آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر شائستہ پروین

اسلام نے معاشرے کے ہر طبقے کی ہدایت و رہنمائی کے لئے جو اصول مقرر کئے ہیں ان میں بچوں کی تعلیم و تربیت اور پرورش کے اصول بھی ہیں۔ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اللہ رب العزت نے بچوں کے متعلق واضح طور پربیان کیا ہے اور بار بار طفولیت، ذریت اور اولاد کے الفاظ سے اشارہ کیا ہے، نیز لوگوں کی تعلیم و تفہیم کے لئے بعض انبیائے کرامؑ کی طفولیت کا بھی ذکر کیا ہے۔حضور اکرمؐ کے اوقات میں بچوں کا بھی حصہ تھا۔ چناں چہ آپ ؐ بچوں کے ساتھ مزاح فرماتے، ان کے ساتھ تفریح کرتے اور صحابہ کرامؓ کو بھی بچوں کے ساتھ مہربانی و شفقت کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم فرماتے۔

تربیت کی اہمیت اور تقاضے

بچے کو بڑوں کی دنیا میں قدم رکھنے کے لئے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ نشو و نما کے یہ مراحل اپنی الگ خصویات رکھتے ہیں۔ اگربچوں کی تعلیم و تربیت میں مطلوبہ تقاضوں اور ضرورتوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے تو کوشش نتیجہ خیز ہوتی ہے، ورنہ نتائج تسلی بخش نہیں ہوتے۔ ماہرین علم النفس نے تعلیم و تربیت کے لحاظ سے انسانی ادوار کو کئی حصوں میں تقسیم کیا ہے، جس میں بچے ذہنی و جسمانی اعتبار سے بلوغ تک پہنچتے ہیں۔یوں تو انسانی عمر کا ہر دور انتہائی نازک اور توجہ طلب ہے، لیکن لڑکپن اور نوجوانی ، تعلیم کے اہم ادوار ہیں۔ لڑکپن کے اس دور میں جسمانی، نفسیاتی اور عقلی بالیدگی پچھلے دور کے مقابلے میں بڑھ جاتی ہے۔ وہ ہر کام میں اپنے بڑوں کا دست نگر نہیں رہتا۔ ذہنی اور جسمانی دونوں طرح کے کاموں کو انجام دینے کی صلاحیت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔ عمر کا یہ دور گھر سے نکل کر اسکول جانے اور دوسرے بچوں سے ملنے جلنے اور دوستی کرنے کا دور ہوتا ہے۔ اس دور میں بچوں کے اندر اچھل کود، کھیل کود، بھاگ دوڑ اور چیزوں کی جستجو کا شوق بڑھ جاتا ہے۔ ان کے اندر کاموں کے کرنے اور ایک دوسرے سے وفاداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ قوت فیصلہ بلا کی ہوتی ہے۔ اپنے بڑوں خاص کر ماں باپ اور اساتذہ کا دل سے احترام کرتے ہیں اور ان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش ہوتی ہے، جس کے لئے وہ بھر کوشش کرتے ہیں۔ یہ سب عمدہ صفات ہیں۔ ان کو پروان چڑھنے کا موقع دیا جائے۔ کامیابی پر شاباش دی جائے اور ناکامی پر ہمت دلائی جائے، بے جا تنقید سے گریزکیا جائے اور صحت مند تفریح کا اہتمام کیا جائے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم جہاں بچوں کے حقوق کے حوالے سے تعلیم دیتاہے، وہیں قرآن میں بچوں کے تحفظ کے اہتمام و انتظام کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ انسانی زندگی میں بچوں کی اہمیت کے پیش نظر اسلام کا دامن بچوں کے لئے وسائل تربیت سے بھرا پڑا ہے۔ اسلام بچوں کی روحانی تربیت عمدہ نصیحتوں سے کرتا ہے۔ عقلی و ذہنی صلاحیتوں کی اصلاح اعلیٰ کردار کے ذریعے کرتا ہے اور جسمانی تربیت اچھی عادات اور کھیل کودا ور و رزش کے ذریعے کرتا ہے۔گویا تربیت کے ذریعے بنی نوع انسان کو عقیدہ و اخلاق، علم و ہنر اور تہذیب و تمدن کا پابند کیا جاتا ہے۔ ان کی جسمانی قوتوں کو مناسب غذا فراہم کرکے ان کی روحانیت کو فروغ دیا جاتا ہے، تاکہ اچھے افراد پیدا ہوں، صالح جماعت کی تشکیل ہو اور دنیا کا نظام صحیح ڈھنگ سے چلے۔قرآن کریم کی تعلیم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علم نافع، اعال صالحہ اور خوف خدا کے ساتھ جسمانی قوت سربراہی و سرداری کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی افادیت اور اس کے مستحسن ہونے کے اشارے ملتے ہیں۔

اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں

اسی کے ساتھ آپ ؐ کی سنت مطہرہ سے بھی بدنی سرگرمیوں کے ثبوت ملتے ہیں۔ مختلف کھیلوں اور ورزشوں کا ذکر ملتا ہے۔ ماں باپ کے لئے بچوں کی تربیت سے متعلق کھیلوں اور بدنی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی ترغیب و تنبیہ ملتی ہے کہ حرکت بچوں کے لئے حصول قوت کا باعث ہے۔ احادیث میں ہے کہ بھاگ دوڑ میں مقابلہ آرائی خواہ پیدل ہو یا سواری پر اللہ کے رسول ؐکے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔ خود اللہ کے رسولؐ اس طرح کے مقابلے میں شریک ہوتے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دیتے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے بچوں کے لئے بعض ورزشوں کو برقرار رکھا، کیوں کہ ورزش بچے کی عقلی، اخلاقی، بدنی، حتیٰ کہ معاشرتی قوت کے فروغ کا بھی ذریعہ ہے۔

ماہرین کی نظر میں

جدید تحقیقات بھی یہی بتاتی ہیں کہ ورزش اور کھیل سے بچے کی ذہنی صلاحیت میںاضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کی رائے ہے ’’کھیل ایک زبردست خواہش اور فطری داعیہ ہے، جس کی بہرحال جائز حدود میں تکمیل ہونی چاہئے۔ جو لوگ بچوں کو کھیل سے محروم رکھتے ہیں، وہ دراصل فطرت سے جنگ اور بچوں پر ظلم کرتے ہیں۔ قدرت نے یہ زبردست داعیہ بلا وجہ نہیں رکھا ہے۔ بچوں کی ذہنی و جسمانی، معاشرتی و اخلاقی نشو و نما کے لئے کھیل نہایت ضروری ہے۔ماہرین نفسیات نے اپنے مشاہدے سے کھیل کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں، جن کا تذکرہ بچوں کی تربیت کے حوالے سے مفید و معاون ثابت ہوسکتا ہے اور وہ اس طرح ہیں۔

1-  کھیل کے ذریعے بچے اپنی فاضل توانائی خارج کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو فاضل توانائی بچوں کے جسم کو متاثر کرسکتی ہے۔

2-  کھیلوں کے ذریعے بچے اپنے آپ کو مستقبل کی ذمہ داریوں کے لئے تیار کرتے ہیں۔ بچیاں گڑیوں سے کھیل کر امور خانہ داری سے واقفیت حاصل کرتی ہیں اور بچے مختلف کھیلوں کے ذریعے فرائض کی انجام دہی کا سلیقہ سیکھتے ہیں۔

3-  وہ اپنی الجھنوں اور پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کے لئے کھیل کود سے اپنی طبیعت کا بار ہلکا کرتے ہیں۔

4-  اس طرح وہ اپنے جذبات، رشک، رقابت اور مقابلے و مسابقت کی تسکین کرتے ہیں۔

5-  کھیل، ان کی تخلیقی سرگرمیوں کے مظہر ہیں۔

6-  بالیدگی اور نشو و نما کے مختلف مراحل پر جسم اور ذہن مختلف قسم کی جسمانی مشقت کا تقاضا کرتے ہیں اور کھیل ان تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔

علماء و مفکرین اسلام نے بھی بچوں کے لئے کھیل کود کو اہم بتایا ہے۔

امام غزالی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’دن میں کسی وقت بچے کو ورزش کرنے اور چلنے کی عادت ڈالی جائے، تاکہ اس پر سستی کا غلبہ نہ ہو‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’سبق پڑھنے کے بعد بچے کے لئے فکری راحت اور قلبی تفریح کا مناسب بندوبست کیا جائے ،تاکہ بچہ شوق سے پڑھے اور پڑھائی سے متنفر نہ ہو جائے۔ سبق سے فارغ ہونے کے بعد اسے ایسے کھیل کھیلنے کی اجازت دی جائے کہ جس سے وہ دماغی تھکاوٹ دور کر سکے، دل و دماغ کو راحت پہنچا سکے، مگر کھیل ایسا نہ ہو جو اس کو مزید تھکاوٹ میں مبتلا کردے۔ اگر اس قدر کھیل کی اجازت نہ ہو اور تعلیم میں ہمیشہ سخت گیری کی جائے تو بچے کا دل اُکتا جاتا ہے ۔

تعمیر شخصیت میں کھیل کا کردار

مشہور مقولہ ہے ’’جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوں گے تو ان کے اسپتال ویران ہوں گے، اور جس ملک کے کھیل کے میدان ویران ہوں گے، اس ملک کے اسپتال آباد ہوں گے‘‘۔ اس لئے انسانی زندگی میں کھیل اور تفریح کی بہت اہمیت و افادیت ہے۔

جسمانی فائدے

٭آج کے اضطرابی دور میں بچوں کی تعلیم، کسب معاش اور دیگر اہم مسائل ہمہ وقت انسان کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ سارے دن کی محنت و مشقت کے بعد انسان تھک جاتا ہے اور طبیعت میں چڑچڑا پن پیداہو جاتا ہے۔ ان حالات میں ورزش اور تفریح انسان کی سستی کو دور کر کے پھر تازہ دم کر دیتی ہے۔ دراصل انسان ورزش میں فطری طور پر دلچسپی رکھتا ہے، جیسے دوڑنا، کودنا، چھلانک لگانا، کرکٹ، فٹ بال وغیرہ۔ اس قسم کے کھیلوں سے ورزش خود بخودہو جاتی ہے۔ اس لئے کہ اس میں ہاتھ، پیر، نظر کا استعمال، آوازوں کا نکلنا، یہ سب ورزش کے ذریعے ہیں۔

٭اسی طرح کھیلنے سے دل کی حرکت تیز ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے خون تیزی سے جسم کے ہر حصے میں گردش کرتا ہے، بند مسامات کھل جاتے ہیں، پھیپھڑوں کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور صاف اور تازہ ہوا جسم میں داخل ہوکر تازہ خون پیدا کرتی ہے۔ اعضاء طاقت ور اور پٹھے مضبوط ہو جاتے ہیں، بچہ چست اور پھرتیلا رہتا ہے۔ کوئی بیماری جلد اثرانداز نہیں ہوتی۔

اخلاقی فائدے

٭بچوں میںحُسن اخلاق و اتحاد کے ساتھ ساتھ مل جل کر کام کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے بچوں کےساتھ مل کرکھیلنے سے، اجتماعی زندگی گزارنے کی قدرت پیدا ہوتی ہے۔ نظم و ضبط کی پابندی اور منظم زندگی بسر کرنے کے جذبات کو ترغیب ملتی ہے۔ متفقہ کوششوں سے منزل مقصود پر پہنچنے کی بہتر تربیت اورتعلیم کھیلوں سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

نفسیاتی فائدے

٭ کھیل بچوں کو اجتماعیت کا درس دیتا ہے۔ ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ مل جل کر کھیلنے سے دوسروں کی رائے قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ دوسروں کی رائے کو اپنی رائے پر ترجیح دینے کا مادّہ پیدا ہوتا ہے، انانیت و خود پسندی سے نجات پانے میں معاون ہوتا ہے اور دوستانہ ماحول میں کھیلنے سے کینہ و کدورت بھی ختم ہوتی ہے اور تعلقات خوش گوار ہو جاتے ہیں۔

چنانچہ کھیلوں سے جہاں جسمانی توانائی پیدا ہوتی اور ذہنی نشو و نما ہوتی ہے، وہاں فرماں برداری، فرض شناسی، تدبیر، حسن انتظام، صبر، قناعت، تحمل مزاجی اورمد مخالف کو شکست دینے کے جذبات اور اخلاقی محاسن پیدا ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اپنے مخالف کی طاقت سے مرعوب نہ ہونا، ناکامی اور مایوسی کے باوجود ہمت نہ ہارنا بلکہ ڈٹ کرمقابلہ کرنا، مشکلات میں ثابت قدم رہنا، کسی حالت میں ہراساں نہ ہونا بلکہ ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا، یہ سب اوصاف محض کھیلوں سے پیدا ہوتے ہیں۔

لہٰذا بچے کی زندگی اور صحت کے لئے ورزش اور کھیل کی اہمیت واضح ہے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے بااثر افراد پر لازم ہے کہ وہ بچوں کے لئے ایسی فضا ہموار کریں ،تاکہ وہ ورزش اور کھیل کے ذریعے اپنی قدرتی، ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو اُجاگر کرسکیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں