آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر20؍ شوال المکرم 1440 ھ 24؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ وطن عزیز میں مہنگائی عوام کے لیے عذاب بن گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے غریبوں کے مسائل حل کرنے کی تاکید کے باوجود مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور عوام کی قوتِ خرید دم توڑ چکی ہے۔ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے حسب معمول اس سال بھی سستے بازار قائم کئے گئے لیکن یہ بھی مہنگائی کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ رمضان بازاروں میں مہنگائی اور غیر معیاری اشیائے خور و نوش کی فراہمی کے بارے میں درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے یہ ریمارکس صورت حال کی بالکل درست عکاسی کر رہے ہیں کہ کیا فوڈ اتھارٹی سو رہی ہے۔ فی الحقیقت رمضان بازاروں کی حالت ہر سال ایسی ہی ہوتی ہے۔ ان میں چینی اور آٹے جیسی بنیادی اشیائے ضرورت تک کی ہمیشہ قلت ہی رہتی ہے۔ پنجاب کابینہ کیا انہی رمضان بازاروں کو عید بازاروں میں تبدیل کرنے کی خواہاں ہے؟ عید بازاروں کا حال انہی رمضان بازاروں جیسا ہوا تو یہ شہریوں سے سنگدلانہ مذاق کے مترادف ہوگا۔ تاہم کچھ عرصہ سے پنجاب حکومت اور خاص طور پر پنجاب کابینہ خاصی فعال دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کی فعالیت ہی کسی صوبے یا ملک کی ترقی و خوشحالی کے امکانات روشن کرتی ہے۔ یہ امر انتہائی اطمینان بخش ہے کہ موجودہ کابینہ کے منظور کردہ ترقیاتی منصوبے

پورے پنجاب کا احاطہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں تک چینی پر سبسڈی کے خاتمے کی بات ہے تو یہ ایک الگ حل طلب معاملہ ہے جس پر قومی سطح پر پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر جب تک اشیائے صرف ملکی ضرورت سے زائد نہ ہوں انہیں برآمد نہیں کیا جانا چاہئے تاکہ ملک کے اندر ان کی قلت نہ ہونے پائے۔ تجارتی توازن بہتر کرنے کے لیے ایسی بہت سی اشیائے تعیش اور غیر ضروری ساز و سامان کی درآمد پر پابندی لگائی جا سکتی ہے جن کے بغیر آسانی سے گزارہ ممکن ہے۔ حکومت پنجاب ہی نہیں دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت سب کو باہمی مشاورت سے اس ضمن میں جلد پالیسی سازی کرنا چاہئے تاکہ لوگ کچھ تو سکھ کا سانس لے سکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں