یقیناً پوری دُنیا کے لیے ایک حیران کُن عمل ہو گا، کیوں کہ اس طرح دفاعی، معاشی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی طرح تیل کے میدان بھی امریکا کی برتری قائم ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں طاقت کا توازن بھی بگڑ سکتا ہے، جو چین سے لے کر یورپ تک کے لیے فکر مندی کی بات ہوگی۔

تاہم، اس سے ہرگز یہ مطلب اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تیل کی سیاست کو فوری طور پر مؤثر انداز سے کسی بھی مُلک کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایران اپنی تمام معاشی کم زوریوں کے باوجود امریکا کے سامنے ڈٹا ہوا ہے اور اس نے ابھی تک امریکا کا کوئی بھی مطالبہ تسلیم نہیں کیا، چہ جائیکہ اس کی قیمت ایرانی عوام کو چُکانی پڑ رہی ہے۔ پھر آبنائے ہُرمز کی بندش بھی ایک بین الاقوامی بُحران کی شکل اختیار کر جائے گی اور اس وقت ایران اور امریکا سمیت کوئی بھی مُلک براہِ راست فوجی تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ البتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمز میں بحری فوجی مشقوں کے انعقاد سے کچھ عرصے کے لیے تیل کی ترسیل میں رُکاوٹ آ سکتی ہے۔ دوسری جانب چین نے امریکا کی جانب سے یک طرفہ طور پر عاید پابندی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے سبب چین اور امریکا کے تجارتی معاہدے میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور دونوں بڑی اقتصادی طاقتیں اس سے گریز کرنا چاہیں گی۔ اسی طرح وینزویلا میں صدر مدورو بھی اقتدار چھوڑنے پر آمادہ نہیں، حالاں کہ ان کے مُلک کی معیشت جامد ہو چُکی ہے۔ پھر امریکی شیل آئل کی کوالٹی بہتر بنانے کے لیے بھی خاصا وقت درکار ہو گا۔لہٰذا، ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت کا آغاز ہی اس مسئلے کا بہتر حل ہے اور سب کی خواہش بھی یہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا آئل مارکیٹ میں داخلے سے فوری طور پر توازن تو تبدیل کر سکتا ہے، لیکن تیل کی سیاست پرفوری طور پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکتا۔  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں