آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کچھ دن لندن میں قیام کے دوران اپنے ملک اور ارد گرد کے حالات کو وسیع تر تناظر میں سمجھنے کا موقع ملا۔ تقریباً دو ہفتے کے بعد واپس آیا تو اپنے ملک کے داخلی حالات پہلے سے ابتر پائے، جو اس حوالے سے زیادہ تشویشناک ہیں کہ خطے میں اس دوران بڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر بھارت کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر چکی ہے اور آئندہ پانچ سال کی ایک اور مدت کے لئے نریندر مودی پہلے سے زیادہ مضبوط وزیراعظم ہوں گے۔ امریکہ ایران کشیدگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کے بگڑتے معاشی، سیاسی اور سماجی حالات پر خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں کیا اثرات مرتب کریں گی؟ اس سوال پر ان حلقوں کو ضرور غور کرنا چاہئے جو پاکستان کے لئے کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔پاکستان کے داخلی حالات یہ ہیں کہ ملکی معیشت حکومتِ وقت کے قابو میں نہیں۔ یا یہ کہنا حقیقت پر مبنی ہو گا کہ معیشت تحریک انصاف کی حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر کو ہٹانے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے وفاقی سیکرٹری خزانہ یونس ڈھاگا کو بھی ہٹا دیا ہے۔ یونس ڈھاگا کو تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی ٹیم کے ایک اہم اور بااعتماد رکن کی حیثیت سے اس عہدے پر تعینات

کیا گیا تھا۔ معاشی ٹیم کے ایک اور اہم رکن چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ ہارون شریف نے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا ہے کہ ملک پر آئی ایم ایف کی ٹیم مسلط ہو گئی ہے۔ اس ٹیم کی ترجیحات دوسری ہیں۔ اس ٹیم کے ساتھ کام کرکے وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ یونس ڈھاگا کو او ایس ڈی بنانے اور ہارون شریف کے استعفیٰ سے تحریک انصاف حکومت کی لائی گئی معاشی ٹیم کا صفایا ہو گیا ہے اور ہارون شریف نے تو بین السطور کہہ بھی دیا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم آگئی ہے۔ اب حکومت صرف اس نئی معاشی ٹیم کی تجاویز یا مشوروں پر عملدرآمد کرتی ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر اور اسٹاک ایکسچینج میں مندی کو روکنے کے لئے صرف مصنوعی اقدمات میں الجھے رہنا ہے۔ اس معاشی صورت حال میں ملک کے اندر سماجی اور سیاسی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے خوف اور بے یقینی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ جس احتساب کے نعرے پر تحریک انصاف حکومت میں آئی تھی، وہ احتساب بھی ایک سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کے خلاف ایک مستقل مہم شروع ہو گئی ہے۔ حکومت یہ الزام لگا رہی ہے کہ اپوزیشن احتساب سے بچنے کے لئےیہ مہم چلا رہی ہے جبکہ اپوزیشن یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ چیئرمین نیب حکومتی شخصیات کی فائلیں کھول رہے تھے، اس لئے انہیں متنازع بنانے کے لئےحکومت نے ویڈیو لیک کا ڈرامہ رچایا ہے۔ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں چیئرمین نیب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میری دانست میں چیئرمین نیب اپنی دیانت داری، اہلیت اور اصول پسندی کی وجہ سے کسی کے قابو میں نہیں آرہے۔ ملک سیاسی اور داخلی عدم استحکام کی جانب گامزن ہے۔دوسری طرف بھارتی انتخابات کے نتائج سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آئندہ پانچ سال کے لئے نریندر مودی کی حکومت مضبوط اور مستحکم ہو گی۔ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اپنی بہت بھاری شکست سے سنبھلنے میں وقت درکار ہو گا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیکولر اور ترقی پسند قوتوں کو شکست ہوئی ہے۔ بھارت کا سیکولر چہرہ مسخ ہو گیا ہے، ہندو قوم پرستی نے بھارتی سماج کو یرغمال بنا لیا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں تنوع (Diversity )کا خاتمہ ہو گیا ہے، جو بھارتی سماج کا حسن تھا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیں زیادہ غیر محفوظ ہو گئی ہیں اور یہ کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پر اور زیادہ برا وقت آ گیا ہے۔ ان سب حقائق کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت نے بی جے پی کو بھاری مینڈیٹ دے کر بی جے پی کی مضبوط اور مستحکم سیاسی حکومت کی راہ ہموار کر دی ہے جبکہ پاکستان سیاسی عدم استحکام کے راستے پر گامزن ہے۔ ان حالات میں مودی ہندو جنونیت کو زندہ رکھنے کے لئے پاکستان کو مشرقی سرحدوں پر مزید الجھائے رکھے گا۔ دوسری طرف امریکہ ایران کشیدگی میں اضافے کی صورت میں ہم اگرچہ غیر جانبدار بھی رہیں (جو ممکن نہیں) تو بھی ہم اپنی مغربی سرحدوں پر زیادہ الجھ جائیں گے۔ کالم کی طوالت سے بچنے کے لئے تفصیل میں جانا ممکن نہیں۔ مختصراً یہ کہ بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام میں پاکستان مزید سیکورٹی ایشوز میں الجھ سکتا ہے۔ سعودی عرب کی نوازشوں اور چین کی دوستی کے لئے بھی ہمیں بہت کچھ کرنا ہو گا۔ حالات کو سدھارنے کا شاید اس لئے بھی موقع نہیں مل سکے گا کہ سیاسی قوتوں کا معاملات میں عمل دخل نہیں رہا لیکن ان حالات میں بہرحال سیاسی قوتوں پر موثر کردار ادا کرنے کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ عائد ہوتی ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید