آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یورپین الیکشن اور ہائوس آف کامنز

تحریر:روبینہ خان…مانچسٹر
23مئی کو یورپین الیکشن ہورہے ہیں جو26مئی تک جاری رہیں گے۔ یوکے میں23مئی بروز جمعرات کو ہوگی اور اتوار تک الیکشن نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔ یورپ بھر میں چار روز تک جاری رہنے والے الیکشن میں751نشستوں سےMEPS کا انتخاب ہوگا جوکہ28اقوام کی نمائندگی کریں گے۔ یورپی پارلیمنٹ میں سیٹوں کی تقسیم متناسب طریق سے کی جاتی ہے۔ یوکے، کے پاس73نشستیں ہیں۔ پچھلے سال یورپین پارلیمنٹ نے ٹوٹل نشستوں کو کم کرنے کی سفارش کی تھی، جس کی وجہ یوکے کی یورپی پارلیمنٹ سے اخراج کا امکان تھا۔ تاہم یوکے تاحال یورپی پارلیمنٹ کا حصہ ہے۔ لہٰذا انٹر نیشنل لاء کے مطابق یوکے یورپین پارلیمنٹ کے الیکشن میں حصہ لینے کا پابند ہے۔ اگر برطانیہ الیکشن میں حصہ لنے سے انکار کرتا ہے تو اس کو جون کی پہلی تاریخ کو ’’بغیر کسی ڈیل‘‘ کے یورپین یونین سے اخراج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا موجودہ گورنمنٹ کے پاس یورپین الیکشن میں حصہ لینے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ 23مئی کو ہونے والے الیکشن کے نتیجے میںMEPsکو جولائی کے شروع میں یورپی پارلیمنٹ کو جوائن کرنا ہوگا۔ بالفرض محال اگر جولائی سے پہلے برطانیہ یورپی یونین سے نکل جاتا ہے توMEPsپارلیمنٹ میں شامل نہیں ہوسکیں گے اور یہ مسئلہ یورپین پارلیمنٹ کے لیے سنگین ہوجائے گا کہ ان کو

خالی نشستیں دوسرے ممالک کو Allocateکرتی ہوں گی۔ یہ الگ بحث ہے کہ ان خالی نشستوں سے کن دوسرے ممالک کو فائدہ ہوگا۔ تاہم اس غیر یقینی صورتحال کے باوجود اگر الیکشن سے ایک دن پہلے بھی برطانویMPs، بریگزٹ ڈیل پر رضامند ہوجاتے ہیں تو یوکے، کے عوام23مئی کو ووٹ کاسٹ پیش کریں گے جس کا چانس بہت ہی کم ہے۔ گزشتہ مہینوں میں حکومتی پارٹی اور حسب اختلاف کا ریکارڈ اس بات پر دلالت کرتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یورپین الیکشن میں ووٹرز کا ٹرن آئوٹ کم سطح پر رہتا ہے لیکن شاید اس مرتہ برطانیہ کے پارلیمنٹریز کی حالیہ کارکردگی ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز پر کھینچ لائے۔ یہاں یہ بات کرنا غلط نہ ہوگا کہ ’’دارالعلوم‘‘ میںMPsبھی جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔ بریگزٹ ڈیڈ لاک کی وجہ سے ہائوس آف کامنز میں10، اپریل سے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ MPsاپنے کام کے مقررہ اوقات سے پہلے گھر جارہے ہیں۔ بریگزٹ نے دیگر قوانین سازی کی بحث کو التوا میں ڈال رکھا ہے۔ برطانیہ کے عوام اور دارالعلوم کے لیے یہ کچھ اچھا شگون نہیں ہے۔

یورپ سے سے مزید